سورة الزمر - آیت 20

لَٰكِنِ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّن فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِيَّةٌ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۖ وَعْدَ اللَّهِ ۖ لَا يُخْلِفُ اللَّهُ الْمِيعَادَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

لیکن (ف 1) جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لئے بالاخانے ہیں ۔ ان کے اوپر اور بالاخانے بنے ہوئے ہیں ان کے نیچے (ف 2) نہریں بہتی ہیں ۔ اللہ کا وعدہ ہے ۔ اللہ وعدہ خلاف نہیں کرتا

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : احسن بات کو قبول کرنے اور طاغوت سے بچنے والوں کا صلہ۔ طاغوت سے بچنے اور اپنے رب سے ڈر کر زندگی گزارنے والے کو ان کا رب جنت کے بلند وبالا محلات اور اعلیٰ مقامات میں داخل فرمائے گا۔ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ متقین کے ساتھ ان کے رب کا وعدہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ تقویٰ کیا ہے : ” اللہ کی ذات، احکام اور اس کے شعائرکے احترام کرنے کا نام تقویٰ ہے۔“ (الحج : ٣٢) ” تقویٰ نام ہے اللہ کے احکام پر عمل پیرا ہونے اور اس کی نافرمانیوں سے بچنے کا۔“ (النور : ٥٢) ” تقویٰ نام ہے سمع و اطاعت کے باوجود اپنے رب سے ڈرتے رہنے کا۔“ (التغابن : ١٦) (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ فِی الْجَنَّۃِ ماءَۃَ دَرَجَۃٍ أَعَدَّہَا اللّٰہُ لِلْمُجَاہِدِینَ فِی سَبِیل اللّٰہِ مَا بَیْنَ الدَّرَجَتَیْنِ کَمَا بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللّٰہَ فَاسْأَلُوہُ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّہٗ أَوْسَطُ الْجَنَّۃِ وَأَعْلَی الْجَنَّۃِ أُرَاہُ فَوْقَہٗ عَرْشُ الرَّحْمَنِ وَمِنْہُ تَفَجَّرُ أَنْہَارُ الْجَنَّۃِ) [ رواہ البخاری : کتاب الجہاد والسیر، باب درجات المجاہدین فی سبیل اللہ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے جنت میں سودرجے مجاہدین کے لیے تیار کیے ہیں دو درجوں کے درمیان زمین و آسمان کے برابر فاصلہ ہے۔ جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو اس سے جنت الفردوس مانگا کرو۔ بلاشبہ وہ جنت کے درمیان اور سب سے اعلیٰ جنت ہے میں نے دیکھا کہ اس کے اوپر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے اور اس سے ہی جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں۔“ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ (رض) عَنْ أَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِنَّ لِلْمُؤْمِنِ فِی الْجَنَّۃِ لَخَیْمَۃً مِنْ لُؤْلُؤَۃٍ وَاحِدَۃٍ مُجَوَّفَۃٍ طُوْلُھَا سِتُّوْنَ مِیْلًا لِلْمُؤْمِنِ فِیْھَا أَھْلُوْنَ یَطُوْفُ عَلَیْھِمُ الْمُؤْمِنُ فَلَا یَرٰی بَعْضُھُمْ بَعْضًا) [ رواہ مسلم : کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا وأھلھا، باب فی صفۃ خیام الجنۃ ....] ” حضرت عبداللہ بن قیس اپنے باپ سے اور وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ جنت میں مومن کے لیے موتی کا ایک ایسا خیمہ ہوگا جس کی لمبائی ساٹھ میل ہوگی وہاں مومن کے گھر والے ہوں گے جن کے ہاں وہی جائے گا۔ جنتی ایک دوسرے کے ہاں جھانک نہیں سکیں گے۔“ مسائل ١۔ متقین کو جنت کے محلات میں داخل کیا جائے گا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے ساتھ جنت کا وعدہ ہے جو ہر صورت پورا ہوگا۔ تفسیربالقرآن جنت اور اس کی نعمتیں : ١۔ ہم ان کے دلوں سے کینہ نکال دیں گے اور سب ایک دوسرے کے سامنے تکیوں پر بیٹھے ہوں گے۔ انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔ (الحجر : ٤٧۔ ٤٨) ٢۔ جنت کے نیچے سے نہریں جاری ہیں اور اس کے پھل اور سائے ہمیشہ کے لیے ہوں گے۔ (الرعد : ٣٥) ٣۔ جنت میں بے خار بیریاں، تہہ بہ تہہ کیلے، گھنا سایہ، چلتا ہوا پانی، اور کثرت سے میوے ہوں گے۔ (الواقعۃ: ٢٨ تا ٣٠) ٤۔ جنت کے میوے ٹپک رہے ہوں گے۔ (الحاقۃ: ٢٣) ٥۔ جنت میں وہ سب کچھ ہوگا جس کی جنتی خواہش کرے گا۔ (حٰم السجدۃ: ٣١) ٦۔ جنت میں نیچی نگاہ رکھنے والی حوریں ہوں گی جنہیں کسی جن وانس نے چھوا تک نہیں ہوگا۔ ( الرحمن : ٥٦) ٧۔ جنت میں محبت کرنے والی ہم عمر حوریں ہوں گی۔ ( الواقعہ : ٣٧) ٨۔ حوریں نوجوان، کنواریاں اور ہم عمرہوں گی۔ (الواقعہ : ٢٥ تا ٣٨)