سورة الصافات - آیت 99

وَقَالَ إِنِّي ذَاهِبٌ إِلَىٰ رَبِّي سَيَهْدِينِ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور بولا میں اپنے رب کی طرف جاتا ہوں وہ عنقریب مجھے ہدایت کریگا

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : آگ سے نکلنے کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہجرت کرنے کا فیصلہ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ پہلے سے آپ کو معلوم نہ تھا کہ مجھے کدھر جانا ہے وطن چھوڑتے وقت آپ نے کہا۔ بس میں اللہ کے بھروسے پر نکل رہا ہوں وہ جدھر رہنمائی کرے گا میں چلا جاؤں گا۔ صاحب قصص القرآن نے لکھا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) نے دوران ہجرت پہلا قیام کلدانین میں فرمایا۔ کچھ عرصہ جہاں قیام کرنے کے بعد آپ ( علیہ السلام) بمعہ حضرت سارہ اور لوط (علیہ السلام) کے حاران نامی بستی میں قیام پذیر ہوئے۔ کچھ عرصہ تک حاران نامی بستی میں ٹھہرے۔ یہاں بھی دین حنیف کی دعوت کا کام جاری رکھا۔ بالآخر آپ اپنی رفیقہ حیات اور بھتیجے کے ساتھ ارض فلسطین میں تشریف لے گئے۔ (وَنَجَّیْنَاہُ وَلُوْطًا إِلَی الْأَرْضِ الَّتِی بَارَکْنَا فِیْہَا لِلْعَالَمِیْنَ) [ الانبیاء : ٧١] ” پھر ہم لوط (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) کو ظالموں سے نکال کر ارض مقدس کی طرف لے گئے جو اس دنیا کے لیے برکت والی ہے۔“ فلسطین میں قیام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بھتیجے لوط (علیہ السلام) کو شرق اردن میں تبلیغ کے لئے مقرر فرمایا اور فلسطین کے مغربی اطراف میں خود سکونت پذیر ہوئے۔ اس زمانے میں یہ علاقہ کنعانیوں کے زیر اقتدار تھا۔ یہاں کچھ عرصہ قیام فرمانے کے بعد آپ مصر کی طرف چلے گئے۔ (از قصص القرآن) نازک ترین آزمائش : حضرت امام بخاری (رح) نے تفصیل کے ساتھ ایک حدیث صحیح بخاری میں نقل فرمائی ہے۔ جس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ایک ایسی آزمائش کا ذکر ہے کہ ایسے موقعہ پر بڑے بڑے لوگوں کے اوسان خطا ہوجایا کرتے ہیں لیکن جناب خلیل (علیہ السلام) بڑے حوصلہ کے ساتھ اپنی رفیقہ حیات کو ایک تجویز سمجھاتے ہیں۔ ” جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور بی بی سارہ ایک ظالم حکمران کے ملک سے گزرے تو اسکے نوکر چاکروں نے بادشاہ کو کہا کہ ہمارے شہر میں ایک مسافر آیا ہے جس کی عورت بہت ہی خوبصورت ہے۔ ظالم بادشاہ نے حکم دیا، ابراہیم کو فوراً میرے سامنے پیش کرو۔ آپ سے پوچھا گیا کہ یہ عورت کون ہے؟ ابراہیم نے کہا یہ میری بہن ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بادشاہ سے فارغ ہو کر حضرت سارہ کے پاس آئے اور کہا اے سارہ! اس سرزمین میں میرے اور تیرے سوا کوئی مومن نہیں اور ظالم بادشاہ نے مجھے پوچھا ہے کہ تیرے ساتھ عورت کون ہے؟ میں نے تجھے اپنی بہن کہا ہے۔ تو بھی اس کے سامنے بہن بتلانا۔ ایسا نہ ہو میں جھوٹا ہوجاؤں۔ اس ظالم بادشاہ نے حضرت بی بی سارہ کو جبرا منگوایا۔ جب وہ اس کے پاس پہنچائی گئیں تو ظالم نے دست اندازی کی کوشش کی لیکن دھڑام نیچے گرا۔ فریاد کرنے لگا اے نیک خاتون اپنے رب سے میری عافیت کی دعا کر میں تجھے کچھ نہیں کہوں گا۔ آپ کی دعا سے وہ اچھا ہوگیا پھر دوسری مرتبہ زیادتی کی کوشش کی۔ دوبارہ پھر پہلے کی طرح یا اس سے بھی زیادہ اللہ کی گرفت میں آیا۔ التجا کی۔ اے نیک عورت۔ اب پھر دعا کر میں اچھا ہوجاؤں تو تجھے کچھ نہیں کہوں گا۔ حضرت سارہ ( علیہ السلام) نے دعا کی۔ اللہ کے فضل وکرم سے وہ پھر تندرست ہوا۔ اس بار اس نے اپنے نوکر کو بلا کر کہا تم اچھی عورت میرے پاس لائے ہو یہ عورت ہے یا شیطان ؟ ( بے شرم اپنی بے شرمی کو مٹانے کے لیے ایسا کہہ رہا تھا حالانکہ شیطان لعین وہ خودتھا اس نے ہاجرہ[ کو سارہ (علیہ السلام) کی خدمت میں دے دیا۔ جب سارہ [ جناب ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں آئیں تو آپ اللہ کے حضور نماز میں مصروف تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نماز کی حالت میں اشارہ کرتے ہیں کیا کہ معاملہ ہوا؟ حضرت سارہ (علیہ السلام) نے عرض کیا، اللہ ذوالجلال نے کافر وفاجر کی شرارت کو اس کے اوپر الٹ دیا ہے۔ سارا ماجرا ذکر کیا اور کہا بالآخر اس نے اپنی اس لڑکی کو خادمہ کے طور پر میرے حوالے کردیا ہے۔ جناب ابوہریرہ (رض) نے یہ حدیث مبارکہ ذکر کرنے کے بعد فرمایا۔ اے بارش پر پلنے والو۔ یعنی اے عرب قوم یہی تو تمہاری والدہ ہاجرہ[ ہیں۔“ [ رواہ البخاری : باب قول اللہ تعالیٰ واتخذ اللہ ابراہیم خلیلا ] تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہی راہنمائی کرنے والا ہے اسی سے راہنمائی طلب کرنی چاہیے : ١۔ اللہ کی راہنمائی کے بغیر کوئی ہدایت نہیں پا سکتا۔ (الاعراف : ٤٣) ٢۔ اللہ مومنوں کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ (الانعام : ١٦١) ٣۔ ” اللہ“ صراط مستقیم کی راہنمائی کرنے والا۔ ( الحج : ٥٤) ٤۔ ہم نے قوم ثمود کی راہنمائی کی مگر انہوں نے ہدایت کے بدلے جہالت کو پسند کیا۔ (حٰآ السجدۃ: ١٧) ٥۔ ہدایت وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ ہدایت قرار دے۔ (البقرۃ: ١٢٠) ٦۔ ہدایت اللہ کے اختیار میں ہے۔ (القصص : ٥٦) ٧۔ وہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ (البقرۃ : ٢١٣) ٨۔ ہدایت جبری نہیں اختیاری چیز ہے۔ (الدھر : ٣) ٩۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی کسی کو ہدایت نہیں دے سکتے تھے۔ (القصص : ٥٦)