سورة يس - آیت 62

وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنكُمْ جِبِلًّا كَثِيرًا ۖ أَفَلَمْ تَكُونُوا تَعْقِلُونَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور اس نے تم میں بہت خلقت کو بہکایا ۔ سو کیا تم سمجھتے نہ تھے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : رب رحمٰن نے بنی آدم سے عہد لینے کے ساتھ ہی بتا دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے اس لیے اس سے بچنا اور صرف میرا ہی حکم ماننا اور میری ہی بندگی کرنا۔ خالق حقیقی سے عہد کرنے کے باوجود لوگوں کی اکثریت نے شیطان کی پیروی کی۔ جسے شیطان کی عبادت قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ عبادت میں اطاعت شرطِ اوّل ہے۔ البتہ ہر اطاعت بندگی اور عبادت میں شامل نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے ناصرف لوگوں سے اپنی عبادت کرنے کا عہد لیاتھا بلکہ انہیں اس بات سے بھی آگاہ کیا تھا کہ شیطان تمہارا دشمن ہے اس سے ہر صورت بچے رہنا۔ لیکن لوگوں کی اکثریت شیطان کے پیچھے چل کر گمراہ ہوئی اور انہوں نے اتنی بھی عقل اور غیرت نہ کی کہ وہ اپنے ازلی دشمن کے پیچھے نہ چلے۔ یاد رہے کہ اللہ کے سوا کسی سے دعا کرنا، اس کے سامنے جھکنا، سجدہ کرنا اور نذرو نیاز پیش کرنا اور شریعت کو چھوڑ کر کسی دوسرے کا حکم ماننا۔ حقیقت میں یہ شیطان کی عبادت کرنا ہے۔ عبادت میں ہر قسم کی تابعداری شامل ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت کرنا کفر اور شرک ہے جس سے منع کیا گیا ہے ایسے لوگوں کو کہا جائے گا کہ یہ جہنم ہے جس کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا۔ لہٰذا شیطان کی عبادت کرنے کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوجاؤ۔ مسائل ١۔ لوگوں کی اکثریت کو شیطان گمراہ کردیتا ہے۔ ٢۔ عقل مند وہ ہے جو شیطان کی پیروی کرنے سے بچا رہے۔