سورة الزمر - آیت 68

وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَن شَاءَ اللَّهُ ۖ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَىٰ فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنظُرُونَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور صور (ف 2) پھونکا جاوے گا اور تمام زمین اور آسمان والوں کے ہوش اڑ جائیں گے مگر جس کو خدا چاہے پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا ۔ تو وہ اسی وقت کھڑے ہوجائیں گے ۔ کہ دیکھ رہے ہوں گے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : جس قیامت کا پچھلی آیت میں ذکر ہوا ہے اس کی ابتدا یوں ہوگی۔ اللہ تعالیٰ جب قیامت برپا کرنے کا فیصلہ فرمائے گا تو اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا۔ یونہی اسرافیل صور پھونکیں گے تو جو بھی جاندار آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں وہ بے ہوش ہوکرگرپڑیں گے۔ سوائے اس کے جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔ اس کے بعد پھر اسرافیل کو دوسری مرتبہ حکم ہوگا جونہی صور پھونکا جائے گا تو سب لوگ اپنی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اس فرمان میں ” اِلّا مَنْ شَاءَ“ فرما کر کچھ لوگوں کا استثناء کیا ہے کہ وہ بے ہوش ہونے سے بچ جائیں گے۔ حدیث مبارکہ میں کھلے الفاظ میں یہ ذکر نہیں ملتا کہ اللہ تعالیٰ کس کس کو بے ہوش ہونے سے محفوظ رکھے گا۔ البتہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ ایسی مخلوق بھی ہوگی جو بے ہوش نہیں ہوگی۔ بعض اہل علم نے غیر مستند روایات کے حوالے سے کچھ شخصیات کا نام لیا ہے۔ اس سے چاروں فرشتے یعنی جبرائیل، میکائیل، اسرافیل اور عزرائیل مراد لیے ہیں۔ بعض نے اس میں حاملین عرش کو بھی شامل کیا ہے اور بعض نے انبیاء، صلحاء اور شہداء کو بھی۔ لیکن حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں میں سے کوئی بھی اس بے ہوشی سے نہ بچے گا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی بے ہوش ہوں گے تو دوسرے کیسے بچ سکتے ہیں۔ ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ مدینے کے بازار میں ایک یہودی نے قسم کھا کر کہا اس ذات کی جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بشریت (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہ فضیلت عطا فرمائی ایک انصاری اٹھا اس نے اس کے چہرے پہ تھپڑ مارتے ہوئے کہا تو اس طرح کہتا ہے جب کہ اللہ کے نبی ہم میں موجود ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا صور پھونکا جائے گا آسمانوں اور زمین کی ہر چیز بے ہوش ہوجائے گی مگر وہی بچے گا جسے اللہ چاہے، پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا سارے کے سارے رب کے روبرو پیش ہوجائیں گے آپ نے فرمایا : میں سب سے پہلے سر اٹھاؤں گا موسیٰ (علیہ السلام) کو عرش کا پایہ تھامے ہوئے پاؤں گا۔ میں نہیں جانتا موسیٰ (علیہ السلام) نے مجھ سے پہلے سر اٹھایا یا وہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کو اللہ کی طرف سے استثنا حاصل ہے جس نے کہا میں یونس بن متی سے بہتر ہوں اس نے جھوٹ بولا۔“ [ رواہ الترمذی : باب وَمِنْ سُورَۃِ الزُّمَرِ]