سورة الزخرف - آیت 44

وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ ۖ وَسَوْفَ تُسْأَلُونَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور یہ تیرے اور تیری قوم کے لئے ایک نصیحت ہے اور عنقریب تم سے پوچھا جائیگا

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : جس کے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تمسک کرنے کا حکم ہوا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی وحی ہے جو آپ اور آپ کی قوم کے لیے نصیحت ہے اس کا پہلا نقطہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ قرآن مجید وحی کے ذریعے نازل کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کا ذریعہ اور اس کی طرف سے نصیحت ہے۔ جسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور لوگوں کی راہنمائی کے لیے نازل کیا گیا ہے۔ اب لوگوں کافرض ہے وہ اس کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں۔ اللہ تعالیٰ ان سے بات پرس کرے گا۔ جو لوگ قرآن مجید کی آمد اور اس کے منع کرنے کے باوجود شرک کرتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے استفسار فرمائیں جنہیں ہم نے آپ سے پہلے رسول بنایا تھا۔ کیا ہم نے الرحمن کے سوا کوئی اور الٰہ بنایا ہے کہ اس کی عبادت کی جائے؟ ان آیات میں پہلا ارشاد یہ ہے کہ جو قرآن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا گیا ہے وہ آپ اور آپ کی قوم کے لیے نصیحت ہے جو لوگ اسے تسلیم نہیں کرتے اور اس کے بتلائے ہوئے راستے پر گامزن نہیں ہوتے ہم انہیں بہت جلد پوچھ لیں گے۔ پھر ارشاد ہواکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے سے پہلے انبیاء سے پوچھ لیں کہ کیا اللہ تعالیٰ نے اپنے علاوہ کوئی معبود بنایا تھا یا بنایا ہے جس کی یہ لوگ عبادت کریں اس حقیقت کوہر کوئی جانتا تھا اور مانتا ہے کہ پہلے انبیاء آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری سے پہلے فوت ہوچکے تھے۔ اس کے باوجود یہاں یہ الفاظ استعمال کیے گئے ہیں کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! پہلے انبیاء سے سوال کریں۔ اس کا یہ ہرگز معنٰی نہیں کہ پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) جسمانی یا روحانی طور پر دنیا میں موجود تھے۔ جن سے جاکر آپ پوچھتے۔ اس کا معنٰی یہ ہے کہ جو لوگ پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) کی اتباع اور ان کی نبوت کا حوالہ دیتے ہیں آپ ان لوگوں سے سوال کریں کہ اپنے انبیائے کرام (علیہ السلام) کی صحیح تعلیم کے مطابق بتاؤ کہ رب الرّحمن نے کسی آسمانی کتاب میں یہ بات ذکر فرمائی ہے کہ اس نے اپنے سوا یا اپنے ساتھ کسی اور کو الٰہ بنایا ہے کہ جس کی عبادت کی جائے ؟ ظاہر بات ہے کہ کسی آسمانی کتاب میں رب رحمن کے سوا کوئی الٰہ نہیں کہ جس کی عبادت کرناجائز تھی اور نہ ہی قرآن مجید میں رب رحمن کے سوا کسی کو معبود بنانے کا اشارہ ملتا ہے۔ الٰہ کا معنٰی ہے کہ جس کی عبادت کی جائے اور جسے حاجت روا اور مشکل سمجھا جائے وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں۔ لہٰذاصرف اسی کی عبادت کرنا اور اسی کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنا اور ماننا چاہیے۔ مسائل ١۔ قرآن مجید وحی کے ذریعے نازل ہوا اور یہ اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی طرف سے نصیحت ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ اپنی نصیحت کے بارے میں ہر شخص سے باز پرس کرے گا۔ ٣۔ الرحمن کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں کہ جس کی عبادت کی جائے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ ہی عبادت کے لائق، حاجت روا اور مشکل کشا ہے۔ تفسیر بالقرآن الٰہ کے معانی اور مفہوم : ١۔ اللہ کے ساتھ دوسرا الٰہ نہ بناؤ ورنہ بدحال بےیارومددگار ہوجاؤ گے۔ (بنی اسرائیل : ٢٢) ٢۔ اللہ کے سوا کسی اور کو نہ پکارو اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔ (القصص : ٨٨) ٣۔ اگر یہ اِلٰہ ہوتے تو جہنم میں داخل نہ ہوتے۔ (الانبیاء : ٩٩) ٤۔ انہوں نے اللہ کے سوا اِلٰہ بنا لیے ہیں جنہوں نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا۔ (الفرقان : ٣) ٥۔ کیا انہوں نے اللہ کے سوا اپنی مدد کے لیے الٰہ بنا لیے ہیں ؟ (یٰس : ٢٣) ٦۔ زمین و آسمان بنانے اور بارش اتارنے والا اللہ ہے کیا اس کے ساتھ دوسرا الٰہ ہے ؟ (النمل : ٦٠) ٧۔ اللہ نے زمین کو جائے قرار بنایا اس میں پہاڑ اور دو سمندروں کے درمیان پردہ بنایا کیا اس کے ساتھ اور بھی الٰہ ہے؟ (النمل : ٦١) ٨۔ کون ہے جو لاچار کی فریاد رسی کرتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کرتا ہے کیا کوئی اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : ٦٢) ٩۔ خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں اللہ کے سواکون رہنمائی کرتا ہے کیا کوئی اس کے ساتھ الٰہ ہے۔ (النمل : ٦٣) ١٠۔ پہلے اور دوبارہ پیدا کرنا اور زمین و آسمان سے تمہارے لیے روزی کا بندوبست کرنے والا اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ ہے؟ (النمل : ٦٤) ١١۔ تمہارا اِلٰہ ایک ہی ہے اس کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں وہ بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔ (البقرۃ: ١٦٣)