سورة الفتح - آیت 8

إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

بے شک ہم نے تجھے گواہی دینے والا اور خوشی اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : کفار، مشرکین اور منافقین کی مخالفت کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو غالب فرمایا۔ کیونکہ اس نے نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس لیے مبعوث فرمایا تاکہ دین اسلام کو باطل ادیان پر غالب کردے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے نبی! ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق کی گواہی دینے والا بنا کر مبعوث کیا ہے۔ آپ کی بعثت کا مرکزی مقصد یہ ہے کہ آپ ایمان لانے والوں کو خوشخبری سنائیں اور انکار کرنے والوں کو ان کے برے انجام سے ڈرائیں۔ لوگوں کا فرض ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائیں اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعظیم اور معاونت کریں اور اللہ تعالیٰ کو صبح وشام یاد کرتے رہیں۔ قرآن مجید نے کئی مرتبہ بات بتلائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق کی شہادت دینے کے لیے مبعوث فرمایا ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خوشخبری دینے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ شہادت کا معنٰی ہے کہ لوگوں کے سامنے بلاخوف و خطر اللہ کی توحید اور دین حق کو پیش کیا جائے۔ جونہی آپ کے ذمے شہادتِ حق کا فریضہ لگایا گیا ہے۔ آپ نے اس کے لیے دن رات ایک کردیئے نہ کاروبار کی طرف توجہ فرمائی اور نہ ہی رات اور دن کے آرام کا خیال کیا۔ اللہ کے راستے میں کھڑے ہوئے تو تیئس سال تک یہ کھڑے رہے۔ یہاں تک کہ اپنے اور بیگانے مان گئے کہ آپ نے شہادتِ حق کا فرض ادا کردیا ہے۔ نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کا مقصد شہادتِ حق ہے اور لوگوں کافرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی ذات اور بات پر ایمان لائیں۔ یہ ایمان زبانی کلامی نہیں بلکہ عملاً ہونا چاہیے جس کا تقاضا ہے کہ اللہ کے رسول کی معاونت و تعظیم کی جائے۔ آپ کی معاونت کا معنٰی یہ ہے کہ آپ کی دعوت پر عمل کرتے ہوئے اسے لوگوں تک پہنچایا جائے اور اس کے عملی نفاذ کے لیے انفرادی اور اجتماعی طور پر کوشش کی جائے۔ آپ کی تعظیم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ کی ذات اور بات کا دل وجان سے احترام کیا جائے کیونکہ آپ کی تشریف آوری کا مقصد لوگوں کو اللہ کی ذات اور اس کا ارشاد پہچانا تھا۔ اس لیے لوگوں کا فرض ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہوئے صبح وشام اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے رہیں۔ صبح وشام سے مراد ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو یاد رکھنا چاہیے۔ جس طرح نبی آخرالزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ کو یاد رکھنے کا طریقہ بتلایا اور کرکے دکھلایا ہے اس میں پانچ وقت کی نماز اور شہادتِ حق کا ابلاغ بھی شامل ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عالمگیر نبوت : (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ أُعْطِیْتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَھُنَّ نَبِیٌّ قَبْلِیْ وَلَا أَقُوْلُھُنَّ فَخْرًا بُعِثْتُ إِلَی النَّاسِ کَافَّۃً الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَنُصِرْتُ بالرُّعْبِ مَسِیْرَۃَ شَھْرٍ وَأُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَاءِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِیْ وَجُعِلَتْ لِیَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَھُوْرًا وَّأُعْطِیْتُ الشَّفَاعَۃَ فَأَخَّرْتُھَا لِأُمَّتِیْ فَھِیَ لِمَنْ لَّایُشْرِکُ باللّٰہِ شَیْءًا) (مسند احمد : باب بدایۃ مسند عبداللہ بن العباس) ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ میں اس میں فخر نہیں کرتا۔ میں تمام کالے اور گورے لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں، ایک مہینے کی مسافت تک رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے، میرے لیے غنیمت کا مال حلال قرار دیا گیا ہے جب کہ مجھ سے پہلے کسی نبی کے لیے حلال نہیں تھا، میرے لیے زمین مسجد اور طہارت کا ذریعہ بنادی گئی ہے، مجھے شفاعت عطا کی گئی میں نے اسے اپنی امت کے لیے سنبھال رکھا ہے اور وہ ہر اس شخص کی نجات کا ذریعہ بنے گی جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔“ (لَیَبْلُغَنَّ ھٰذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّیْلُ وَالنَّھَارُوَلَایَتْرُکُ اللّٰہُ بَیْتَ مَدَرٍ وَّلَا وَبَرٍإِلَّا أَدْخَلَہُ اللّٰہُ ھٰذَا الدِّیْنَ) (مسند أحمد : باب حدیث تمیم الداری، ھٰذا حدیث صحیح علی شرط الشیخین) ” یہ دین ہر صورت وہاں تک پہنچے گا جہاں رات کی تاریکی اور دن کی روشنی پہنچتی ہے اور اللہ تعالیٰ ہر کچے پکے گھر میں اس دین کو داخل کردے گا۔“ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت اور تعظیم : (لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تَبَعًا لِّمَا جِءْتُ بِہٖ) (مشکٰوۃ : کتاب العلم، قال النووی ہذا حدیث صحیح) ” تم میں سے کوئی مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنی خواہشات کو میرے لائے ہوئے دین کے تابع نہ کر دے۔“ ( عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ قِرَادٍ (رض) أَنَّ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تَوَضَّأَ یَوْمًا فَجَعَلَ أَصْحَابُہٗ یَتَمَسَّحُوْنَ بِوَضُوْءِہٖ فَقَالَ لَھُمُ النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَمَاحَمَلَکُمْ عَلٰی ھٰذَا قَالُوْا حُبُّ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ فَقَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَنْ سَرَّہٗ أَنْ یُّحِبَّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ أَوْ یُحِبُّہُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ فَلْیَصْدُقْ حَدِیْثَہٗ إِذَا حَدَّثَ وَلْیُؤَدِّ أَمَانَتَہٗ إِذَا اءْتُمِنَ وَلْیُحْسِنْ جَوَارَ مَنْ جَاوَرَہٗ) (رواہ البہیقی فی شعب الإیمان) ” حضرت عبدالرحمن بن ابی قراد (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن وضو کیا۔ آپ کے اصحاب آپ کے وضو کے پانی کو اپنے جسموں پر ملنے لگے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے استفسار فرمایا تم ایسا کیوں کررہے ہو؟ انہوں نے عرض کی، اللہ اور اس کے رسول کی محبت کی وجہ سے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص کو یہ بات اچھی لگتی ہو کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرے یا اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کریں تو اسے چاہیے کہ جب بات کرے تو سچ بولے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو امانت کا حق ادا کرے اور اپنے ہمسائیوں سے اچھا برتاؤ کرے۔“ اللہ کا ہر حال میں ذکر کرنا چاہیے : (عَنْ عَاءِشَۃَ (رض) قَالَتْ کَان النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَذْکُرُ اللَّہَ عَلَی کُلِّ أَحْیَانِہِ) (رواہ مسلم : باب ذِکْرِ اللَّہِ تَعَالَی فِی حَالِ الْجَنَابَۃِ وَغَیْرِہَا) ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر حال میں اللہ کا ذکر کرتے تھے۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق کی شہادت دینے والا، بشیر اور نذیر بنا کر مبعوث فرمایا۔ ٢۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری کا مقصد یہ تھا کہ لوگ اللہ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائیں۔ ٣۔ لوگوں کا فرض ہے کہ وہ نبی آخر الزماں کی مدد کریں۔ ٤۔ ایمانداروں کا فرض ہے کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعظیم کرتے رہیں۔ ٥۔ ایمان داروں کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صبح وشام تسبیح کیا کریں۔ تفسیر بالقرآن نبی آخرالزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عالمگیر نبوت اور اس کے تقاضے : ١۔ اے رسول اعلان فرمائیں کہ ” اللہ“ نے مجھے تمام لوگوں کے لیے رسول منتخب فرمایا ہے۔ (الاعراف : ١٥٨) ٢۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوری دنیا کے رسول ہیں۔ (سباء : ٢٨) ٣۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبشر اور نذیر ہیں۔ (الاحزاب : ٤٥) ٤۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوری دنیا کے لیے رحمت عالم ہیں۔ (الانبیاء : ١٠٧) ٥۔ رسول اللہ خاتم النبیین ہیں۔ (الاحزاب : ٤٠) ٦۔ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبوت اور حکمت عنایت فرمائی۔ ( الجمعہ : ٢) ٧۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت مومنوں پر اللہ تعالیٰ کا احسان عظیم ہے۔ (آل عمران : ١٦٤)