سورة يس - آیت 80

الَّذِي جَعَلَ لَكُم مِّنَ الشَّجَرِ الْأَخْضَرِ نَارًا فَإِذَا أَنتُم مِّنْهُ تُوقِدُونَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

جس نے تمہارے فائد کے لئے سبز درخت (ف 1) سے آگ پیدا کی ہے ۔ پھر اب تم اسی سے آگ سلگاتے ہو

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے منکر کو اس کی پیدائش کا حوالہ دے کر قیامت قائم ہونے کا ثبوت دیا جاتا ہے۔ اس سے پہلی آیت میں یہ فرمایا کہ اگر انسان کو اپنی تخلیق یاد ہو تو وہ قیامت کا انکار نہ کرے اور نہ ہی اس کے بارے میں بحث وتکرار کرے۔ کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ نے ہی پہلی بار پیدا کیا ہے اور وہ سب کچھ پیدا کرنا جانتا ہے۔ اس نے نہ صرف انسان کو مٹی سے پیدا کیا ہے بلکہ تمہارے لیے ہر بھرے درخت سے آگ پیدا کی ہے جس سے تم آگ حاصل کرتے ہو۔ کیا انسان اس پر بھی غور نہیں کرتا کہ جس نے انسان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا اور جس نے سبز درخت میں آگ پیدا کی اور جس نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا۔ کیا اب وہ انہیں پیدا کرنے کی قدرت نہیں رکھتا؟ کیوں نہیں! وہ تو بڑی سے بڑی چیز پیدا کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ اس کی طاقت اور اختیارات کا عالم یہ ہے کہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو صرف اتنا حکم صادر فرماتا ہے کہ ہوجا۔ وہ چیز اس کی منشاء کے مطابق معرض وجود میں آجاتی ہے۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے انسان کو دوبارہ پیدا کرنے کا ثبوت دیتے ہوئے چار دلائل دئیے ہیں۔ 1 پہلے انسان اپنی تخلیق پر غور کرے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا پھر ہر انسان کو اس کے ماں باپ کے نطفہ سے پیدا کرتا ہے اب نطفہ پر غور کریں کہ اللہ تعالیٰ اس سے کس طرح انسان کو پیدا کرتا ہے۔ 2 وہ انسان کو اس لیے دوبارہ پیدا کرسکتا ہے اور کرے گا کیونکہ اس نے اسے پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے۔ ظاہر ہے جو کسی میٹریل اور پہلے سے موجودہ نقشے کے بغیر انسان کو پیدا کرسکتا ہے تو دوبارہ کیوں نہیں پیدا کرسکتا؟ اس کے ثبوت اس سے پہلی آیت کی تفسیر بالقرآن میں دئیے گئے ہیں۔ 3 انسان اپنی محدود عقل کے مطابق سمجھتا ہے کہ انسان مر کر مٹی کے ساتھ مل جائے گا تو اس کے ذرّات کو مٹی سے الگ کرنا پھر اس کا ڈھانچہ بنانا اور اس میں زندگی پیدا کرنا مشکل ہے۔ اس باطل عقیدہ کے حامل شخص کو ایک ایسے درخت کے ذریعے آخرت کا عقیدہ سمجھایا گیا ہے جس سے پرانے زمانے کے عرب آگ حاصل کیا کرتے تھے۔ انہیں توجہ دلائی گئی ہے کہ غور کرو۔ درخت اپنے بیج کی بنیاد پر مٹی اور پانی کے جوہر سے اگتا ہے اور اس کے پتے اور ٹہنیاں انتہائی سبز ہوتی ہیں۔ جن میں ایک خاص مقدار میں پانی ہوتا ہے مگر جب تم اس کی ٹہنیوں کو آپس میں رگڑتے ہو تو اس سے آگ نکلتی ہے حالانکہ دونوں چیزیں آپس میں متضاد ہیں۔ جو ذات سبز اور تروتازہ ٹہنی سے آگ نکال سکتی ہے کیا وہ مٹی سے بنے ہوئے انسان کو دوبارہ پیدا نہیں کرسکتی؟۔ یہ اشارہ مرخ اور عفار نامی دو درختوں کی طرف ہے جن کی ہری بھری ٹہنیوں کو لے کراہل عرب ایک دوسرے پر مارتے تو ان سے آگ جھڑنے لگتی۔ قدیم زمانے میں عرب کے بدو آگ جلانے کے لیے چقماق استعمال کرتے تھے اور ممکن ہے دور دراز کے صحراؤں میں رہنے والے بادیہ نشین آج کل ایسا کرتے ہوں۔ 4 قیامت کا منکر انسان اپنی سمجھ کے مطابق دوبارہ پیدا ہونے کو انوکھا اور بڑا کام سمجھتا ہے کیا وہ غور نہیں کرتا کہ زمین و آسمان اس کے وجود اور اس کی تخلیق کے اعتبار سے بڑے نہیں ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے ہی انہیں پیدا کیا ہے اور وہ پوری مخلوق اور اس جیسی دوسری مخلوقات کو دوبارہ پیدا کرسکتا ہے۔ کیونکہ وہ بڑا ہی خلّاق اور علیم ہے۔ اسے پیدا کرنے کے لیے کسی بنے بنائے نقشے اور میٹریل کی ضرورت نہیں جب وہ کسی کام یا چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو صرف ” کُنْ“ کا لفظ بولتا ہے اور وہ چیز عین اس کی مرضی کے مطابق بن جاتی ہے۔ مسائل ١۔ منکرین قیامت کو بتلائیں کہ وہی ” اللہ“ انہیں دوبارہ پیدا کرے گا جس نے پہلی مرتبہ انہیں پیدا کیا ہے۔ ٢۔ اسی نے ہرے بھرے درخت سے آگ پیدا کی جس سے تم آگ حاصل کرتے ہو۔ ٣۔ وہی ذات کبریا ہے جس نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور وہ جب چاہے اس جیسی مخلوق پیدا کرسکتا ہے۔ ٤۔ صرف ایک ” اللہ“ ہی سب کچھ پیدا کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ جب کوئی کام کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو صرف کن فرماتا ہے اور وہ کام اس کی مرضی کے مطابق ہوجاتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہر کام کرنے پر قادرہے : ١۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے (البقرۃ: ٢٠) ٢۔ اللہ تعالیٰ آسمانوں و زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (آل عمراٰن : ٢٩) ٣۔ تم جہاں کہیں بھی ہوگے اللہ تمہیں قیامت کے دن جمع فرمائیگا وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرۃ: ١٤٨) ٤۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے عذاب دے جسے چاہے معاف کردے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرۃ: ٢٨٤) ٥۔ آسمان و زمین کی بادشاہت ” اللہ“ ہی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (آل عمران : ١٨٩) ٦۔ اللہ اپنے ہر کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (یوسف : ٢١) ٧۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ ہی کے لیے ہے۔ اللہ نے ہر چیز کو اپنے احاطہ قدرت میں لے رکھا ہے۔ (النساء : ١٢٦) ٨۔ لوگ جو کچھ کرتے ہیں ان سب چیزوں کو اللہ نے احاطہ میں لے رکھا ہے۔ (النساء : ١٠٨) ٩۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے کہا کہ بے شک میرے رب نے جو تم کرتے ہو اس کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ (ھود : ٩٢) ١٠۔ جو وہ عمل کرتے ہیں اللہ نے اس کا احاطہ کر رکھا ہے۔ (آل عمران : ١٢٠) ١١۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا اپنے علم کے ذریعہ احاطہ کر رکھا ہے۔ (الطلاق : ١٢)