سورة الزمر - آیت 8

وَإِذَا مَسَّ الْإِنسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهُ مُنِيبًا إِلَيْهِ ثُمَّ إِذَا خَوَّلَهُ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِيَ مَا كَانَ يَدْعُو إِلَيْهِ مِن قَبْلُ وَجَعَلَ لِلَّهِ أَندَادًا لِّيُضِلَّ عَن سَبِيلِهِ ۚ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِيلًا ۖ إِنَّكَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور جب آدمی کو رنج پہنچے تو اپنے رب کو اسی کی طرف رجوع ہوکر پکارتا ہے ۔ پھر جب وہ اسے اپنی طرف سے نعمت بخشتا ہے تو جس مطلب کی طرف پہلے اسے پکارتا تھا ۔ اس مطلب کو بھول جانا ہے ۔ اور اللہ کے لئے شریک ٹھہراتا ہے تاکہ اس کی راہ سے اوروں کو بھی بہکائے تو کہہ تھوڑے دنوں اپنے کفر کے ساتھ فائدہ اٹھالے (اخیر) تو تو دوزخی ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اس سورۃ کی تیسری آیت میں فرمایا گیا ہے کہ مشرک اپنے عقیدہ اور بات میں جھوٹا ہے۔ اب اس کے جھوٹ کا عملی ثبوت پیش کیا جارہا ہے۔ یہاں انسان سے مراد مشرک انسان ہے۔ مشرک کو تکلیف پہنچتی تو وہ اٹھتا، بیٹھتا، چلتا، پھرتا، رات اور دن اپنے رب کو پکارتا اور اس کے حضور فریادیں کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جب بیماری کے بعد صحت، تنگی کے بعد فراخی اور غم کے بعد اسے خوشی نصیب کرتا ہے تو مشرک کو نہ اپنی فریادیں یاد رہتی ہیں اور نہ ہی رب یاد رہتا ہے۔ رب کو یاد رکھنا تو دور کی بات وہ نام و نہاد مسلمان کہلوانے کے باوجوداس بات کا دعویٰ اور پرچار کرتا ہے کہ میری حاجت روائی اور مشکل کشائی فلاں بزرگ اور مزار کے طفیل اور صدقے سے ہوئی ہے۔ اگر وہ کلمہ گو نہیں تو بتوں یا کسی اور چیز کا نام لیتا ہے۔ اس طرح دوسروں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتا ہے۔ خود گمراہ ہونے کے ساتھ جھوٹی کرامات اور من گھڑت کہانیوں سے دوسروں کو بھی گمراہ کرتا ہے۔ اس شخص کو کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت اور اپنے کفر سے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لے بالآخر تو نے جہنم میں جانا ہے۔ قرآن مجید کے کئی مقامات پر شرک کو کفر سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس لیے سورۃ الکافرون پارہ ٣٠ میں مکہ کے مشرکوں کو کافر کے لفظ کسے مخاطب کیا ہے کیونکہ کفر اور شرک نتیجہ کے اعتبار سے ایک ہیں۔ اس سے پہلی آیت میں شرک کو نا شکری کہا گیا اور اب شرک کو کفر قرار دیا گیا ہے۔ مشرک کے مقابلے میں مومن کا کردار یہ ہے کہ وہ مشکلات اور پریشانیوں میں بھی اپنے رب کو پکارتا اور رات کی تاریکیوں میں اٹھ کر اس کے حضور قیام، سجود اور اس کی بارگاہ میں رو روکر فریاد پر فریاد کرتا ہے۔ کہ اے میرے پالنہار مجھے آخرت کی سختیوں سے مامون فرما۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے پوچھیں کیا علم والے اور علم نہ رکھنے والے برابر ہو سکتے ہیں ؟ ظاہر بات ہے یہ برابر نہیں ہو سکتے نصیحت تو عقل والے ہی حاصل کرتے ہیں۔ گویا کہ علم کے ساتھ عقل کی بہت ضرورت ہے اور صحیح عقل والا وہ ہے جو کفر و شرک اور اپنے رب کی نافرمانی سے بچے اور آخرت کا فکر کرے۔ یہاں مشرک کو بے علم بھی قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ حقیقی علم اور عقل رکھنے والا شخص اپنے رب کے ساتھ نہ کفر کرتا ہے اور نہ ہی کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا ہے۔ (عَنْ أَبِی یَعْلٰی شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الْکَیِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَہُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَہُ ہَوَاہَا ثُمَّ تَمَنَّی عَلَی اللّٰہِ)[ رواہ ابن ماجۃ: باب ذکر الموت والاستعداد لہ] ” حضرت ابو یعلیٰ شداد بن اوس (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عقلمند وہ ہے جو اپنے آپ کو پہچانتا ہے اور مرنے کے بعد فائدہ دینے والے اعمال سر انجام دیتا ہے۔ نادان وہ ہے جس نے اپنے آپ کو اپنے نفس کے پیچھے لگا اور اس کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہے۔“ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَنْ مَّاتَ یُشْرِکُ باللّٰہِ شَیْءًا دَخَلَ النَّارَ وَقُلْتُ أَنَا مَنْ مَّاتَ لَا یُشْرِکُ باللّٰہِ شَیْءًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ) [ رواہ البخاری : کتاب الجنائز، باب ماجاء فی الجنائز] ” حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو کوئی اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا وہ جہنم میں جائے گا اور میں کہتا ہوں جس شخص نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا اور وہ اسی حال میں فوت ہوا وہ جنت میں جائے گا۔“ مسائل ١۔ مشرک صرف مصیبت کے وقت خالصتاً اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے۔ ٢۔ مشرک مصیبت ٹل جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے۔ ٣۔ شرک اور کفر ایک دوسرے کے مترادف ہیں۔ ٤۔ مشرک آگ میں داخل کیے جائیں گے۔ ٥۔ علم والے اور علم نہ رکھنے والے برابر نہیں ہوسکتے۔ گویا کہ مشرک جاہل ہے اور توحید والا صاحب علم ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن توحید اور شرک میں فرق : ١۔ توحید سب سے بڑی سچائی ہے۔ (المائدۃ: ١١٩، النساء : ٨٧، ١٢٢) ٢۔ شرک سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ (ھود : ١٨) ٣۔ توحید عدل ہے۔ (آل عمران : ١٨) ٤۔ شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔ (لقمان : ١٣) ٥۔ توحید دانائی ہے۔ (بنی اسرائیل : ٣٩) ٦۔ شرک بیوقوفی ہے۔ (الجن : ٤) ٧۔ توحید سب سے بڑی نیکی ہے۔ (البقرۃ : ١٧٧) ٨۔ شرک سب سے بڑا گناہ ہے۔ (النساء : ٤٨) ٩۔ توحید فرمانبرداری کا نام ہے۔ (النحل : ٤٨، الرعد : ١٥) ١٠۔ شرک بغاوت ہے۔ (یونس : ٢٣) ١١۔ شرک حقیقت کو چھپانا ہے۔ (البقرۃ: ٤٢) ١٢۔ توحید سب سے بڑی گواہی ہے۔ (آل عمران : ١٨، الانعام : ١٩، الروم : ٣٠)