سورة الفتح - آیت 11

سَيَقُولُ لَكَ الْمُخَلَّفُونَ مِنَ الْأَعْرَابِ شَغَلَتْنَا أَمْوَالُنَا وَأَهْلُونَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا ۚ يَقُولُونَ بِأَلْسِنَتِهِم مَّا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ ۚ قُلْ فَمَن يَمْلِكُ لَكُم مِّنَ اللَّهِ شَيْئًا إِنْ أَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا أَوْ أَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا ۚ بَلْ كَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

جو گنوار جہاد سے پیچھے رہ گئے تھے ۔ عنقریب تجھ سے یوں کہیں گے کہ ہمارے مالوں اور گھر والوں نے کام میں لگا رکھا ۔ سو تو اللہ سے ہمارا گناہ بخشو (تویہ) اپنی زبان سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں تکلیف دینے کا ارادہ کرے یا تمہیں نفع پہنچانا چاہے ۔ تو خدا کے مقابلہ میں کون ایسا ہے جو تمہارے لئے کسی شئے پر اختیار رکھتا ہو ۔ بلکہ اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : بیعت رضوان سے پہلے منافقین کی سوچ اور کردار۔ کئی مفسرین نے یہ بات تحریر کی ہے کہ نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمرہ کی غرض سے جانے سے پہلے مکہ کے گرد و نواح کے قبائل کو پیغام بھیجا کہ ہم فلاں دن عمرہ کی غرض سے مکہ کا سفر کرنے والے ہیں۔ آپ لوگوں کو بھی ہمارا ہمسفر ہونا چاہیے۔ اس اطلاع عام کا مقصد یہ تھا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سفر میں شرکت کرسکیں تاکہ مکہ والے کسی منفی رد عمل کا اظہار نہ کرپائیں۔ لیکن اکثر قبائل نے یہ سوچ کر شرکت نہ کی کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمان جس سفر پر جا رہے ہیں اس سے کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ جن قبائل نے اس سفر میں شمولیت سے انکار کیا وہ اپنے دل میں بہت خوش تھے کہ ہم نے اپنے آپ کو ہلاکت سے بچا لیا ہے۔ حالانکہ حقیقت میں ان کی بزدلی اور منافقت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں اس عظیم سعادت سے محروم رکھا ہے ان کے لیے ” مُخَلَّفِیْنَ“ کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کا معنٰی ہے پیچھے چھوڑ دیئے جانے والے۔ یہ لوگ اپنے دلوں میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کے بارے میں کئی قسم کے نقصانات کی توقع رکھتے تھے اس سوچ کا سبب یہ تھا کہ یہ لوگ بنیادی طور پر برے اور ہلاکت میں مبتلا ہونے والے تھے۔ ان کی بری سوچ کی بنیاد یہ تھی کہ اہل مکہ اس قدر طاقتور ہیں کہ انہوں نے بدر کا معرکہ مکہ سے تقریباً ساڑھے تین سو کلو میٹر کا سفر کرکے مدینہ کے قریب آکر لڑا۔ اُحد میں انہوں نے مدینہ پہنچ کر جنگ کی اور مسلمانوں کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچایا۔ غزوہ خندق کے موقع پر مکہ والوں نے مسلمانوں کو مدینہ میں محصور کردیا اور مسلمانوں نے خندق کھود کر اپنی جانیں پجائیں۔ اس صورت حال کے پیش نظر منافقین اور کمزور ایمان والے دیہادتیوں کا خیال تھا کہ مسلمان خالی ہاتھ مکہ کے شیروں کے منہ میں ہاتھ ڈالنے جارہے ہیں۔ لہٰذا یہ اپنے اہل وعیال میں کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ اس لیے دیہات کے منافقین اور کمزور ایمان والے لوگوں نے یہ کہہ کر معذرت کی کہ ہم اپنے مال مویشی اور اہل وعیال کے غیر محفوظ ہونے کی وجہ سے اس سفر میں شرکت نہیں کرسکتے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے درخواست ہے کہ ہماری عدم شرکت پر اللہ سے دعا کریں کہ ہماری اس کمزوری کو اللہ تعالیٰ معاف فرمادے۔ ان کے بہانوں اور منافقت کے بارے میں آپ (علیہ السلام) کو ان الفاظ میں آگاہ کیا گیا کہ یہ لوگ اپنی زبان سے آپ کے سامنے معذرت اور استغفار کی درخواست کرتے ہیں حالانکہ ان کے دلوں میں سفر میں عدم شرکت کے گناہ کا کوئی احساس نہیں ان کی معذرت اور استغفار کی درخواست جھوٹ کے سوا کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ جہاں تک ان کے اس بہانے کا تعلق ہے کہ ہمارے مال اور اہل وعیال غیر محفوظ ہیں۔ ان کو بتلائیں کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں نقصان پہنچانا چاہے تو کون ہے جو تمہارے مویشیوں کو موت کے منہ سے بچا سکے گا؟ اگر تمہارے اہل و عیال پر کوئی مصیبت نازل کرے تو پھر کون انہیں اس مصیبت سے محفوظ رکھ سکتا ہے ؟ اگر وہ تمہاری کھیتیوں اور باغات پر کوئی آفت نازل کر دے تو ان کو ویران ہونے سے کون بچاۓ گا؟ یارکھو! اگر اللہ تعالیٰ تمہیں نفع پہنچانا چاہے تو کوئی تمہیں نقصان نہیں دے سکتا۔ یہ بات بتلانے کے بعد کہ نفع ونقصان صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ یہ بھی بتلا دیا گیا کہ اگر تم اس سفر میں شریک ہوتے تو یقیناً دنیا و آخرت میں نفع پاتے۔ لیکن تم اپنی منافقت اور بزدلی کی وجہ سے عظیم ثواب اور مستقبل کے فائدے سے محروم ہوچکے ہو۔ ہمیشہ یاد رکھو کہ تم جو عمل کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح واقف ہوتا ہے۔ جو لوگ سچے دل کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتے وہ کافر ہیں اور کفار کے لیے اللہ تعالیٰ نے جلادینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زمینوں اور آسمانوں کی بادشاہت ” اللہ“ کے ہاتھ میں ہے۔ جسے چاہے معاف فرمائے اور جسے چاہے سزا سے دوچار کرے۔ حقیقت یہ ہے اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے۔ یہ فرما کر منافقین کو ایک دفعہ پھر موقع دیا گیا کہ اگر تم سچے دل کے ساتھ تائب ہوجاؤ اور اخلاص کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تو اللہ تعالیٰ تمہیں معاف فرمادئے گا کیونکہ وہ معاف کرنے والا نہایت ہی مہربان ہے۔ اگر تم ایسا نہیں کرتے تو تمہیں اذّیت ناک عذاب کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ( یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَہُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ فَزادَہُمُ اللّٰہُ مَرَضًا وَ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ بِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْن) (البقرۃ: ٩، ١٠) ” وہ اللہ تعالیٰ اور ایمان والوں کو دھوکہ دیتے ہیں مگر حقیقت میں وہ اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں اور وہ شعور نہیں رکھتے۔ ان کے دلوں میں بیماری ہے اللہ نے انہیں بیماری میں زیادہ کردیا ہے اور انہیں دردناک عذاب ہوگا کیونکہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔“ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ أُوقِدَ عَلَی النَّارِ أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی احْمَرَّتْ ثُمَّ أُوقِدَ عَلَیْہَا أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی ابْیَضَّتْ ثُمَّ أُوقِدَ عَلَیْہَا أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی اسْوَدَّتْ فَہِیَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَۃٌ) ( رواہ الترمذی : کتاب صفۃ جہنم، قال البانی ضعیف) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک ہزار سال تک دوزخ کی آگ کو بھڑکا یا گیا یہاں تک کہ وہ سرخ ہوگئی پھر اس کو ایک ہزار سال تک جلایا گیا تو وہ سفید ہوگئی پھر اس کو ایک ہزار سال جلایا گیا یہاں تک کہ وہ سیاہ ہوگئی اب اس کا رنگ سیاہ ہے۔“ مسائل ١۔ اسلام اور مسلمانوں پر مشکل کے وقت آئے تو منافق جھوٹے بہانوں کے ذریعے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ٢۔ منافق دنیاوی نفع و نقصان کی بنیاد پر اسلام اور مسلمانوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ ٣۔ منافق ہمیشہ اسلام اور دین کی حمایت میں نقصان اٹھانے سے ڈرتے ہیں۔ ٤۔ منافق ہمیشہ اسلام اور مسلمانوں کے نقصان پر خوش ہوتے ہیں۔ ٥۔ منافق حقیقت میں ہلاکت میں پڑنے والے لوگ ہیں۔ ٦۔ اللہ اور اس کے رسول پر اخلاص کے ساتھ ایمان نہ لانے والے لوگ حقیقت میں کافر ہوتے ہیں اور کفار کے لیے اللہ تعالیٰ نے جلا دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ ٧۔ زمینوں اور آسمانوں کی بادشاہی اللہ کے ہاتھ میں ہے جسے چاہے معاف فرمادے اور جسے چاہے عذاب دے۔ ٨۔ اللہ تعالیٰ سچی توبہ کرنے والے کو معاف کردیتا ہے کیونکہ وہ غفور رحیم ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہی نفع اور نقصان کا مالک ہے : ١۔ کیا تم اللہ کے سوا دوسروں کو خیر خواہ سمجھتے ہو۔ جو اپنے بھی نفع ونقصان کے مالک نہیں ہیں۔ (الرعد : ١٦) ٢۔ میں انپے نفع ونقصان کا بھی مالک نہیں مگر جو اللہ چاہے؟ (یونس : ٤٩) ٣۔ کیا تم اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو نفع ونقصان کے مالک نہیں ہیں؟ (المائدۃ: ٧٦) ٤۔ اگر اللہ تمہیں نفع ونقصان میں مبتلا کرنا چاہے تو کون ہے جو اس سے بچاسکے۔ (الفتح : ١١) ٥۔ معبودان باطل اپنی جانوں کے نفع ونقصان کے مالک نہیں ہیں۔ (الفرقان : ٣) ٦۔ فرما دیجیے میں اپنے نفع و نقصان کا مالک نہیں مگر جو اللہ چاہے۔ (الاعراف : ١٨٨) ٧۔ (اے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ فرما دیں کہ مجھے تمھارے کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں ہے۔ (الجن : ٢١)