سورة الأحقاف - آیت 5

وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور اس سے زیادہ گمراہ کون ہے جو اللہ کے سوا ایسے لوگوں کو پکارے جو قیامت کے دن تک اسے جواب نہ دیں ؟ اور وہ ان کی پکار سے غافل ہیں

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : مشرکین کے پاس باطل عقیدہ کی کوئی دلیل نہیں مگر پھر بھی ” اللہ“ کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے اور ان سے مانگتے ہیں یہ لوگ پرلے درجے کے گمراہ ہیں۔ قرآن مجید نے مِن دون اللہ سے مراد صرف بت نہیں لیے بلکہ اللہ تعالیٰ کے سوا جسے بھی پکارا جائے اور جس کی بھی عبادت کی جائے گی وہ ” مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ“ میں شامل ہوگا۔ یہاں تفسیر بالقرآن میں ان آیات کے حوالے پیش کیے گئے ہیں جن میں بتوں کے علاوہ ” مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ“ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ افسوس! اتنی واضح آیات ہونے کے باوجود شرک کی حمایت کرنے والے ایک مفسر نے جو کچھ لکھ دیا ہے اس پر افسوس کرنے کے سوا کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ فہم القرآن کا مطالعہ کرنے والے حضرات سے گزارش ہے کہ وہ خود فیصلہ کریں کہ شرک کے بچاری لوگ کس قدر شرک کی حمایت میں آگے بڑھ جاتے ہیں۔ موصوف اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ مشرکین جو بڑے زور شور سے اپنے بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے اور اگر اس پر انہیں ٹوکا جاتا تو وہ بہت برہم ہوتے۔ ان سے پوچھا جارہا ہے کہ جن کو تم نے معبود بنا رکھا ہے، اللہ تعالیٰ کی عبادت کو چھوڑ کر تم نے ان کی پوجا شروع کر رکھی ہے۔ کیا اس کی کوئی معقول وجہ بھی تم بتا سکتے ہو؟ کیا کرّہ زمین کی کسی چیز کے وہ خالق ہیں، آسمان کی آفرینش میں کیا ان کا کوئی حصہ ہے ؟ اگر تمہارے پاس کو تحریری ثبوت ہے تو پیش کرو اور اگر تم خود اس بات کا اعتراف کرتے ہو کہ اس وسیع وعریض کائنات کی ہر چھوٹی بڑی چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے تم پھر اس خالق وحکیم کو چھوڑ کر کسی پتھر، کسی بے روح یا ذی روح شے کی پوجا کرنا کتنی بڑی حماقت ہے۔ (ضیاء القرآن جلد چہارم، ص : ٤٧٢) غور فرمائیں کہ اس پہرہ کی آخری سطر میں من دون اللہ کا ترجمہ کرتے ہیں کہ تم پھر خالق وحکیم کو چھوڑ کر کسی پتھر یا کسی بے روح یا ذی روح شے کی پوجا کرنا کتنی بڑی حماقت ہے، لیکن اس کے باوجود صحیح عقیدہ لوگوں کے بارے میں لکھتے ہیں۔ بعض مہم جو لوگ جو ملت کے اتحاد کو انتشار کا شکار بنانا چاہتے ہیں، رات دن اس دھن میں لگے رہتے ہیں کہ ملت میں نئی ملت تخلیق کریں وہ یہ آیت اہل سنت پر چسپاں کرتے ہیں۔ (معاذ اللہ) بحمدہٖ تعالیٰ اہل سنت میں سے کوئی اَن پڑھ سے اَن پڑھ بھی اللہ جلَّ مجدہٗ کے سوا کسی کی خدائی اور الوہیت کا عقیدۂ فاسدہ نہیں رکھتا۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب، تمام نبیوں کے سردار، تمام رسولوں کے تاج، اپنے آقا و مولیٰ اور دونوں جہانوں کے سردار محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ ” اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ“ اور نماز میں کئی کئی بار اس شہادت کا اعادہ کرتا ہے تو وہ کسی اور کو کیونکر خدا یا خدا کا ہمسر اور شریک تصور کرسکتا ہے۔ یہ محض بہتان اور افترائے عظیم ہے کہ اہل سنت کو خدا کا شریک بناتے ہیں۔” ھذا افک مبین وبہتان عظیم“ مزید لکھتے ہیں۔ خارجیوں (جدید اور قدیم) کے علاوہ تمام امت اس بات پر متفق ہے کہ حضور سرور دوعالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ بکیس پناہ میں جب کوئی غلام صلوٰۃ و سلام عرض کرتا تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو سلام کا جواب دیتے ہیں جس کو خواص اپنے کانوں سے سنتے ہیں اور لذّتِ جواب سے سرشار ہوتے ہیں۔ مصر کے مشہور ولئ کامل حضرت سید احمد رفاعی (رح) جب روضۂ اقدس پر حاضر ہوئے تو بصد ادب و نیاز عرض کی ” الصلوٰۃ والسلام علیک یا جدّی“ اے میرے نانا پاک آپ پر صلوٰۃ و سلام ہو۔ روضۂ اقدس سے جواب آیا ” وعلیک السلام یا ولدی“ اے میرے بچے تجھ پر بھی سلام ہو۔ یہ سن کر آپ پر وجد کی 3 طاری ہوگئی اور فی البدیہہ یہ رباعی عرض کی : (ضیاء القرآن) فی حالۃ البعد روحی کنت ارسلھا تقبل الارض عنی وھی نائبتی ” جب میرا جسد خاکی یہاں سے دورتھا تو میں آستانہ بوسی کے لیے اپنی روح کو بھیجا کرتا تھا۔“ وھذہ دولۃ الاشباح قد حضرت فامدد یمینک کی تحظٰی بھا شفتی اب تو میں خود بارگاہ اقدس میں حاضر ہوں۔ دست پاک نکالیے تاکہ میں بوسہ دے کر دل کی حسرت پوری کرسکوں۔ دست مبارک باہر آیا جس کو آپ نے بوسہ دیا۔ ہزارہا آدمیوں نے اس کو دیکھا۔ (ضیاء القرآن) بالفرض صحیح سند کے ساتھ ثابت ہوجائے کہ کسی بزرگ نے روضۃ الرّسول یا کسی قبر کے پاس جاکر فوت شدہ بزرگ سے مدد مانگی ہو تو کیا اس کا عمل امت کے لیے دلیل اور اللہ کے ہاں قابل قبول ہوگا؟ جبکہ قرآن مجید من دون اللہ کو پکارنے سے بار بار منع کرتا ہے۔ من دون اللہ کا معنی ہے۔” اللہ“ کے سوا۔ اس میں حجر و شجر، شمس و قمر، اولیاء اور انبیاء شامل ہیں، لہٰذا قرآن مجید کی تاویلات کرنے کی بجائے سیدھے طریقے سے اس کا فرمان قبول کرنا چاہیے یہی ہدایت کا راستہ ہے۔ عقل و انصاف کا تقاضا : عقل کے ساتھ انصاف فرمائیں کہ جو لوگ دنیا سے چل بسے اور زندگی بھر لوگوں کو من دون اللہ سے روکتے رہے اور اپنے مریدوں کو صرف ” اللہ“ کے حضور دعائیں کرنے کی تلقین اور تبلیغ کرتے رہے۔ ان کے رخصت ہونے کے بعد لوگوں نے ان کی قبروں پر مزار بنائے اور شرک کے اڈے قائم کیے۔ اگر وہ لوگوں کی فریاد سنتے ہوں اور اپنی قبروں پر سجدے، رکوع کرتے ہوئے دیکھتے ہوں تو کیا ان کو خوشی ہوگی یا پریشانی ؟ ظاہر بات ہے ان کو پریشانی ہوگی۔ کیا اللہ تعالیٰ انبیائے کرام (علیہ السلام) اور صالح حضرات کو موت کے بعد کوئی پریشانی آنے دیتا ہے ؟ بالکل نہیں اس لیے عقل وانصاف کا تقاضا ہے کہ نہ وہ سنتے ہیں اور نہ کسی کو دیکھتے ہیں، اور نہ کسی کی مدد کرتے ہیں۔ من دون اللہ میں شامل بت ہوں یا فوت شدگان نہ وہ سنتے ہیں اور نہ ہی پکارنے والے کی فریاد کا جواب دیتے ہیں : 1۔ کوئی برا ہو یا نیک موت کے بعد اس کی روح ایسے مقام پر پہنچا دی جاتی ہے جہاں پکارنے والے کی پکار ان تک نہیں پہنچ سکتی۔2۔ اللہ تعالیٰ نے فوت شدگان کو یہ صلاحیت اور اختیار نہیں دیا کہ وہ کسی پکارنے والے کی فریاد سنیں اور ان کی مدد کرسکیں۔ جو لوگ فوت شدگان کو حاجت روا، مشکل کشا سمجھ کر پکارتے ہیں ان کے پاس بے سند کہانیوں کے سوا کوئی ثبوت نہیں۔ اوپر دی ہوئی ضیاء القرآن کی عبارت آپ ایک دفعہ پھر پڑھیں اور غور فرمائیں کہ قرآن و سنت سے دلیل پیش کرنے کی بجائے صرف کمزوراسناد پر مبنی بزرگوں کے واقعات لکھ کر شرک کی حمایت کی گئی ہے۔ (اعانت و استعانت کی شرعی حقیقت از قلم حضرت پیر سید نصیر الدین صاحب آف گولڑہ) مسائل ١۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اسے صرف ” اللہ“ نے پیدا کیا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی نے نہ کوئی چیز پیدا کی ہے اور نہ کرسکتا ہے۔ ٣۔ کسی آسمانی کتاب، کسی نبی کی شریعت اور علمی ثبوت کے ذریعے من دون اللہ سے مانگنے کا ثبوت نہیں ملتا۔ تفسیر بالقرآن من دون اللہ سے مراد زندہ اور مردہ، بت اور جاندار سب شامل ہیں : ١۔ میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو۔ (یونس : ١٠٤) ٢۔ مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو۔ (الانعام : ٥٦) ٣۔ کیا میں اللہ کے سوا ان کو پکاروں جو نفع اور نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ (الانعام : ٧١) ٤۔ جن کو لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں انھوں نے کوئی چیز پیدا نہیں کی بلکہ وہ خود پیدا کیے گئے ہیں۔ (النحل : ٢٠) ٥۔ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمھارے جیسے بندے ہیں۔ (الاعراف : ١٩٤) ٦۔ انھوں نے اپنے پادریوں اور راہبوں اور مسیح ابن مریم کو اللہ کے سوا معبود بنا لیا۔ (التوبہ : ٢١)