سورة ص - آیت 1

ص ۚ وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

صٓ قسم ہے اس قرآن نصیحت کرنے والے کی (کہ بےشک یہ ہمارا انکار ہوا ہے)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن سورۃ الصّٰفّٰت کے اختتام پر ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ یا کسی اور کو اپنی اولاد قرار نہیں دیا اور اللہ تعالیٰ مشرکوں کی یا وہ گوئی سے مبّرا ہے۔ اس کی طرف سے انبیائے کرام (علیہ السلام) پر ہمیشہ رحمت کا نزول ہوتا رہے گا۔ سورۃ صٓ ابتدا میں قرآن مجید کو الذّکر قراردیا گیا ہے۔ الذّکر کا معنٰی نصیحت اور خیرخواہی ہے۔ کافر اور مشرک خیر خواہی قبول کرنے کی بجائے اس کی مخالفت میں آکر کہتے ہیں کہ یہ نبی کذّاب اور جادوگر ہے۔ ” ص“ حروف مقطعات میں سے ہے۔ اس حرف کا بھی مفہوم بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن اس کی بھی وہی حقیقت ہے جو دوسرے حروف مقطعات کی ہے۔ یعنی اللہ اور اس کے رسول کے بغیر اس کا حقیقی مفہوم کوئی نہیں جانتا۔ حرف ” و“ قسم کے لیے لا یا گیا ہے۔ معنٰی یہ ہوگا کہ اس پیکر نصیحت قرآن مجید کی قسم ! یہ لوگ اس قرآن کا انکار اس لیے نہیں کرتے کہ انہیں قرآن سمجھ نہیں آرہا ہے یا قرآن کوئی انوکھی بات کررہا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ غرور اور تکبر کی بنا پر اس کا انکار کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کے سامنے تفصیل کے ساتھ باربار بیان ہوچکا ہے کہ ان سے پہلے جس جس نے حق کے ساتھ تکبر اور اپنے نبی کا انکار کیا اس کا انجام کیا ہوا؟ جب ان کے تکبر اور انکار کی وجہ سے اللہ کا عذاب نازل ہوا تو وہ چیخ و پکار اور آہ وزاریاں کرتے رہے لیکن اس وقت انہیں مہلت نہ دی گئی۔ لہٰذا مکہ والو! سوچ لو ! کہ جب تم پر عذاب کا کوڑا برسے گا تو تمہیں بھی مہلت نہ مل سکے گی نہ ہی تمہیں کوئی بچانے والا ہوگا۔ ” کیا ان کو صرف یہی انتظار ہے کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود اللہ تعالیٰ آئے یا تیرے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی آئے۔ نشانی سے مردار عذاب ہے جس دن ” اللہ“ کے عذابوں میں سے کوئی عذاب آئے گا تو جو شخص اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہوگا یا اس نے ایمان لانے کے بعد کوئی نیکی کا کام کیا ہوگا اس کا ایمان اسے ہرگز فائدہ نہیں دے گا۔ فرما دیجیے کہ تم انتظار کرو ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔“ (الانعام : ١٥٩) تکبر کیا ہے؟ (عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لَا یَدْخُلُ الجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِنْ کِبْرٍ فَقَالَ رَجُلٌ اِنَّ الرَّجُلَ یُحِبُّ اَنْ یَّکُوْنَ ثَوْبُہٗ حَسَنًا وَ نَعْلُہٗ حَسَنًا قَالَ اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی جَمِیْلٌ یُّحِبُّ الجَمَالَ اَلْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَ غَمْطُ النَّاسِ) [ رواہ مسلم : باب تحریم الکبر وبیانہ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ ایک آدمی نے آپ سے عرض کی کہ ایک شخص پسند کرتا ہے کہ اس کے کپڑے اور جوتے اچھے ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ خوبصورت ہے خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔ تکبر حق بات کو چھپانا اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے۔“ لغت کے مطابق ” عِزَّۃٍ“ کا معنٰی طاقتور ہونا ،” شِقَاقٍ“ کا معنٰی مخالفت اور دشمنی ہے۔” مَنَاصٍ“ کا معنٰی جھگڑا کرنے کے ہیں۔ گویا کہ قرآن کے مخالفوں میں یہ تینوں باتیں پائی جاتی تھیں جس شخص میں یہ تینوں عیب پائے جائیں اس کا ہدایت قبول کرنا مشکل ہوتا ہے۔ مسائل ١۔ قرآن مجید نصیحت کا مرقع ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سی متکبر قوموں کو تباہ و برباد کردیا ہے۔ ٣۔ قرآن کا انکار کرنے والے کسی معقول عذر کی وجہ سے نہیں بلکہ تکبر کی بنا پر اس کا انکار کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید کے اوصاف حمیدہ کی ایک جھلک : ١۔ قرآن مجید لاریب کتاب ہے۔ (البقرۃ: ١) ٢۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ (آل عمران : ١٣٨) ٣۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے کھلی کتاب ہے۔ (ھود : ١) ٤۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔ (البقر ۃ: ١٨٥) ٦۔ قرآن مجید کے نزول کا مقصد لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لانا ہے۔ (ابراہیم : ١) ٥۔ قرآن مجید برہان اور نور مبین ہے۔ (النساء : ١٧٤)