سورة غافر - آیت 41

وَيَا قَوْمِ مَا لِي أَدْعُوكُمْ إِلَى النَّجَاةِ وَتَدْعُونَنِي إِلَى النَّارِ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور اسے میری قوم مجھے کیا ہوا کہ میں تمہیں نجات (ف 2) کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے آگ کی طرف بلاتے ہو

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : مرد حق کے خطاب کا آخری حصہ۔ مردِ حق نے اپنی قوم کو پہلی اقوام کی تباہی کے حوالے سے بھی سمجھایا اور پھر دنیا کی بے ثباتی بتلانے کے ساتھ جنت کی نعمتوں کی ترغیب بھی دی۔ مگر قوم سمجھنے کی بجائے الٹا اس پر دباؤ بڑھاتی ہے کہ تجھے یہ دعوت چھوڑ کر اپنی قوم کا ساتھ دینا چاہیے۔ نہ معلوم فرعون اور اس کے ساتھیوں نے مرد مومن پر کتنا دباؤ ڈالا ہوگا۔ جس سے مجبور ہو کر اللہ کا بندہ پکار اٹھتا ہے کہ اے میری قوم! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ میں تمہیں نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے آگ کی طرف بلارہے ہو۔ تم مجھے اس بات کی طرف کھینچتے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراؤں۔ جس کے لیے میرے پاس کوئی علمی آؤڑ عقلی بنیاد نہیں۔ تم مانو یا نہ مانو میں پھر بھی تمہیں اس اللہ کی طرف بلاتا رہوں گا جو ہر اعتبار سے غالب اور اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے والاہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جس بات کی طرف تم مجھے بلاتے ہو اس کا دنیا اور آخرت میں کوئی ثبوت نہیں۔ یادرکھو! ہم سب نے اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا ہے۔ یقین جانو! کہ حد سے آگے نکلنے والے جہنّم کی آگ میں جھونکے جائیں گے جو نصیحت میں تمہیں کررہا ہوں۔ اگر تم نے اسے قبول نہ کیا تو وقت آنے پر تم پچھتاؤ گے اور اس نصیحت کو یاد کرو گے۔ بس میں اپنا کام اللہ کے حوالے کرتا ہوں۔ یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو پوری طرح دیکھنے والا ہے۔ مرد حق نے اپنے خطاب کے اختتام پر شرک کی بے حیثیتی کا ذکر کرتے ہوئے واضح فرمایا کہ شرک کفر ہے اور اس کی بنیاد کسی دلیل پر نہیں اور نہ ہی دنیا اور آخرت میں اس کی قبولیت ہوگی۔ کفار اور مشرکین کو اللہ تعالیٰ جہنّم میں جھونک دے گا۔ بس میں نے اپنا فرض پورا کردیا ہے اب معاملہ ” اللہ“ کے حوالے کرتاہوں جو اپنے بندوں کو ہر حال میں دیکھنے والا ہے۔ مسائل مردِ حق کے خطاب کا خلاصہ : ١۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اس لیے قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے ہیں۔ ٢۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ٹھوس دلائل کے ساتھ سمجھایا ہے کہ میرا اور تمہارا رب صرف ” اللہ“ ہے۔ ٣۔ بالفرض موسیٰ (علیہ السلام) جھوٹے ہیں تو جھوٹ کا وبال انہیں پر ہوگا۔ اگر وہ سچے ہیں تو پھر ” اللہ“ کا عذاب تمہیں آلے گا۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ جھوٹے اور زیادتی کرنیوالے کو ہدایت نہیں دیتا۔ ٥۔ ” اللہ“ کا عذاب نازل ہوا تو ہمیں کوئی بچا نہیں سکے گا۔ ٦۔ میری قوم کے لوگو! اگر تم کفر و شرک پر قائم رہے تو تمہیں قوم نوح (علیہ السلام)، عاد اور ثمود جیسے حالات سے واسطہ پڑے گا۔ ٧۔ اے میری قوم! قیامت کے دن تم ایک دوسرے کو مدد کے لیے بلاؤ گے لیکن اللہ تعالیٰ سے تمہیں کوئی چھڑا نہیں سکے گا۔ ٨۔ اے میری قوم ! تم اللہ تعالیٰ کے ارشادات کے بارے میں بلادلیل جھگڑتے ہو۔ ٩۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے ایماندار بندے کفر و شرک پر ناراض ہوتے ہیں ١٠۔ اللہ تعالیٰ متکبّر اور سرکش انسان کے دل پر گمراہی کی مہر لگا دیتا ہے۔ ١١۔ اے میری قوم! میں تمہیں سیدھے راستے کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے جہنّم کی آگ کی دعوت دیتے ہو۔ ١٢۔ اے میری قوم! یہ دنیا عارضی ہے اور آخرت ہمیشہ رہنے والی ہے۔ ١٣۔ جو برا کام کرے گا وہ اس کے برابر سزا پائے گا۔ جو نیکی کرے گا وہ اس کی جزا پائے گا۔ ١٤۔ جس مردیا عورت نے ایمان کی حالت میں صالح اعمال کیے اسے جنّت میں بے حساب رزق دیا جائے گا۔ ١٥۔ اے میری قوم ! تم مجھے کفر و شرک کی طرف بلاتے ہو اور میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتاہوں جو گناہوں کو معاف کرنے والاہے۔ ١٦۔ اے میری قوم ! جس بات کی طرف تم مجھے دعوت دیتے ہو یہ دنیا اور آخرت میں منظور نہیں ہوگی۔ ١٧۔ اے میری قوم! ہم سب نے اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور اللہ تعالیٰ حد سے نکل جانے والوں کو آگ میں جھونک دے گا۔ ١٨۔ اے میری قوم ! وقت آنے پر تم میری دعوت اور نصیحت کو ضرور یاد کرو گے۔ ١٩۔ اے میری قوم ! میں اپنے کام کو ” اللہ“ کے حوالے کرتا ہوں۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر حال میں اپنے بندوں کو دیکھنے والا ہے۔ تفسیربالقرآن شرک کے حق میں کوئی دلیل نہیں : ١۔ جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی غیر کو پکارتا ہے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ (المؤمنون : ١١٧) ٢۔ انہوں نے اللہ کے علاوہ کئی معبود بنالیے ہیں آپ فرمائیں اس کی دلیل لاؤ۔ (الانبیاء : ٢٤) ٣۔ ” اللہ“ کے سوا کوئی اور الٰہ ہے اگر تم سچے ہو تو اس کی دلیل لاؤ۔ (النمل : ٦٤) ٤۔ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جن کی عبادت کے لیے کوئی دلیل نازل نہیں کی گئی۔ (الحج : ٧١) ٥۔ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہوئے نہیں ڈرتے جس کی اس نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ (الانعام : ٨١) ٦۔ اے لوگو! تمہارے پاس رب کی توحید کی دلیل آچکی ہے۔ (النساء : ١٧٥)