سورة الفتح - آیت 24

وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُم بِبَطْنِ مَكَّةَ مِن بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ ۚ وَكَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور وہی ہے جس نے سرحد مکہ میں تمہیں کافروں پر فتح دینے کے بعد ان کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روک لیا ۔ اور وہ تمہارے کام دیکھتا (ف 1) ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : فتح مکہ اور صلح حدیبیہ کے حالات پر تبصرہ جاری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صلح حدیبیہ کے مقام پر جو حرم مکہ کے کنارے پر واقع ہے نہ صرف اہل مکہ کے ہاتھوں کو روکے رکھا بلکہ مسلمانوں کے ہاتھوں کو بھی کفار کی طرف بڑھنے سے روک لیا۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ یہ وہی کافر ہیں جنہوں نے تمہیں مسجد حرام تک پہنچنے سے روک دیا اور جو قربانیاں تم اپنے ساتھ لائے تھے انہیں بھی حرم میں نہ جانے دیا۔ بے شک یہ دونوں جرائم اپنی جگہ پر بہت بڑے تھے لیکن اگر اہل مکہ کے ساتھ تمہاری مڈ بھیڑ ہوجاتی تو وہاں ایسے مومن اور مومنات بھی موجود تھیں جنہیں تم نہیں جانتے تھے۔ لڑائی ہونے کی صورت میں اگر تم انہیں زخمی یا شہید کردیتے تو اس میں نہ صرف تمہیں نقصان پہنچتا بلکہ تمہاری عزت پر بھی حرف آتا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے تمہیں اس نقصان سے بچا لیا وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت کے دامن میں لے لیتا ہے۔ اگر کفار مسلمانوں سے الگ ہوتے تو ہم انہیں حرم سے روکنے کی وجہ سے تمہارے ہاتھوں سے شدید عذاب دیتے۔ اس آیت میں مرکزی طور پر دو مسائل بیان کیے گئے ہیں۔ 1۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مکہ والوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو حرم میں داخل ہونے سے روک کر نہ صرف اللہ کے قانوں کی خلاف ورزی کی بلکہ وہ بیت اللہ کی توہین کے مرتکب بھی ہوئے۔ کیونکہ بیت اللہ پر کسی قوم کی اجارہ داری نہیں۔ یہ اللہ کا گھر ہے جس سے کسی مسلمان کو روکا نہیں جاسکتااِلاَّ یہ کہ کوئی حرم کی توہین کرنے والا ہو یا اس سے تخریب کاری کا خطرہ ہو۔ اہل مکہ نے نہ صرف نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) کو حرم میں داخل ہونے سے روکا بلکہ قربانی کے جانوروں کو بھی حرم تک نہ جانے دیا۔ یاد رہے قربانی کے جانوروں سے مراد عید الاضحی کے موقع پر ذبح کیے جانے والے جانور نہیں بلکہ عرب کے لوگ عمرہ کے وقت بھی اپنے ساتھ جانور لایا کرتے تھے تاکہ انہیں حرم کے زائرین اور اس کے مکینوں کے لیے ذبح کیا جائے۔ (اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِیْ جَعَلْنٰہُ للنَّاسِ سَوَآءَ نِ الْعَاکِفُ فِیْہِ وَ الْبَادِ وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْہِ بِاِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُّذِقْہُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ) (الحج : ٢٥) ” جن لوگوں نے کفر کیا اور جو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور مسجد حرام کی طرف آنے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ جسے ہم نے سب لوگوں کے لیے بنایا ہے جس میں مقامی اور باہر سے آنے والوں کے حقوق برابرہیں۔ مسجد حرام میں جو بھی گمراہی اور ظلم کا راستہ اختیار کرے گا اسے ہم دردناک عذاب دیں گے۔“ 2۔ ان آیات میں دوسری بات یہ ارشاد فرمائی ہے کہ اگر مکہ میں تمہاری اور کفار کی جنگ ہوجاتی تو اس سے ان مسلمان مردوں اور خواتین کو بھی نقصان پہنچتا جن کو تم نہیں جانتے تھے۔ ظاہر ہے کہ لاعلمی کی وجہ سے وہ بھی مارے جاتے جس میں مسلمانوں کا افرادی نقصان بھی ہوتا اور کفار پراپیگنڈہ کرتے کہ مسلمان انتقام لینے پر آئیں تو اپنوں کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔ اس سے مسلمانوں کی نیک نامی میں فرق آتا۔ اس فرمان میں ایک اصول یہ واضح ہوا کہ مسلمانوں کو ہر ممکن ایسی لڑائی سے بچنا چاہیے جس میں وہاں کے رہنے والے مسلمانوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ پایا جائے۔ ان وجوہات کی وجہ سے فرمایا کہ اگر کفار مکہ میں رہنے والے مسلمانوں سے الگ تھلگ ہوتے تو حرم سے روکنے کی وجہ سے انہیں سخت سزا دی جاتی۔ ” رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرم قرار دیا ہے اس کو لوگوں نے حرام قرار نہیں دیا۔ کسی بھی شخص کے لیے یہ جائز نہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس میں کسی کا خون بہائے اور نہ ہی اس کا درخت کاٹا جائے۔ اگر کوئی شخص یہ بات کہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ میں قتال کیا تو تم کہو کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو کچھ دیر کے لیے اجازت دی تھی۔ تم میں سے کسی کو بھی یہ اجازت نہیں اور مجھے بھی چند گھڑیوں کے لیے اجازت دی گئی اس کی حرمت پہلے کی طرح ہی لوٹ آئی ہے جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ دوسرے لوگوں تک یہ بات پہنچا دیں۔“ (رواہ البخاری : کتاب العلم، باب یبلغ العلم الشاہد الغائب) مسائل ١۔ مسلمانوں کو مسجد حرام سے روکنا بڑے گناہ کا کام ہے۔ ٢۔ جنگ کے دوران وہاں کے مسلمانوں کا خیال رکھنا لازم ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنی رحمت میں شامل فرماتا ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ نے کفار کے لیے اذّیت ناک عذاب تیار کیا ہے۔ ٥۔ حدیبیہ کا موجودہ نام شمیسی ہے جو موجودہ مکہ کے ساتھ مل چکا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنی رحمت کے دامن میں لے لیتا ہے : ١۔ اللہ تعالیٰ انبیاء کو اپنی رحمت کے ساتھ مخصوص کرتا ہے۔ (الانبیاء : ٨٦) ٢۔ ” اللہ“ نیک لوگوں کو اپنی رحمت سے ہمکنار کرتا ہے۔ (الانبیاء : ٧٥) ٣۔ ایمان میں پختہ رہنے والے کو اللہ اپنی رحمت سے نوازتا ہے۔ (النساء : ١٧٥) ٤۔ ” اللہ“ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت سے نوازتا ہے۔ (الشورٰی : ٨) ٥۔ ” اللہ“ کی رحمت ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ( الاعراف : ١٥٦) ٦۔ ” اللہ“ کی رحمت نیکی کرنے والوں کے قریب ہوتی ہے۔ (الاعراف : ٥٦) ٧۔ ” اللہ“ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا۔ (التوبہ : ٩٩)