سورة غافر - آیت 13

هُوَ الَّذِي يُرِيكُمْ آيَاتِهِ وَيُنَزِّلُ لَكُم مِّنَ السَّمَاءِ رِزْقًا ۚ وَمَا يَتَذَكَّرُ إِلَّا مَن يُنِيبُ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

وہی ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھلاتا اور تمہارے لئے آسمان سے روزی اتارتا ہے اور سوچتا وہی ہے جو رجوع رہتا ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : جس ایک ” اللہ“ کے ساتھ مشرک شرک کرتے ہیں صرف وہی تو ہے جو سب کو رزق دیتا ہے۔ مگر مشرک اس کی خالص عبادت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ مشرک کی عادت اور بد قسمتی پر غور فرمائیں کہ جو ” اللہ“ اسے اور سب کو آسمانوں سے رزق فراہم کرتا ہے۔ اسے حقیقی داتا ماننے کے لیے تیار نہیں اور نہ اس کی خالص عبادت کرنے کے لیے آمادہ ہوتا ہے۔ شرک کی نحوست اور جہالت کی وجہ سے مشرک اس قدر اپنے رب سے ذہنی اور عملی طور پر دور ہوچکا ہوتا ہے کہ جوں ہی اللہ تعالیٰ کی وحدت اور توحیدِخالص کا ذکر ہو۔ مشرک کو ایسی بات نہایت ہی گراں گزرتی ہے۔ جس وجہ سے مشرک نصیحت پانے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ حقیقی نصیحت کی ابتدا اور انتہا صرف توحید کو سمجھنا اور اس کے تقاضے پورے کرنا ہے۔ اس سے بڑی کوئی حقیقی نصیحت نہیں جو آخرت میں انسان کے کام آسکے۔ ” اللہ تعالیٰ نے کئی بار بارش کو اپنی توحید کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے جس کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ ” اللہ“ ہی تمہارے لیے آسمان سے رزق نازل کرتا ہے۔ اس سے مراد اکثر مفسرین نے بارش لی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بارش رزق کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے ہر چیزکی زندگی کا انحصار پانی پر رکھا ہے۔“ (الانبیاء : ٣٠) بارش تو ایک ذریعہ ہے کیونکہ رزق کے بارے میں ارشاد ہے۔ اے لوگو! جس رزق کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ آسمانوں میں ہے۔ (الذٰریات : ٢٢) اگر صرف بارش کے حوالے سے بات کی جائے تو غور فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ بارش کا کس طرح انتظام کرتا ہے۔ اس اللہ کی قدرت سے سمندر کا پانی بخارات کے ذریعے اوپر جاتا ہے اور اس کے حکم سے ہوا بخارات اٹھائے پھرتی ہے۔ پھر بخارات بادل بنتے ہیں اور بادلوں کو برسنے کا حکم ہوتا ہے۔ (الاعراف : ٥٧) اس پورے نظام میں دنیا کے حکمران، کسی ستارے، دیوتا اور فوت شدگان کا کوئی عمل دخل نہ ہے اور نہ ہوگا۔ اس لحاظ سے بارش اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے جو ہر دور کے انسانوں کو اللہ تعالیٰ دکھلاتا آرہا ہے اور دکھلاتا رہے گا۔ مگر اس کے باوجود کافر اور مشرک نہ اس کو ایک الٰہ مانتے ہیں اور نہ اسی ایک کی عبادت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس لیے مومنوں کو حکم ہے کہ کفار کو یہ دعوت اور یہ طریقہ عبادت کتنا ہی برا لگے۔ تمہارا فرض ہے کہ وہ اپنے رب کے حکم کے مطابق صرف اور صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ وہی بلندو بالا اور عرش کا مالک ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے وحی نازل کرتا ہے۔ جس پر وحی کی جائے وہ لوگوں کو قیامت کی ہولناکیوں سے ڈرائے۔ جس دن لوگ اپنے اپنے مدفن سے نکل کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوں گے اور ان کی کوئی بات اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہ ہوگی۔ رب ذوالجلال فرمائے گا کہ آج کس کی بادشاہی ہے ؟ بالآخر خود جواب دے گا کہ آج اکیلے اللہ قہار کی بادشاہی ہے۔ پھر اعلان ہوگا کہ بے شک آج ایک اللہ قہار کی بادشاہی ہے لیکن اس کے باوجود کسی پر رتی برابر بھی زیادتی نہ ہونے پائے گی۔ ہر کسی کو اس کے عمل کے مطابق بدلہ دیا جائے گا۔ اے لوگو! ہوش کرو! تمہارا رب بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ آیت ١٥ میں درج ذیل چار الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ 1 رَفِیْعُ الدََّرَجَاتِ: اس کے مفسرین نے دو معنٰی کیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی ذات، صفات، رفعت مکانی اور علوِّمرتبت کے لحاظ سے لاثانی، بے مثال اور اعلیٰ ہے اور وہی اپنے فضل سے مومنوں کے درجات بلندفرمانے والا ہے۔ 2 ذُوالْعَرْشِ بڑے عرش والا جس کے بارے میں عرش عظیم اور عرش کریم کے الفاظ بھی استعمال فرمائے ہیں۔ 3 یُلْقِی الرُّوْحَ: الرّوح کے کئی معانی ہیں جن میں ایک معنٰی وحی ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اپنی وحی کے لیے منتخب کرتا ہے۔ جن بندوں کو اس نے اپنی وحی کے لیے منتخب کیا۔ ان میں آخری اللہ کے بندے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں جو اللہ کے آخری رسول ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد قیامت تک کوئی رسول اور نبی نہیں آئے گا۔ رسولوں کا کام لوگوں تک حق بات پہچانا تھا منوانا نہیں تھا۔ 4 یَوْمَ التَّلَاقِ: مختلف مراحل کے حوالے سے قیامت کے کئی نام ہیں ان میں ایک نام ” یَوْمَ التَّلَاقِ“ ہے جس کا معنٰی ملاقات کا دن ہے۔ اس میں ہر شخص بلاواسطہ اپنے رب کے حضور پیش ہوگا اور اسے اپنے اچھے اعمال کی جزا ملے اور برے اعمال کی سزا ہوگی۔ (عَنْ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَطْوِی اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ السَّمَوَاتِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ثُمَّ یَأْخُذُہُنَّ بِیَدِہِ الْیُمْنَی ثُمَّ یَقُولُ أَنَا الْمَلِکُ أَیْنَ الْجَبَّارُوْنَ أَیْنَ الْمُتَکَبِّرُوْنَ ثُمَّ یَطْوِی الأَرَضِینَ بِشِمَالِہِ ثُمَّ یَقُولُ أَنَا الْمَلِکُ أَیْنَ الْجَبَّارُوْنَ أَیْنَ الْمُتَکَبِّرُوْنَ)[ رواہ مسلم : باب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ آسمان کو قیامت کے دن لپیٹ لے گا پھر اس کو دائیں ہاتھ میں پکڑے گا، پھر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں۔ کہاں ہیں جابر لوگ؟ کہاں ہیں تکبر کرنے والے؟ پھر زمین کو بائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھر اعلان ہوگا میں بادشاہ ہوں کہاں ہیں جابر لوگ؟ اور کہاں ہیں تکبر کرنے والے ؟“ (عَنْ عَاءِشَۃَ (رض) قَالَتْ قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تُحْشَرُونَ حُفَاۃً عُرَاۃً غُرْلًا قَالَتْ عَاءِشَۃُ فَقُلْتُ یَا رَسُول اللّٰہِ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ یَنْظُرُ بَعْضُہُمْ إِلٰی بَعْضٍ فَقَالَ الْأَمْرُ أَشَدُّ مِنْ أَنْ یُہِمَّہُمْ ذَاکَ)[ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب کیف الحشر] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بغیر ختنے کے جمع کیے جاؤ گے حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول! کیا مرد اور عورتیں ایک دوسرے کی طرف نہیں دیکھیں گے ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس دن معاملہ اس قدر شدید ہوگا کہ انھیں اس کا خیال تک بھی نہیں آئے گا۔“ بارش کی دعا : (اللّٰہُمَّ اسْقِ عِبَادَکَ وَبَہِیمَتَکَ وَانْشُرْ رَحْمَتَکَ وَأَحْیِ بَلَدَکَ الْمَیِّتَ)[ رواہ ابو داؤد : باب رَفْعِ الْیَدَیْنِ فِی الاِسْتِسْقَاءِ] ” اے اللہ اپنے بندوں اور جانوروں کو بارش کے ذریعے پانی پلا اور اپنی رحمت کو پھیلاتے ہوئے مردہ زمین کو زندہ کردے“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے بلندوبالا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ عرش عظیم کا مالک ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں جس پر چاہتا ہے وحی نازل کرتا ہے۔ وحی کا ایک مقصد آخرت کے عذاب سے لوگوں کو ڈرانا ہے۔ ٤۔ رب ذوالجلال سے لوگوں کی کوئی بات پوشیدہ ہے اور نہ رہے گی۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سوال کرے گا کہ آج کس کی بادشاہی ہے ؟ ٦۔ قیامت کے دن ہر کسی کو اس کے عمل کے مطابق جزا یا سزا دی جائے گی۔ ٧۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی پر رائی کے دانے برابر زیادتی نہ ہوگی۔ ٨۔ اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب لینے والاہے۔ تفسیربالقرآن بارش کس طرح نازل ہوتی ہے : ١۔ ہوائیں بخارات اٹھاتی اور بادلوں کو چلاتی ہیں۔ (الاعراف : ٥٧) ٢۔ آسمان سے بارش نازل ہونے، بارش سے زمین کو زندہ کرنے، چوپایوں کے پھیلنے، ہواؤں کے چلنے اور بادلوں کے مسخر ہونے میں نشانیاں ہیں۔ (البقرۃ : ١٦٤) ٣۔ تم اللہ سے مغفرت طلب کرو اور اس کی طرف رجوع کرو وہ آسمان سے تمہارے لیے بارش نازل فرمائے گا اور تمہاری قوت میں اضافہ فرما دے گا۔ (ہود : ٥٢) ٤۔ اللہ سے بخشش طلب کرو وہ معاف کردے گا اور بارش نازل فرمائے گا اور تمہارے مال و اولاد میں اضافہ فرمائے گا۔ (نوح : ١٠۔ ١٢)