سورة محمد - آیت 15

مَّثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ ۖ فِيهَا أَنْهَارٌ مِّن مَّاءٍ غَيْرِ آسِنٍ وَأَنْهَارٌ مِّن لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهُ وَأَنْهَارٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَ وَأَنْهَارٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى ۖ وَلَهُمْ فِيهَا مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ وَمَغْفِرَةٌ مِّن رَّبِّهِمْ ۖ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِي النَّارِ وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اس بہشت (ف 2) کا بیان جس کا متقیوں سے وعدہ ہوا ہے یہ ہے کہ وہاں انی مکی نہریں ہیں جس میں بدبو نہیں اور دودھ کی نہریں ہیں جن کا مزہ نہیں بدلا اور شراب کی نہریں جو پینے والوں کو لذت دیتی ہے اور صاف (جھاگ اتارے ہوئے) شہد کی نہریں ہیں اور ان کے لئے وہاں ہر قسم کا میوہ ہے اور ان کے رب کی طرف سے معانی ۔ کیا یہ لوگ ان کی مانند ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ آگ میں رہیگے اور وہ کھولتا ہوا پانی پلائے جائینگے پھر وہ ان کی انتڑیاں کاٹ ڈالے گا

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ دنیا میں ہلاک کیے گئے ان کی ہلاکت کا سبب یہ تھا کہ وہ ہدایت پر چلنے کی بجائے اپنی خواہشات کے بندے بن چکے تھے جس وجہ سے ان کا دنیا میں برا انجام ہوا اور آخرت میں جہنم کی آگ میں جھونکے جائیں گے۔ اس سورت میں مومنوں اور کفار کے درمیان موازنہ کیا جارہا ہے۔ ایک شخص ہے جو اپنے رب کی طرف سے ٹھوس اور واضح دلیل پر عمل پیرا ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسرا وہ ہے جو اپنے جذبات اور خیالات کی پیروی کرتا ہے اور اس کے لیے شیطان نے اس کے برے اعمال کو فیشن بنا دیا۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت اور دلیل پر عمل پیرا ہے اور اپنے رب کی نافرمانی سے بچنے والا ہے۔ اس کے لیے اس کے رب نے اس جنت کا وعدہ کیا ہے جس کی شان اور حال یہ ہے کہ اس میں چار قسم کی نہریں جاری ہوں گی۔ جنت میں داخل ہونے والوں کے لیے ہر قسم کے ثمرات ہوں گے اور ان کے رب کی طرف سے ان کے لیے بخشش کا اعلان ہوگا۔ ان کے مقابلے میں جس شخص نے اپنے جذبات اور خیالات کی پیروی کی اور برے اعمال کو اپنے لیے اچھا جانا اسے ہمیشہ کے لیے جہنم کی میں جھونکا جائے گا اور پینے کے لیے اسے کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا۔ جو اس کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا۔ جنت میں چلنے والی نہریں : 1۔ جنت کی نہروں میں ایک نہر صاف اور شفاف پانی سے لبریز ہوگی اور اس کے پانی کی لہریں آپس میں اٹکلیاں کررہی ہوں گی۔ اس نہر کا پانی اس قدر صاف اور شفاف ہوگا جس میں نہ مٹی ہوگی اور نہ ہی ریت کے ذرات ہوں گے۔ اس پانی کا نہ رنگ بدلے گا، نہ ذائقہ تبدیل ہوگا اور نہ ہی اس میں بوپیدا ہوگی۔ 2۔ جنت میں ایک نہر ایسی ہوگی جو دودھ سے لبالب ہوگی۔ اس میں ایسا دودھ ہوگا کہ جس کا رنگ چاند کی روشنی سے زیادہ روشن ہوگا۔ اس کے دودھ کا ذائقہ کبھی تبدیل نہیں ہوگا۔ جنتی اس سے دودھ کے جام بھریں گے اور آپس میں خوش گپیاں کرتے ہوئے ان سے لطف اندوز ہوں گے۔ 3۔ جنت میں بہنے والی تیسری نہر شراب سے بھر پور ہوگی۔ دیکھنے میں یہ شراب ہوگی لیکن یہ کسی اعتبارسے بھی دنیا کی شراب کے ساتھ مشابہت نہیں رکھتی ہوگی۔ دنیا کی شراب میں کڑواہٹ، ترشی اور کچھ نہ کچھ نشہ ضرور ہوتا ہے جس سے انسان کی عقل میں فتور پیدا ہوتا ہے۔ اور اس کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جنت کی شراب اس قسم کی آلائشوں سے یکسر پاک ہوگی یہ ان لوگوں کو نصیب ہوگی جو دنیا میں شراب کو حرام سمجھتے تھے اور اس سے کلی طور پر اجتناب کیا کرتے تھے۔ ان کے مقابلے میں کفار اور مشرکین کو جہنم کی آگ میں داخل کیا جائے گا۔ جب وہ جہنم کی تلخی کی وجہ سے پانی طلب کریں گے تو انہیں پینے کے لیے انتہائی کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا جس سے ان کی آنتڑیاں کٹ کر رہ جائیں گی۔ 4۔ جنت کی نہر ایسے شہد سے بھری ہوگی جس میں کسی قسم کی ملاوٹ نہیں ہوگی۔ یہ شہد اتنا صاف اور شفاف ہوگا جس میں پینے والے کو اپنا چہرہ نظر آئے گا۔ اس کی مٹھاس کے بارے میں کسی انسان کے پاس ایسے الفاظ نہیں کہ جس سے وہ اس کے ذائقے اور مٹھاس کی ترجمانی کرسکے۔ ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو اللہ اور رسول پر ایمان لایا اس نے نماز قائم کی اور رمضان کے روزے رکھے۔ اسے جنت میں داخل کرنا اللہ پر حق ہے اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ہو یا اپنی جنم دھرتی میں بیٹھا رہا۔ صحابہ (رض) نے عرض کی اللہ کے رسول! کیا ہم لوگوں کو خوشخبری نہ دیں؟ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے فی سبیل اللہ جہاد کرنے والوں کے لیے جنت میں سو درجات بنائے ہیں ہر دو درجے کادرمیانی فاصلہ زمین و آسمان کے درمیانی فاصلہ جتنا ہے جب تم اللہ سے جنت کا سوال کرو تو جنت الفردوس مانگا کرو کیونکہ یہ جنت کا وسط اور اعلیٰ مقام ہے راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اس کے اوپررحمان کا عرش ہے اور وہاں سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔“ (رواہ البخاری : کتاب الجھاد والسیر) مسائل ١۔ اپنے رب کی ہدایت پر چلنے والا اور اپنی خواہشات کے پیچھے لگنے والا برابر نہیں ہوسکتے۔ ٢۔ جو اپنی خواہشات کے پیچھے لگے گا وہ برباد ہوجائے گا۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کے لیے پاک پانی، شفاف دودھ، مزیدار شراب اور خالص شہد کی نہریں جاری کر رکھی ہیں۔ ٤۔ جنت کے مقابلے میں کفار اور مشرکین کو جہنم کی آگ میں جھونکا جائے گا اور انہیں پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا۔ ٥۔ جنتی کے لیے ہر قسم کے پھل ہوں گے اور اللہ تعالیٰ جنتی پر ہمیشہ ہمیش راضی رہے گا۔ تفسیر بالقرآن جنتی کا انعام اور جہنمی کا انجام : ١۔ جب فرشتے پاکباز لوگوں کی روحیں قبض کرتے ہیں توانھیں سلام کہتے ہیں اور جنت کی خوشخبری دیتے ہیں۔ (النحل : ٣٢) ٢۔ فرشتے کہتے ہیں تم پر سلامتی ہو تم نے صبر کیا آخرت کا گھر بہت ہی بہتر ہے۔ (الرعد : ٢٤) ٣۔ داخل ہوجاؤ جنت میں سلامتی کے ساتھ آج تمھارے لیے داخلے کا دن ہے۔ (ق : ٣٤) ٤۔ فرشتے جب جنتی کے پاس جائیں گے تو انہیں سلام کہیں گے۔ (الزمر : ٨٩) ٥۔ اے ہمارے رب ہمیں تھوڑی دیر کے لیے مہلت دے ہم تیری دعوت کو قبول اور تیرے رسول کی بات کو تسلیم کریں گے۔ (ابراہیم : ٤٤) ٦۔ جہنمی کہیں گے اے اللہ ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب ہم کو واپس لوٹا دے۔ (السجدۃ: ١٢) ٧۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جب وہ ہلکی ہونے لگے گی تو ہم اسے مزید بھڑکا دیں گے۔ (بنی اسرائیل : ٩٧) ٨۔ اس میں وہ کھولتا ہوا پانی پئیں گے اور اس طرح پیئیں گے جس طرح پیا سا اونٹ پیتا ہے۔ (الواقعہ : ٥٤ تا ٥٥)