سورة غافر - آیت 21

أَوَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ كَانُوا مِن قَبْلِهِمْ ۚ كَانُوا هُمْ أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَآثَارًا فِي الْأَرْضِ فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ وَمَا كَانَ لَهُم مِّنَ اللَّهِ مِن وَاقٍ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

کیا اور انہوں نے ملک میں سیر نہیں کی کہ دیکھتے کہ ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جو ان سے پہلے تھے ؟ وہ ان سے زور میں بھی بڑھے ہوئے تھے جو زمین میں چھوڑ گئے ۔ سو اللہ نے انہیں ان کے گناہوں پر پکڑا ۔ اور ان کے لئے اللہ سے کوئی بچانے (ف 1) والا نہ تھا

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کو پوری کائنات پر کلی اختیارات حاصل ہیں۔ لیکن معبودان باطل کو کسی قسم کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ اس حقیقت کو دیکھنا چاہو تو زمین میں چل پھر کر دیکھ لو۔ ہلاک ہونے والی اقوام کا سب سے بڑا جرم اپنے رب کے ساتھ شرک کرنا اور انبیائے کرام (علیہ السلام) کی تعلیمات کا انکار کرنا تھا۔ اپنے اپنے اعتقاد اور سوچ کے مطابق ان کا یقین تھا کہ ہمارے دیوتے، بزرگ اور اسباب ہمیں مشکل کے وقت بچا لیں گے۔ اسی طرح ہی مکہ والے اپنے بتوں کے بارے میں اعتقاد رکھتے اور اپنے وسائل پر اتراتے تھے۔ یہاں تک مکہ والوں کے اسباب اور قوت کا معاملہ ہے انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان سے پہلی اقوام اسباب اور قوت کے اعتبار سے ان سے کہیں آگے تھیں۔ ان کی ترقی اور اسباب کا عالم یہ تھا کہ ان میں کسی نے پہاڑوں کے سینے چیر کر ان میں کالونیاں بنائیں اور بڑے بڑے محل تعمیر کیے۔ کسی نے اپنی شان و شوکت کے لیے بڑی بڑی یاد گاریں تعمیر کیں۔ لیکن رب ذوالجلال نے انہیں ان کے جرائم کی بنا پر پکڑا تو ان کے بت، دیوتے، بزرگ اور ان کے وسائل انہیں بچا نہ سکے۔ حالانکہ ان کے پاس ان کے رسول بڑے بڑے معجزات اور ٹھوس دلائل کے ساتھ آئے اور انہیں شب وروز سمجھاتے رہے۔ لیکن انہوں نے کفر ہی اختیار کیے رکھا۔ جس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے انہیں پکڑ لیا۔ اس کی پکڑ بڑی شدید ہوا کرتی ہے کیونکہ وہ بڑی قوت والا اور سخت گرفت کرنے والا ہے۔ مسائل ١۔ ہلاک ہونے والی اقوام اہل مکہ سے زیادہ طاقتور تھیں۔ ٢۔ ہلاک ہونے والی اقوام نے اپنے انبیاء (علیہ السلام) کی تعلیمات کا انکار کیا۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی گرفت کی تو انہیں کوئی نہ بچا سکا۔ تفسیربالقرآن ہلاک ہونے والی چند اقوام کی تباہی کا ایک منظر : ١۔ اللہ تعالیٰ نے حق کی تکذیب کرنے والوں کو انکے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کر کے دوسری قوم کو پیدا فرمایا۔ (الانعام : ٦) ٢۔ اللہ تعالیٰ نے قوم نوح کو غرق کردیا۔ (الشعراء : ١٢٠) ٣۔ آل فرعون نے اللہ کی آیات کی تکذیب کی اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے گناہوں کیوجہ سے ہلاک کردیا۔ (الانفال : ٥٤) ٤۔ بستی والوں نے جب ظلم کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کردیا۔ (الکہف : ٥٩) ٥۔ قوم عاد نے جھٹلایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا۔ (الشعراء : ١٣٩) ٦۔ قوم تبع اور ان سے پہلے مجرموں کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کردیا۔ (الدخان : ٣٧) ٧۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی طرف وحی کہ کہ وہ ظالموں کو ضرور ہلاک کرے گا۔ (ابراہیم : ١٣) ٨۔ ہم کسی بستی والوں کو اس وقت تک ہلاک نہیں کرتے جب تک ان میں ڈرانے والے نہ بھیج دیں۔ (الشعراء ٢٠٨)