سورة محمد - آیت 34

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ مَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

بے شک جو لوگ کافر ہوئے اور انہوں نے اللہ کے راستے سے روکا پھر وہ کافر ہی رہ کر مرگئے ۔ خدائے تعالیٰ ان کو بھی نہ (ف 1) بخشے گا

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : کفار کو ان کا انجام بتلانے کے بعد مومنوں کو تسلی دی گئی ہے کہ دنیا میں تم ہی غالب رہو گے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے کچھ کم نہیں کرے گا۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کا انکار کرتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور پھر اسی حالت میں مرجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہرگز معاف نہیں کرے گا۔ نہ صرف اللہ تعالیٰ انہیں آخرت میں معاف نہیں کرے گا بلکہ وہ دنیا میں بھی ذلیل ہوں گے۔ اے مسلمانوں تمہارا ان کے ساتھ مقابلہ ہو تو میدان جنگ میں نہ ہمت ہارنا اور نہ ہی کمزور بن کر صلح کی دعوت دینا ہے۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے اس لیے تم ہی غالب رہو گے۔ مسلمانوں کے حوصلے بڑھانے اور ان کو یقین دلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے بار بار مخاطب کی ضمیر استعمال فرمائی ہے جس میں یہ یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ مسلمانوں تمہیں ہمت نہیں ہارنا چاہیے اور نہ ہی تمہیں جھک کر کفار سے صلح کرنی چاہیے۔ اس لیے کہ تم کفار پر غالب آنے والے ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارا ساتھی اور معاون ہے۔ اسی بات کو غزوہ احد کے موقع پر یوں بیان فرمایا کہ اے مسلمانو! نہ ہمت ہارو اور نہ غم کھاؤ! اگر مومن ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔ (آل عمران : ١٣٩) مسلمانوں کو حالت جنگ میں کفار کے ساتھ جھک کر صلح کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ میدان جنگ میں دشمن کے ساتھ جھک کر صلح کرنا اپنے آپ کو ذلیل کرنے اور موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم نے بھی حالت جنگ میں دشمن کے سامنے جھک کر صلح کی نہ صرف اسے ذلیل کیا گیا بلکہ ان کا قتل عام بھی ہوا۔ یہاں مشرقی پاکستان کی مثال پیش کی جاتی ہے۔1973 ء میں مشرقی پاکستان کے شیخ مجیب الرحمن نے انڈیا کے ساتھ مل کر مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش کا نام دیا اور وہ بنگلہ دیش کا پہلا وزیر اعظم بنا۔ جسے بعدازاں اس کی فوج کے چیف نے اس کے خاندان سمیت اسے قتل کردیا شیخ مجیب الرحمن کے کہنے پر جب انڈیا کی فوجیں مشرقی پاکستان میں داخل ہوئیں تو پاکستان کی حمایت اور دفاع کے لیے جنرل اے کے نیازی کی کمان میں مشرقی پاکستان جانے والی نوے ہزار (90,000) فوج نے پلٹن میدان ڈھاکہ میں ہتھیار ڈال دیئے اور دنیا کو باور کروایا کہ ہم نے انڈیا اور مجیب الرحمن کے ساتھ باعزت معاہدہ کیا ہے۔ لیکن جوں ہی جنرل اے کے نیازی نے انڈیا کے جرنیل جنرل اروڑہ کے سامنے اپنا پسٹل پیش کیا اور اسے سلوٹ مارا تو نہ صرف اے کے نیازی کو گرفتار کرلیا گیا بلکہ نوے ہزار (90,000) پاکستانی فوجیوں کو قیدی بنایا گیا اور فوج کی حمایت کرنے والے بنگلہ دیشیوں کو سرِعام قتل کردیا گیا اور پاکستانی فوج کے ہتھیار پھینکنے کی پوری دنیا میں بار بار فلم دکھائی گئی۔ قرآن مجید نے مسلمانوں کو ایسی ذلت سے بچانے کے لیے یہ ہدایت کی ہے کہ اے مسلمانوں دشمن کے مقابلے میں تم ہی کامران اور سربلند ہوگے بشرطیکہ تم ایمان کے تقاضے پورے کرو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ بدر، خندق، فتح مکہ، حنین اور تبوک کے میدان میں پورا کر دکھایا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے یہ وعدہ کیا ہے کہ آپ اور اسلام غالب ہو کر رہیں گے۔ ” وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے دوسرے ادیان پر غالب کر دے خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔“ (الصف : ٩) ” اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے یقیناً اللہ زبردست اور غالب ہے۔“ (المجادلہ : ٢١) ” یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی دنیا میں بھی مدد کرتے ہیں اور آخرت میں بھی کریں گے۔“ (المومن : ٥١) مسائل ١۔ جو لوگ کفر کی حالت میں مریں گے اللہ تعالیٰ ان کے گناہ معاف نہیں کرے گا۔ ٢۔ مسلمانوں کو حالت جنگ میں کفار کے مقابلے میں نہ ہمت ہارنا چاہیے اور نہ جھک کر صلح کرنی چاہیے۔ ٣۔ رب کریم کی دستگیری سے مسلمان ہمیشہ سربلند رہیں گے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ نے انبیاء ( علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو دنیا میں سربلند فرمایا : ١۔ ہم ظالموں کو ہلاک کریں گے اور تمہیں ان کے بعد زمین میں بسائیں گے یہ وعدہ ہر اس شخص کے لیے ہے جو اللہ کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرجائے۔ (ابراہیم : ١٣۔ ١٤) ٢۔ کفارنے حضرت نوح کو جھٹلایا ہم نے نوح اور اس کے ماننے والوں کو نجات دی۔ (الاعراف : ٦٤) ٣۔ ہم نے موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کو نجات دی۔ (الشعرا : ٦٥) ٤۔ ہم نے شعیب اور ایمان لانے والوں کو نجات دی۔ (ہود : ٩٤) ٥۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدد فرمائی۔ ( الانفال : ٦٢)