سورة آل عمران - آیت 161

وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَغُلَّ ۚ وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان نہیں کہ خیانت کرے اور جو کوئی خیانت کرے گا ، قیامت کے دن اس چیز کو کہ خیانت کی لائے گا ، پھر ہر کسی کو اس کی کمائی کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ ہوگا (ف ٢)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : جیسا کہ پہلے بھی بیان ہوا ہے کہ منافقین رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پریشان اور مسلمانوں کو رسوا کرنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ بدر کے موقع پر ایک قیمتی چادر سامان میں آگے پیچھے ہوگئی تو منافقوں نے یہ کہہ کر بدگمانی پیدا کرنے کی کوشش کی کہ آپ نے اس کو اپنے لیے رکھ لیا ہوگا۔ بظاہر یہ چھوٹی سی بات ہے لیکن یہ بدگمانی آپ کی ذات اطہر کے بارے میں تھی اس لیے سخت اور دو ٹوک الفاظ میں اس کی وضاحت کی گئی۔ اگر اس موقعہ پر یا وہ گوئی کرنے والوں کی زبانیں بند نہ کی جاتیں تو آئندہ چل کر کسی بڑی خیانت کا الزام بھی آپ کی ذات پر چسپاں کیا جاسکتا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا اور کہ مستقبل میں مسلمانوں کو کتنے قیمتی غنائم حاصل ہونے والے تھے اس لیے فرمایا کہ کسی نبی کے لیے یہ لائق نہیں کہ وہ خیانت کرے بلکہ نبی کے بارے میں ایسا سوچنا بھی عظیم گناہ ہے۔ جو بھی خیانت کرے گا وہ قیامت کے دن اس خیانت کے ساتھ پیش کیا جائے گا پھر وہاں ہر کسی کو اس کے عمل کے مطابق جزا یا سزا ملے گی اور کسی پر کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَامَ فِیْنَا النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَذَکَرَ الْغُلُوْلَ فَعَظَّمَہٗ وَعَظَّمَ أَمْرَہٗ قَالَ لَا أُلْفِیَنَّ أَحَدَکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی رَقَبَتِہٖ شَاۃٌ لَھَا ثُغَاءٌ عَلٰی رَقَبَتِہٖ فَرَسٌ لَہٗ حَمْحَمَۃٌ یَقُوْلُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ أَغِثْنِیْ فَأَقُوْلُ لَا أَمْلِکُ لَکَ شَیْءًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ۔۔) [ رواہ البخاری : کتاب الجھاد والسیر، باب الغلول وقول اللہ تعالیٰ ومن یغلل ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے درمیان کھڑے ہو کر خیانت کا تذکرہ کرتے ہوئے اسے بہت سنگین گردانتے ہوئے فرمایا : میں تم میں سے کسی کو روز قیامت اس حال میں نہ پاؤں کہ اس کے کندھے پر بکری ممیارہی ہو اور کسی کے کندھے پر گھوڑا ہنہنا رہا ہو اور وہ کہے کہ اے اللہ کے رسول! میری مدد کیجیے تو میں کہوں کہ میں تو کچھ نہیں کرسکتا میں نے تجھے پہلے ہی باخبر کردیا تھا۔“ مفسّرین نے ” غَلَّ“ کے دو معنٰی کیے ہیں کہ ” کسی کے بارے میں اپنے دل میں غصہ رکھنا“ اُحد میں درّے والوں نے درّہ خالی کرکے غلطی کی اور بعض صحابہ (رض) نے میدان سے بھاگ کر غلطی کی تھی اس پر فرمایا جارہا ہے کہ اے پیغمبر! آپ کو معاف کردینے کے بعد دل میں غصہ نہیں رکھنا چاہیے۔ دوسراغَلَّ کا معنی ہے کہ ” مسلمانوں کے اجتماعی مال میں خیانت کرنا“ جس کا گناہ عام چوری سے زیادہ ہے۔ ” حضرت ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ جب خیبر فتح ہوا تو مال غنیمت میں ہمیں سونا اور چاندی نہیں ملا تھا بلکہ گائے‘ اونٹ‘ سامان اور باغات ملے تھے پھر ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ وادی القریٰ کی طرف لوٹے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک مدعم نامی غلام تھا جو بنی ضباب کے ایک صحابی نے آپ کو ہدیہ دیا تھا وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سواری سے کجاوہ اتار رہا تھا کہ کسی نامعلوم سمت سے ایک تیر آکر اس کو لگالوگوں نے کہا اسے شہادت مبارک ہو۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو چادر اس نے خیبر میں تقسیم سے پہلے مال غنیمت میں سے چرائی تھی وہ اس پر آگ کا شعلہ بن کر بھڑک رہی ہے۔ یہ سن کر ایک صحابی ایک یا دو تسمے لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یہ میں نے اٹھا لیے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یہ جہنم کے تسمے ہیں۔“ [ رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب غزوۃ خیبر ] (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو (رض) أَنَّ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ أَرْبَعٌ مَّنْ کُنَّ فِیْہِ کَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا وَمَنْ کَانَتْ فِیْہِ خَصْلَۃٌ مِّنْھُنَّ کَانَتْ فِیْہِ خَصْلَۃٌ مِّنَ النِّفَاقِ حَتّٰی یَدَعَھَا إِذَا اءْتُمِنَ خَانَ وَإِذَاحَدَّثَ کَذَبَ وَإِذَا عَاھَدَ غَدَرَ وَإِذَاخَاصَمَ فَجَرَ) [ رواہ البخاری : کتاب الإیمان، باب علامۃ المنافق] ” حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چار خصلتیں جس میں ہوں وہ پکّا منافق ہوگا اور ان میں سے جس میں ایک علامت ہو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہوگی جب تک کہ اسے چھوڑتا نہیں۔ (١) جب امانت رکھی جائے تو خیانت کرے (٢) بات کرے تو جھوٹ بولے (٣) جب وہ عہد کرے تو غداری کرے (٤) اور معمولی تکرار پر گالی گلوچ پر اتر آئے۔“ مسائل ١۔ کوئی نبی بھی خائن نہیں ہوا۔ ٢۔ قیامت کے دن خائن خیانت کے ساتھ پیش ہوگا۔ ٣۔ ہر کسی کو اس کے عمل کے مطابق جزا وسزا ملے گی کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ تفسیر بالقرآن نبی خائن نہیں ہوتا : ١۔ نبی اللہ کی وحی میں خیانت نہیں کرتا۔ (التکویر : ٢٤) ٢۔ نبی وحی کو نہیں چھپاتا۔ (المائدۃ: ٦٧) ٣۔ نبی مال میں خیانت نہیں کرتا۔ (آل عمران : ١٦١) ٤۔ نبی خائن کی حمایت نہیں کرتا۔ (النساء : ١٠٥)