سورة الأحقاف - آیت 0

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

(شروع) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

سورۃ الاحقاف کا تعارف اس سورت کا نام اس کی آیت ٢١ میں موجود ہے۔ یہ سورت ٤ رکوع اور ٣٥ آیات پر مشتمل ہے اور مکہ میں نازل ہوئی اکثر مفسرین کا خیال ہے کہ یہ سورت ہجرت سے تقریباً تین سال پہلے اس وقت نازل ہوئی جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طائف تشریف لے گئے اور طائف والاوں نے آپ کے ساتھ بد ترین سلوک کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے رویے سے مایوس ہو کر مکہ واپس آ رہے تھے کہ راستے میں 3 کی ایک جماعت نے آپ سے ملاقات کی اور آپ نے انہیں توحید کی دعوت دی۔ جنات نے جب آپ کی دعوت کو سنا تو انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ اس قرآن کو نہایت خاموشی کے ساتھ سنو کیونکہ یہ ایسی کتاب ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نازل کی گئی ہے اور تورات کی تصدیق کرنے والی ہے۔ یہ کتاب حق بات اور صراط مستقیم کی راہنمائی کرتی ہے۔3 نے اپنے ساتھیوں سے یہ بھی کہا کہ اے ہماری قوم کے لوگو ! تمہیں اس داعی کی دعوت کو ضرورقبول کرنا لینا چاہیے۔ اس سے اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف کریں گے اور تمہیں عذاب علیم سے نجات دیں گے۔ اس سورت کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ کیا تم غور نہیں کرتے کہ جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سواہ پکارتے ہو انہوں نے زمین میں کون سی چیز پیدا کی ہے؟ یا وہ آسمانوں کی تخلیق میں اللہ تعالیٰ کے معاون تھے؟ اگر تمہارے پاس اس بات کا عقلی یانقلی ثبوت ہے تو پیش کرو۔ یاد رکھو اس شخص سے بڑھ کر کوئی گمراہ نہیں ہوسکتا۔ جو اللہ تعالیٰ کے سواہ دوسروں سے مانگتا ہے اور انھیں مشکل کے وقت پکارتا ہے ان کی حالت یہ ہے کہ وہ قیامت تک مانگنے والوں کی دعاؤں اور صداؤں سے غافل ہیں۔ قیامت کے دن انہیں ایک دوسرے کے سامنے اکٹھا کیا جائے گا تو وہ اپنے پکارنے والوں کی پکار سے انکار کریں گے اس کے بعد یہ ارشاد ہوا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے فرمائیں کہ میں کوئی نیا اور انوکھا رسول نہیں ہوں اور نہ ہی میں کوئی انوکھی تعلیم دیتا ہوں میں وہی دعوت دے رہا ہوں جو پہلے انبیاء کرام کی دعوت ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں میں نہیں جانتا کہ میرے اور تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہونے والا ہے بے شک جو لوگ اللہ کی توحید پر استقامت اختیار کریں گے انہیں کوئی خوف و خطر نہیں ہوگا توحید اور نبی کی رسالت بیان کرنے کے بعد والدین کے ساتھ احسان کرنے کا حکم دیا اور بتلایا کہ اولاد افکار اور کردار کے لخاظ سے دو قسم کی ہوتی ہے ایک اولاد وہ ہے جو اپنے رب کا حکم مان کر اپنے والدین کے ساتھ نہ صرف حسن سلوک کرتی ہے بلکہ ان کے لیے دعا گو رہتی ہے، دوسری اولاد وہ ہے جو اپنے ماں باپ کی نافرمان اور قیامت کا انکار کرتی ہے اور قیامت کے عقیدہ کو پہلے لوگوں کی کہانیاں سمجھتی ہے اس سورت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کا شرکیہ عقیدہ بیان کرنے کے بعد انکے انجام کا ذکر کیا اور اہل مکہ کو سمجھایا ہے کہ جب قوم عاد پر برا وقت آیا تھا تو انکے خداؤں نے ان کی کوئی مدد نہیں کی تھی جب تم پر برا وقت آئے گا تو تمہاری مدد کرنے والا بھی کوئی نہیں ہوگا۔ سورۃ الاحقاف کا اختتام اس بات پر کیا ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلے انبیاء کی طرح صبرو حوصلہ سے کام لو اور جلد بازی سے اجتناب کرو جو لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کو ٹھکراتے ہیں۔ وقت آئے گا کہ قیامت کے خوف کی وجہ سے وہ کہیں گے کہ ہم دنیا میں تھوڑی ہی مدت رہے تھے۔ نافرمانوں کے لیے اس دن ہلاکت کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔