سورة آل عمران - آیت 121

وَإِذْ غَدَوْتَ مِنْ أَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِينَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور جب تو صبح اپنے گھر سے نکلا اور مسلمانوں کو لڑائی کے ٹھکانوں پر بٹھلانے لگا ، اور خدا سنتا جانتا ہے ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : کفار کا مسلمانوں کو نقصان پہنچانا اور اس پر خوش ہونے کی پہلی مثال غزوۂ احد ہے۔ جس کا نقشہ پیش کیا جار رہا ہے۔ بدر میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عظیم الشان فتح سے نوازا تھا۔ شکست سے بچنے کے لیے نظم و ضبط‘ حوصلہ اور تقو ٰی نہایت ضروری ہے۔ مسلمانوں نے ٢ ہجری ١٧ رمضان المبارک کے دن بدر کے میدان میں اہل مکہ کو شکست فاش دی تھی۔ جس کا بدلہ لینے کے لیے مکہ والوں نے شوال ٣ ہجری میں مدینہ پر یلغار کردی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دفاعی منصوبہ بندی کے لیے مشاورت کا اہتمام فرمایا جس میں آپ کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ مدینہ سے باہر جانے کے بجائے شہر میں رہ کر دفاع کیا جائے۔ عبداللہ بن ابی اور منافقین نے اس بات کی بھرپور تائید کی۔ لیکن صحابہ (رض) کی اکثریت کی رائے یہ تھی کہ مدینہ سے باہر نکل کر جنگ کرنا چاہیے۔ چنانچہ جمعہ ادا کرنے کے بعد آپ نے مدینہ سے باہر نکلنے کا فیصلہ فرمایا۔ آپ اپنے گھر تشریف لائے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر (رض) نے آپ کی دو زرہیں پہننے میں معاونت کی۔ جب آپ جرنیلی شان کے ساتھ گھر سے باہرنکلے تو صحابہ کرام (رض) نے اپنی رائے پر نظر ثانی کرتے ہوئے عرض کی کہ ہمیں آپ کی رائے کے مطابق مدینے میں ہی دفاع کرنا چاہیے لیکن ارشاد ہوا کہ نبی کی شان اور غیرت کے منافی ہے کہ وہ پختہ عزم کرنے کے بعد فیصلہ کن جنگ کیے بغیر جنگی لباس اتار دے۔ اس طرح آپ احد کے قریب پہنچے اور ہفتہ کی صبح کو مورچہ بندی کا آغاز فرمایا۔ جونہی مورچہ زن ہونے کا آغاز ہوا تو عبداللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر اس احتجاج کے ساتھ واپس ہوا کہ ہماری رائے کا احترام نہیں کیا گیا۔ منافقین کے اس اقدام نے کفار کے حوصلے بڑھائے جبکہ مسلمانوں میں سراسیمگی پھیلی۔ یہاں تک کہ بنو سلمہ اور بنو حارثہ کے لوگوں نے بھی واپس جانے کے لیے چہ میگوئیاں کیں۔ ان آیات میں اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے کہ مسلمانو! وہ وقت یاد کرو۔ جب اللہ کا رسول تمہاری صف بندی کر رہا تھا اور عین اس وقت تم میں سے دو گروہوں نے کم ہمتی کا مظاہرہ کرنا چاہا لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں ثابت قدم رکھا کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ محبت رکھتا تھا جس کی وجہ سے وہ ایسا نہ کرسکے۔ مومنوں کو چاہیے کہ حالات اچھے ہوں یا برے ہر حال میں اللہ پر بھروسہ کرتے رہیں۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرمایا کرتے تھے کہ اس آیت میں ہماری کمزوری کی نشان دہی کی گئی ہے جس میں ہماری پستی کا پہلو نکلتا ہے لیکن باوجود اس کمزوری کے ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کا فرمان اعزاز کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے ” وَلِیُّھُمَا“ کا ارشاد فرما کر ہمیں اپنی محبت اور دوستی کا اعزاز بخشا ہے۔ (عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ (رض) یَقُوْلُ فِیْنَا نَزَلَتْ (إِذْ ھَمَّتْ طَّاءِفَتَانِ مِنْکُمْ أَنْ تَفْشَلَا وَاللّٰہُ وَلِیُّھُمَا) قَالَ نَحْنُ الطَّاءِفَتَانِ بَنُوْ حَارِثَۃَ وَبَنُوْ سَلِمَۃَ وَمَانُحِبُّ أَنَّھَا لَمْ تُنْزَلْ لِقَوْلِ اللّٰہِ (وَاللّٰہُ وَلِیُّھُمَا) [ رواہ البخاری : کتاب التفسیر، باب إذ ھمت طائفتان منکم أن تفشلا] ” حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی تھی کہ جب تم میں سے دو جماعتیں ہمت ہارنے کا سوچ چکی تھیں۔ کہتے ہیں ہم دو جماعتیں بنو حارثہ اور بنو سلمہ تھے ہمارے جذبات کے برعکس یہ آیت نازل ہوئی جبکہ اس میں ہے کہ اللہ دونوں گروہوں کا سر پرست اور مددگار ہے۔“ مسائل ١۔ مومنوں کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ ٢۔ جہاد میں بزدلی دکھانا اللہ تعالیٰ کو ہرگز پسند نہیں۔ ٣۔ اللہ کی رحمت شامل حال ہو تو آدمی کی بگڑی حالت درست ہوجاتی ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کن کا دوست؟ ١۔ اللہ مومنوں کا دوست ہے۔ (آل عمران : ٦٨) ٢۔ اللہ متقین کا دوست ہے۔ (الجاثیۃ: ١٩) ٣۔ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کو روشنی کی طرف لاتا ہے۔ (البقرۃ: ٢٥٧) ٤۔ اللہ کے دوستوں کو کوئی خوف و غم نہیں ہوگا۔ (یونس : ٦٢)