سورة الدخان - آیت 10

فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

سو تو اس دن کا انتظار کر جس دن آسمان صریح وہ دھواں لائیگا

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : رب تعالیٰ کی ذات اور صفات میں شک کرنے والے لوگ قرآن مجید کو شغل کے طور پر لیتے ہیں اس پر ان لوگوں کو انتباہ کیا جاتا ہے۔ جو لوگ اپنے رب کو رب ماننے کے لیے تیار نہیں اور قرآن مجید کی دعوت کو کھیل کود سمجھتے ہیں انہیں ایک بار پھر انتباہ کیا جاتا ہے کہ وہ اس وقت کا انتظار کریں جب آسمان دھویں سے بھر جائے گا اور لوگوں کو بری طرح ڈھانپ لے گا۔ اس دن شک کرنے والوں کو اذیت ناک عذاب ہوگا۔ مجرم اپنے رب کے حضور فریاد پہ فریاد کریں گے کہ اے ہمارے رب! اس عذاب کو ہم سے دور کردے یقیناً ہم تجھ پر ایمان لائیں گے۔ لیکن اس وقت نصیحت حاصل کرنے کا موقع گزرچکا ہوگا۔ کیونکہ اس سے پہلے رسول نے ان تک حق پہنچا دیا تھا۔ لیکن انہوں نے یہ کہہ کر منہ موڑے رکھا کہ یہ کسی کا پڑھایا ہوا اور پاگل شخص ہے۔ ہم کچھ مدت کے لیے عذاب ہٹا دیں گے مگر تم لوگ وہی کچھ کرو گے جو پہلے کرتے رہے ہو بالآخر ایک دن ان کی سخت گرفت کریں گے اور ہم پوری طرح ان سے انتقام لیں گے۔ مفسرین نے ان آیات کی تشریح کرتے ہوئے دو موقف اختیار کیے ہیں۔ ایک جماعت کا خیال ہے کہ ان آیات میں جس دھویں اور عذاب کا ذکر کیا گیا ہے وہ قیامت کے دن کا دھواں ہے۔ دوسری جماعت کا نقطہ نظر ہے کہ بے شک آسمان اور لوگوں کو گھیر لینے والا دھواں قیامت کے دن ضرور نمودار ہوگا۔ لیکن قیامت سے پہلے اس کا کچھ حصہ اہل مکہ پر اس وقت نازل ہوا جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل مکہ کے لیے قحط کی دعا کی تھی۔ جس کے نتیجے میں تین سال تک مکہ کی سرزمین پر بارش نہ ہوئی جس سے ایک طرف ان پر قحط مسلط ہوا اور دوسری طرف ثمامہ بن اثال نے اپنے علاقہ سے غلہ کی ترسیل روک دی جس وجہ سے اہل مکہ مردار کھانے پر مجبور ہوئے۔ قحط سالی کے عالم میں وہ جدھر دیکھتے بھوک اور موسم کی حدت کی وجہ سے انہیں ہر طرف دھواں ہی دھواں نظر آتا تھا۔ اس صورت حال سے مجبور ہو کر ابوسفیان نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں مدینہ حاضر ہو کر درخواست کرتا ہے کہ یامحمد! آپ کی قوم کے لوگ بھوکے مررہے ہیں اس لیے آپ اپنے امتی ثمامہ بن اثال کو حکم جاری فرمائیں کہ وہ تاجرحضرات کو مکہ کی منڈی میں غلہ لانے کی اجازت دے اور اس کے ساتھ اپنے رب کے حضور دعا کریں کہ وہ رحمت کی بارش نازل فرمائے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوسفیان کی دونوں درخواستیں قبول فرمائیں۔ بارش کی دعا کی اور ثمامہ بن اثال کو خط لکھا کہ مکہ والوں کے لیے غلہ کی جاری کیا جائے۔ بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ اس موقع پر ابوسفیان نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ عہد کیا تھا کہ اگر یہ عذاب ٹل جائے تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ لیکن جب یہ عذاب ٹل گیا تو مکہ والوں نے پرانی ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو کسی کا سکھلایا ہوا اور پاگل شخص ہے۔ قرآن مجید نے اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ہم کچھ مدت کے لیے عذاب ٹال دیں گے مگر یہ لوگ وہی کچھ کہیں اور کریں گے جو پہلے سے کررہیں۔ چنانچہ عذاب ٹل جانے کے بعداہل مکہ اسی طرح کفر و شرک کرتے رہے جس طرح عذاب سے پہلے کیا کرتے تھے۔ ایسے لوگوں کی قیامت کے دن سخت پکڑ ہوگی اور ان کے کفر و شرک کی پوری پوری سزا دی جائے گی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ مجرموں سے سخت انتقام لینے والا ہے۔ اس کا یہ بھی مفہوم لیا گیا ہے کہ جب تم نہ رسول کی بات سنتے ہو اور نہ چھوٹے بڑے عذاب سے سمجھتے ہو تو اس دن کا انتظار کرو جس دن دھواں چھا جائے گا اور تم فریادیں کرو گے کہ اے رب قیامت کا عذاب ٹال دے۔ اب ہم ایمان لاتے ہیں۔ کہا جائے گا کہ اب ایمان لانے اور نصیحت پانے کا وقت گزر گیا۔ جب تمہارے پاس رسول آیا اور اس نے تمہیں سمجھایا تو تم اسے پاگل کہتے تھے اور الزام دیتے تھے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن نازل نہیں ہوا بلکہ کسی سے پڑھ کر ہمیں سناتا ہے اور یہ شخص مجنون ہے۔ لہٰذا آج تم سے پوری طرح انتقام لیا جائے گا۔ ( عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ أَسِیدٍ الْغِفَارِیِّ قَالَ کُنَّا قُعُودًا نَتَحَدَّثُ فِی ظِلِّ غُرْفَۃٍ لِرَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَذَکَرْنَا السَّاعَۃَ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُنَا فَقَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لَنْ تَکُونَ أَوْ لَنْ تَقُوم السَّاعَۃُ حَتّٰی یَکُونَ قَبْلَہَا عَشْرُ آیَاتٍ طُلُوع الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِہَا وَخُرُوج الدَّابَّۃِ وَخُرُوجُ یَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَالدَّجَّالُ وَعِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ وَالدُّخَانُ وَثَلَاثَۃُ خُسُوفٍ خَسْفٌ بالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ بالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِجَزِیرَۃِ الْعَرَبِ وَآخِرُ ذٰلِکَ تَخْرُجُ نَارٌ مِنَ الْیَمَنِ مِنْ قَعْرِ عَدَنٍ تَسُوق النَّاسَ إِلَی الْمَحْشَرِ)[ رواہ ابوداؤد : باب أمارات الساعۃ] ” حضرت حذیفہ بن اسید غفاری (رض) بیان کرتے ہیں ہم نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حجرہ مبارک کے سائے میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے ہم نے گفتگو کے دوران قیامت کا ذکر کیا اس کے ساتھ ہی ہماری آوازیں بلند ہوگئیں۔ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک اس سے پہلے دس نشانیاں نہ پوری ہوجائیں۔ 1 سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، 2 دابہ جانور کا نکلنا، 3 یاجوج و ماجوج کا ظاہر ہونا، 4 دجال کا نکلنا، 5 عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) کا نازل ہونا، 6 دھواں کا ظاہرہونا 7 زمین کا تین مرتبہ دھنسنا ایک مرتبہ مغرب میں 8 ایک مرتبہ مشرق میں 9 ایک مرتبہ جزیرۃ العرب میں ۔ آخری آگ یمن کے علاقہ سے عدن کی طرف رونما ہوگی جو لوگوں کو محشر کے میدان میں اکٹھا کرے گی۔“ تفسیربالقرآن اللہ تعالیٰ مجرموں سے انتقام لینے والا ہے : ١۔ ان کے پاس ان میں سے رسول آئے لیکن انہوں نے تکذیب کی تب انہیں عذاب نے آلیا۔ (النحل : ١١٣) ٢۔ ان کے لیے کہا جائے گا تکذیب کرنے کی وجہ سے عذاب میں مبتلا رہو۔ (السجدۃ : ٢٠) ٣۔ انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں ہلاک کردیا۔ (الشعراء : ١٣٩) ٤۔ قوم نوح نے جب حضرت نوح کی تکذیب کی تو ہم نے انہیں غرق کردیا۔ (الفرقان : ٣٧) ٥۔ ہم نے آل فرعون سے انتقام لیا اور انہیں دریا میں غرق کردیا۔ (الاعراف : ١٣٦) ٦۔ ان کے جھٹلانے کی وجہ سے انہیں دردناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ (البقرۃ: ١٠) ٧۔ ہم مجرموں سے انتقام لیتے ہیں۔ (السجدۃ: ٢٢)