سورة الدخان - آیت 0

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

(شروع) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

سورۃ الدّخان کا تعارف الدّخان مکہ معظمہ اور اس کے گردوپیش میں نازل ہوئی۔ یہ سورت انسٹھ آیات اور تین رکوعات پر مشتمل ہے۔ اس کا نام الدّخان ہے جو دسویں آیت میں موجود ہے۔ قیامت کے ایک مرحلہ پر آسمان دھوئیں کی شکل اختیار کر جائے گا اس لیے اس سورت کا نام الدّخان رکھا گیا۔ ربط سورۃ: سورۃ الزخرف کا اختتام اس فرمان پر ہوا کہ اگر آپ مشرکین سے سوال کریں کہ تمہیں کس نے پیدا کیا ہے؟ تو ان کا جواب ہوگا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے جو لوگ حقیقت کا اعتراف کرنے کے باوجود ایمان نہیں لاتے ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دینا چاہیے۔ سورۃ الدّخان کی ابتداء بھی قرآن مجید کے تعارف سے کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے مبارک رات میں نازل فرمایا جس میں ہر کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور یہ فیصلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں جو زمین و آسمانوں اور جو ان کے درمیان ہے ان کا رب ہے اگر تم یقین کرنے والے ہو تو تمہیں اس پر ایمان لانا چاہیے۔ سورۃ الدّخان کا پہلا مضمون یہ ہے کہ زمین و آسمانوں کا ایک ہی رب ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہی موت وحیات کا مالک اور سب لوگوں کا رب ہے۔ یہ حقیقت ٹھوس اور واضح ہونے کے باوجود لوگ اس میں شک کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا شک اس وقت ہی دور ہوگا جب ان پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ اس دن آسمان دھوئیں کی مانند ہوگا اور نافرمانوں کو پوری پوری سزا دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ مجرموں سے بدلہ لے گا اس کے بعد فرعون کی غرقابی کا ذکر کیا اور فرمایا کہ ہم نے بنی اسرائیل کو فرعون کے ذلت آمیز مظالم سے نجات دی اور انہیں دنیا کی اقوام پر فضلیت اور برتری عنایت فرمائی۔ بنی اسرائیل نے اپنے رب کا شکر ادا کرنے کی بجائے نافرمانی کا راستہ اختیار کیا جس طرح قوم تبّع نے نافرمانی کی۔ سورۃ کے آخری رکوع میں جہنمیوں کی خوراک کا ذکر کرتے ہوئے بتلایا کہ ان کی غذا زقوم کا درخت ہوگا۔ جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ان کے پیٹ میں کھلبلی پیدا کر دے گا۔ جہنمیوں کے سروں پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا جب یہ چیخ وپکار کریں گے تو کہا جائے گا کہ اپنے کیے کا مزہ چکھو۔ کیونکہ تم دنیا میں اپنے آپ کو بڑا معزز سمجھتے تھے اور قیامت کے دن کے بارے میں شک کا اظہار کیا کرتے تھے۔ جہنمیوں کے مقابلے میں جنتی جنت میں امن وسکون کے ساتھ رہیں گے۔ انہیں پہننے کے لیے ریشم کا لباس دیا جائے گا۔ ان کی بیویاں جنت کی حوریں ہوں گی اور وہ جنت میں ایک دوسرے کے سامنے تکیوں پر بیٹھے ہوئے خوش گپیوں میں مصروف ہوں گے انہیں سب کچھ دیا جائے گا جس کی وہ چاہت کریں گے۔ انہیں پہلی موت کے سوا پھر موت نہیں آئے گی۔ ان پر ان کے رب کا بڑا فضل ہوگا حقیقت میں یہی بڑی کامیابی ہے۔ سورۃ الدّخان کا اختتام اس بات پر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی زبان پر قرآن کو آسان فرما دیا تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ اگر یہ نصیحت حاصل نہیں کرتے تو ان سے ارشاد فرمائیں کہ تم اپنی جگہ انتظار کرو ہم اپنی جگہ انتظار کرتے ہیں۔