سورة الحجرات - آیت 0

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

(شروع) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ف 2

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

سورۃ الحجرات کا تعارف الحجرات مدینہ میں نازل ہوئی ہے اس کا نام اس کی آیت ٤ میں مذکور ہے یہ سورت ٢ رکوع اور ١٨ آیات پر مشتمل ہے۔ اس سورت کا پس منظر یہ ہے کہ نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوپہر کے وقت اپنے گھر میں آرام فرما تھے کہ اس وقت بنی تمیم کا ایک وفد آپ کی ملاقات کے لیے حاضر ہوا۔ وفد نے انتظار کیے بغیر آپ کے گھر کے سامنے کھڑے ہو کر آواز پر آواز دینا شروع کی ” اخرج علینا یا محمد“ اے محمد باہر آؤ، باہر آؤ۔ اس پر یہ سورت مبارکہ نازل ہوئی جس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس طرح آواز دینے سے منع کیا گیا اور حکم ہوا کہ جو لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس طرح آواز دیں گے ان کے اعمال ضائع کر دئیے جائیں گے اور انہیں خبر بھی نہیں ہوگی ان کے مقابلے میں ان لوگوں کی تعریف کی گئی ہے جو نبی محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آہستہ اور ادب کے ساتھ بلاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی غلطیاں معاف کرنے کے ساتھ انہیں اجر عظیم سے سرفراز فرمائے گا اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ان کی اخلاق اور اعمال کو جانچ لیا ہے بلکہ ان کے دلوں کو بھی تقوی کے ساتھ پرکھ لیا ہے اس کے بعد اس صورت میں مسلمانوں کو آداب سکھلائیں ہیں۔ ١۔ اے مسلمانوں اللہ اور اس کے رسول سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرنا۔ ٢۔ اے مسلمانوں اگر تمہارے پاس کوئی فاسق آدمی کوئی خبر لے کر آئے تو اس پر یقین کرنے سے پہلے اس کی تحقیق کرلیا کرو ایسا نہ ہو کہ تم سے غلطی ہوجائے جس پر تمہیں پریشان ہونا پڑئے۔ ٣۔ مسلمانوں کے درمیان اختلاف رونما ہوجائے تو دوسرے مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ اصلاح کروانے کی کوشش کریں کیونکہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ ان کے درمیان ہر صورت صلح رہنی چاہیے۔ ٤۔ اے مسلمانوں کوئی قوم دوسری قوم کو اور عورتیں دوسری عورتوں کو مذاق نہ کریں۔ ہوسکتا ہے کہ وہ مذاق کرنے والوں سے بہتر ہوں۔ ٥۔ اے مسلمانوں ایک دوسرے کے برے القاب نہ رکھو۔ ایمان لانے کے بعد برے القاب رکھنا نافرمانی کا کام ہے جو اس سے تائب نہیں ہوں گے وہ ظالموں میں شمار ہوں گے۔ ٦۔ اے مسلمانوں ایک دوسرے کے بارے میں بدظنی سے بچو۔ بدظنی رکھنا گناہ ہے۔ اور نہ ہی ایک دوسرے کا تجسس اور غیبت کیا کروغیبت کرنا مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے برابر ہے۔ ٧۔ اے مسلمانوں تم ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے قبائل اور خاندان بنائے ہیں تاکہ تم ایک دوسرے کا تعارف حاصل کرو۔ لیکن یاد رکھو اللہ کے ہاں وہ بہتر ہے جو اس سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔ ٨۔ حقیقی مومن وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لا کر شک نہیں کرتے اور وہ اپنے مال و جان کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں۔ ٩۔ کچھ لوگ اسلام لا کر آپ پر احسان جتلاتے ہیں انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تم پر ایمان لانے میں تمہاری مدد فرمائی ہے۔