سورة فصلت - آیت 36

وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور اگر شیطان کے چوک (ف 1) لگانے سے تجھ کو کبھی چوک لگے ، تو اللہ کی پناہ پکڑ بےشک وہی سنتا جانتا ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : مبلّغ کو اپنے بچاؤ کے لیے ہدایات۔ مبلّغ بھی انسان ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان میں دفاع کے لیے غیرت اور غصّہ رکھا ہے۔ اگر انسان میں غیرت اور غصہ نہ ہوتا تو یہ کبھی اپنی عزت اور مال و جان کی حفاظت نہ کرسکتا۔ غیرت کا اظہار اور غصہ کرنا بعض مواقع پر فرض ہے۔ لیکن کچھ مواقع ایسے ہیں جن میں غیرت اور غصہ کا اظہار فائدے کی بجائے نقصان کا باعث ثابت ہوتا ہے۔ بالخصوص اگر الداعی جذباتی اور جھگڑالو ہوگا تو فائدے کی بجائے اپنا اور دین حنیف کا نقصان کربیٹھے گا۔ طبیعت میں غصہ اور طیش آئے تو حکم ہے کہ ” اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ“ پڑھے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر بات سننے والا اور جاننے والا ہے۔ توجہ اور بار بار پڑھنے اس کا غصہ یقیناً رفوہوجائے گا۔ عربی میں عوذ چوپائے کے اس بچے کو کہتے ہیں جو ابتدائی ایّام میں چلنے کے قابل نہیں ہوتا۔ جس وجہ سے گرتے اور لڑکھڑاتے ہوئے چل کر اپنی مامتا کے دودھ تک پہنچتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ” اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ“ پڑھنے والا اس قدر اپنے آپ کو بے بس سمجھ کر پڑھے اور اپنے رب سے پناہ طلب کریں۔ (عن سُلَیْمَان بن صُرَدٍ (رض) قَالَ اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَنَحْنُ عِنْدَہٗ جُلُوسٌ وَأَحَدُہُمَا یَسُبُّ صَاحِبَہٗ مُغْضَبًا قَدْ اِحْمَرَّ وَجْہُہٗ فَقَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنِّی لَأَعْلَمُ کَلِمَۃً لَوْ قَالَہَا لَذَہَبَ عَنْہُ مَا یَجِدُ لَوْ قَالَ أَعُوذ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَان الرَّجِیمِ فَقَالُوا للرَّجُلِ أَلَا تَسْمَعُ مَا یَقُول النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِنِّی لَسْتُ بِمَجْنُونٍ) [ رواہ البخاری : کتاب الأدب، باب الحذر من الغضب] ” حضرت سلیمان بن صرد (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم آپ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے دو آدمیوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موجودگی میں آپس میں گالی گلوچ کی۔ دونوں میں ایک شدید غصے میں تھا وہ دوسرے کو برا بھلا کہہ رہا تھا۔ جس کی وجہ سے اس کا چہرہ سرخ تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں ایسی بات جانتا ہوں اگر وہ اسے پڑھے تو اس کا غصہ جاتا رہے گا۔ :” اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ“ ” میں شیطان مردود سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں۔“ صحابہ کرام (رض) نے اس شخص سے کہا کیا تم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان نہیں سنتے؟ اس شخص نے کہا میں پاگل تو نہیں ہوں۔ یعنی میں نے سن لیا اور اس پر عمل کرتا ہوں۔“ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ: لَیْسَ الشَّدِیْدُ بالصُّرْعَۃِ إِنَّمَا الشَّدِیْدُ الَّذِیْ یَمْلِکُ نَفْسَہٗ عِنْدَ الْغَضَبِ) [ رواہ البخاری : کتاب الأدب، باب الحذر من الغضب] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی کو پچھاڑنے والا طاقتور نہیں ہے طاقتور تو وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔“ (قِیْلَ نَزَلَتِ الْآیَۃُ فِیْ أَبِیْ بَکَرٍ (رض)، فَإِنَّ رَجُلاً شَتَمَہٗ فَسَکَتَ مِرَاراً، ثُمَّ رَدَّ عَلَیْہِ فَقَام النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)، فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ شَتَمَنِیْ وَأَنْتَ جَالِسٌ، فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَیْہِ قُمْتَ، قَالَ إِنَّ مَلِکًا کَانَ یُجِیْبُ عَنْکَ، فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَیْہِ ذَہَبَ ذٰلِکَ الْمَلَکُ وَجَاء الشَّیْطَانْ، فَلَّمْ أَجْلِسُ عِنْدَ مُجِیْءِ الشَّیْطَانِ) (تفسیر الرازی) ” ایک موقعہ پر حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے ایک شخص بد زبانی کر رہا تھا تنگ آکر جناب ابو بکر صدیق (رض) نے اس جیسی زبان استعمال کی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تک آپ صبر اور درگزر کر رہے تھے۔ اس وقت تک آپ کی طرف سے ایک فرشتہ جواب دے رہاتھا جب آپ نے اس کا جواب دیاتو اس کی جگہ شیطان آ گیا۔“ (الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ) [ آل عمران : ١٣٤] ” جو لوگ آسانی اور سختی میں اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نیکو کاروں سے محبت کرتا ہے۔“ مسائل ١۔ غصہ سے نجات پانے کے لیے ” اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ“ پڑھنا چاہیے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں شیطان لعنتی اور پھٹکارا ہوا ہے۔ تفسیربالقرآن تعوذ کی ترغیب اور اس کے فائدے : ١۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جہالت سے پناہ مانگی۔ (البقرۃ: ٦٧) ٢۔ حضرت نوح کو جہالت سے بچنے کا حکم۔ (ہود : ٤٦) ٣۔ جاہلوں سے بحث کی بجائے اجتناب اور اعراض کرنا چاہیے۔ (الفرقان : ٦٣)