سورة الزخرف - آیت 11

وَالَّذِي نَزَّلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً بِقَدَرٍ فَأَنشَرْنَا بِهِ بَلْدَةً مَّيْتًا ۚ كَذَٰلِكَ تُخْرَجُونَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور جس نے آسمان سے اندازہ سے پانی اتارا پھر ہم نے اس سے مردہ شہر کو ابھارا ۔ اسی طرح تم نکالے جاؤ گے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : جس ذات کبریا نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا اور زمین کو بچھونا بنایا اور اس میں راستے بنائے وہی آسمان سے بارش نازل کرتا ہے۔ قرآن مجید نے درجنوں مقامات پر بارش کو اللہ تعالیٰ کی قد رت کی نشانی کے طور پر پیش فرمایا ہے۔ بارش کے فوائد بتلانے کے ساتھ یہ استدلال بھی لوگوں کے سامنے رکھا کہ بارش پر غور کرو کہ اللہ تعالیٰ کس طرح اسے ایک خاص مقدار اور انداز میں نازل کرتا ہے۔ سورۃ الشوریٰ کی تفسیر میں یہ بات عرض کی ہے کہ کبھی نہیں ہوا کہ بادل پورے کا پورا پانی پرنالے کی طرح ایک ہی جگہ انڈیل دے۔ اللہ تعالیٰ ہواؤں کے ذریعے بادلوں کو نہ صرف ایک جگہ سے دوسری جگہ چلاتا ہے بلکہ پہاڑوں کی مانند دکھائی دینے والے بادلوں کو ہوائیں زمین پر گرنے نہیں دیتیں۔ بادلوں سے اس طرح پانی برستا ہے جس طرح آبشاریں پانی برساتی ہیں۔ اس طرح ہی اللہ تعالیٰ کے حکم کے ساتھ ہر علاقے میں ایک خاص کوٹہ کے مطابق پانی برسایا جاتا ہے۔ لوگوں کے پانی حاصل کرنے کاسب سے بڑا ذریعہ بارش ہے۔ اسی کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ ویران زمین کو ہریالی کا لباس پہناتا ہے جس زمین پر ویرانی کی وجہ سے آنکھ نہیں ٹکتی تھی۔ بارش کے بعد وہی زمین اس طرح سرسبز و شاداب ہوجاتی ہے کہ آنکھ اسے بار بار دیکھ کر ٹھنڈک محسوس کرتی ہے۔ آدمی بارش پر غور کرے تو اسے فوراً اس بات پر یقین آجائے گا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ مردہ زمین سے سبز و شاداب کھیتیاں پیدا کرتا ہے اسی طرح ہی قیامت کے دن لوگوں کو قبروں سے اٹھالے گا۔ (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَا بَیْنَ النَّفْخَتَیْنِ اَرْبَعُوْنَ قَالُوْ یَا اَبَا ھُرَیْرۃَ اَرْبَعُوْنَ یَوْمًا قَالَ اَبَیْتُ قَالُوْا اَرْبَعُوْنَ شَھْرًا قَالَ اَبَیْتُ قَالُوْا اَرْبَعُوْنَ سَنَۃً قَالَ اَبَیْتُ ثُمَّ یُنْزِلُ اللّٰہُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَیُنْبَتُوْنَ کَمَآ یَنْبُتُ الْبَقْلُ قَالَ وَلَیْسَ مِنَ الْاِنْسَانِ شَیْءٌ لَا یَبْلٰی اِلَّاعَظْمًا وَاحِدًا وَّھُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ وَمِنْہُ یُرَکَّبُ الْخَلْقُ یَوْمَ الْقِیَا مَۃِ)[ متفق علیہ] وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِمُسْلِمِ قَالَ کُلُّ اِبْنِ اٰدَمَ یَاکُلُہٗ التُّرَاب الاَّ عَجْبَ الذَّنَبِ مِنْہُ خُلِقَ وَفِیْہِ یُرَکَّبُ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دو صور پھونکنے کا عرصہ چالیس ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے ان کے شاگردوں نے پوچھا چالیس دن ؟ حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا کہ میں یہ نہیں کہتا انہوں نے استفسار کیا چالیس ماہ ہیں؟ حضرت ابوہریرہ (رض) نے جواباً فرمایا میں یہ نہیں کہتا انہوں نے پھر پوچھا چالیس سال ہیں؟ ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں میں یہ بھی نہیں کہتا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائے گا۔ لوگ یوں اگیں گے جس طرح انگوری اگتی ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، انسان کی دمچی کے علاوہ ہر چیز بو سیدہ ہوجائے گی۔ قیامت کے دن اسی سے تمام اعضاء کو جوڑا جائے گا۔ (بخاری و مسلم) اور مسلم کی ایک روایت میں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا انسان کے تمام اعضاء کو مٹی کھا جائے گی۔ لیکن دمچی کو نہیں کھائے گی انسان اسی سے پیدا کیا جائے گا اور جوڑا جائے گا۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ ایک خاص مقدار اور انداز میں آسمان سے بارش نازل کرتا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ ہی بارش کے ذریعے مردہ زمین کو ہریالی بخشتا ہے۔ ٣۔ جس طرح ایک مدت کے بعد بیج زمین سے اگتا ہے اسی طرح ہی قیامت کے دن لوگوں کو زمین سے زندہ کرکے نکالا جائے گا۔ تفسیربالقرآن بارش اور زمین کے حوالے سے انسان کی پیدائش اور اس کی موت کا ثبوت : ١۔ دانے اور گٹھلی کو پھاڑنا، زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ کرنا اللہ ہی کا کام ہے تم کہاں بہک گئے ہو؟ (الانعام : ٩٥) ٢۔ اللہ سے بخشش طلب کرو وہ تمہیں معاف کردے گا اور بارش نازل فرمائے گا اور تمہارے مال و اولاد میں اضافہ فرمائے گا۔ (نوح : ١٠۔ ١٢) ٣۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا۔ (الروم : ٢٠) ٤۔ ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ (المومنون : ١٢) ٥۔ حضرت آدم بد بودار مٹی سے پیدا کیے گئے۔ (الحجر : ٢٦) ٦۔ اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر تمہارے جوڑے جوڑے بنائے۔ (فاطر : ١١) ٧۔ کیا تو اس ذات کا کفر کرتا ہے جس نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے تجھے آدمی بنایا۔ (الکہف : ٣٧)