سورة الشورى - آیت 1

م

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

حم (ف 1)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن سورہ حم ٓ سجدہ کا اختتام اس بات پر ہوا کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ جو شخص اس کا انکار کرتا ہے اس سے بڑا ظالم کوئی نہیں۔ سورۃ الشّوریٰ کا آغاز اس بات سے ہورہا ہے کہ جس طرح قرآن کی شکل میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف وحی کی جاررہی ہے۔ اسی طرح ہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے انبیاء ( علیہ السلام) کی طرف وحی کی جاتی تھی۔ حم ٓ، عسق حروف مقطّعات میں سے ہیں۔ ان کا معنٰی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ” اللہ“ ہی وحی کے ذریعے قرآن مجید آپ کی طرف نازل کررہا ہے۔ اس طرح جیسے اس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر صحائف، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات، حضرت داؤد (علیہ السلام) پر زبور اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) پر انجیل نازل فرمائی اور ان کے علاوہ دوسرے انبیاء کرام (علیہ السلام) پر وحی بھیجی۔ قرآن مجید اس ذات نے نازل فرمایا ہے جو ہر کام کرنے پر غالب ہے اس کے ہر حکم میں دانش ہوتی ہے اور اس کے احکامات محکم ہوتے ہیں۔ وہی زمین و آسمانوں اور ان کی ہر چیز کا مالک ہے۔ وہ اپنی ذات اور صفات کے اعتبار سے بلند وبالا اور عظیم تر ہے۔ یہاں پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجنے کا ذکر فرما کر یہ ثابت کیا ہے کہ جن انبیائے کرام (علیہ السلام) کے بارے میں تمہارا ایمان ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ وحی نازل کرتا تھا۔ اسی طرح تمہارا یہ بھی ایمان ہونا چاہیے کہ وہی ” اللہ“ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی کے ذریعے قرآن نازل کررہا ہے۔ اہل مکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور کچھ اور پیغمبروں کے بارے میں ایمان رکھتے تھے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نازل ہوتی تھی۔ یہودی بالخصوص حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت داؤد ( علیہ السلام) کے بارے میں اور عیسائی عیسیٰ ( علیہ السلام) کے بارے میں یقین رکھتے ہیں کہ ان پر وحی کی جاتی تھی اور وہ اللہ کے پیغمبر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی پیغمبر کا نام لیے بغیر ارشاد فرمایا ہے کہ جس طرح ان پر وحی کی جاتی تھی۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ پر بھی اسی طرح وحی کی جارہی ہے۔ اگر یہ لوگ نہیں مانتے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ پر وحی نازل نہیں ہوتی یا یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے باہر ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں کیونکہ زمین و آسمان اور ان میں جو چیز ہے وہ اللہ کی ملکیت میں ہے اور اللہ اپنی ذات، صفات، اقتدار اور اختیار کے حوالے سے بلندو بالا اور عظیم تر ہے۔ باربار دلائل پیش کرنے کے باوجود یہ لوگ نہیں مانتے تو یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا ہے کہ وہ انہیں مہلت دیے جارہا ہے۔ جب پکڑنے پر آئے گا تو کوئی چیزاس کے سامنے مزاحم نہیں ہوسکے گی۔ ان آیات میں ایک طرف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی ہے اور دوسری طرف قرآن مجید کے مخالفوں کو انتباہ کیا گیا ہے کہ تم بلندو بالا اور عظیم تر ہستی کی دسترس سے باہر نہیں ہو۔ اگر تم اپنی نافرمانیوں کے باوجود بچے ہوئے ہو تو یہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے کہ اس نے تمہیں ایک مقررہ وقت تک مہلت دے رکھی ہے۔ مسائل ١۔ حٰآ عسق حروف مقطعات ہیں۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی نازل فرمائی جس طرح پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) پر نازل کی گئی۔ ٣۔ زمین و آسمان اور ان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ملک ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ بلند بالا، عظیم تر، غالب اور حکمت والا ہے۔ تفسیر بالقرآن ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ملک ہے : ١۔ ہدایت وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ ہدایت قرار دے۔ (البقرۃ: ١٢٠) ٢۔ ہدایت اللہ کے اختیار میں ہے۔ (القصص : ٥٦) ٣۔ وہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ (البقرۃ : ٢١٣) ٤۔ اللہ زندہ کو مردہ اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے۔ (آل عمران : ٢٧) ٥۔ اللہ جسے چاہتا ہے معزز اور جسے چاہتا ہے ذلیل کرتا ہے۔ (آل عمران : ٢٦) ٦۔ اللہ مردے کو زندہ کرنے پر قادر ہے۔ (الاحقاف : ٣٣) ٧۔ عزت ساری کی ساری اللہ ہی کے پاس ہے۔ (فاطر : ١٠) ٨۔ اللہ سب کو موت دے کر دوسری مخلوق پیدا کرسکتا ہے۔ (النساء : ١٣٣) ٩۔ ہر قسم کی عزت اللہ کے لیے ہے وہ سننے اور جاننے والا ہے۔ (یونس : ٦٥)