سورة آل عمران - آیت 83

أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

کیا وہ خدا کے دین کے سوا کوئی اور دین تلاش کرتے ہیں ؟ حالانکہ جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے اپنی خوشی اور زور سے اسی کے حکم میں ہے ‘ اور اسی کی طرف پھرجائیں گے (ف ١)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب اور اللہ کے نافرمانوں کو بار بار سوچنا چاہیے کہ تمہاری بد عہدی اور نافرمانی سے رب کی خدائی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ زمین و آسمان کی ہر چیز اپنے خالق و مالک کی تابعدار ہے۔ جب ساری مخلوق تابعدار اور تمام انبیاء نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا اقرار اور اس سے عہد کیا تو تم نبوت کا انکار اور اللہ کی بغاوت کرنے والے کون ہوتے ہو؟ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے احکامات ماننے کا نام دین ہے۔ اے اہل کتاب اور دنیا جہان کے لوگو! کیا اللہ تعالیٰ کی اطاعت چھوڑ کر کسی اور کی تابعداری کرنا چاہتے ہو ؟ ذراغور کرو اور سوچو کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اس کی فرمانبرداری میں لگی ہوئی ہے۔ سورج اس کے حکم کے مطابق ڈیوٹی دے رہا ہے، چاند اس کی اطاعت میں اپنی منازل طے کرتا ہے، ستارے اسی کے نظام کے مطابق چھپتے اور ظاہر ہوتے ہیں۔ دریا اور سمندر اس کے حکم سے رواں دواں ہیں۔ ہوائیں اس کی فرمانبرداری میں چلتی اور رکتی ہیں، رات اور دن اس کے حکم سے ایک دوسرے کے آگے پیچھے چل رہے ہیں جونہی حکم ہوگا پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے، ہوائیں تھم جائیں گی، سمندر جامد ہوجائیں گے، سورج اپنا رخ موڑلے گا، اور لیل ونہار کی گردشیں رک جائیں گی گویا کہ پورے کا پورا نظام لفظ ” کُنْ“ سے جامد، ساکت اور الٹ پلٹ ہوجائے گا۔ جب پورا نظام اللہ تعالیٰ کی سمع وطاعت اور اس کے حکم سے انسان کی خدمت میں لگا ہوا ہے تو حیف ہے انسان پر جو اس کی ذات کا انکار اور اس کے حکم سے سرتابی کرتے ہوئے پورے نظام کے ساتھ بغاوت اور اس کے خلاف چلتا ہے۔ لہٰذا انتباہ کے انداز میں سوال کیا جا رہا ہے کیا اللہ تعالیٰ کے نظام قدرت کے خلاف چلنا چاہتے ہو ؟ جب کہ زمین و آسمان کی ہر چیز چاروناچار اس کے حکم کی فرمانبردار ہے۔ لفظ ” کَرْھًا“ استعمال فرما کر باغی انسانوں کو متنبہ کیا جارہا ہے کہ وہ اللہ ہواؤں کا رخ موڑدیتا ہے، سمندروں کو پرسکون بنا دیتا ہے، پہاڑوں کو پھاڑکر چشمے چلا دیتا ہے، شمس وقمر اپنے وجود عظیم کے باوجود اس کے سامنے بے بس ہیں، آسمان اپنی بلندیوں کے باوجود اس کے زیر تسلط ہیں، زمین کی وسعت وکشادگی اس کی کرسی اقتدار کے سامنے ایک انگوٹھی کے مانند ہے تو اے انسان! تم اس رب کی دسترس سے کس طرح باہر ہوسکتے ہو؟ اس کی دی ہوئی مہلت کے بعد بالآخر تم نے اسی کے حضور پیش ہونا ہے۔ دین کی روح اور مدعا اللہ تعالیٰ کی سمع وطاعت کا نام ہے اور یہی انبیاء کرام کی دعوت ہے اور اسی پر وہ ایمان لائے اور اسی کی اطاعت کرتے رہے۔ لہٰذا اے رسول! تم اس بات کا اعلان کرو کہ میں ہی نہیں بلکہ ہم سب کے سب اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور جو کچھ ہم پر اور ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، موسیٰ اور عیسیٰ پر نازل کیا گیا ہم ان میں سے کسی ایک کی نبوت کی نفی اور ان کے درمیان تفریق نہیں کرتے اور ہم اسی کے ماننے والے ہیں اور یہی انبیاء کا دین اور طریقۂ حیات تھا۔ جو بھی اس طرز بندگی اور سمع وطاعت کے طریقہ سے ہٹ کر زندگی بسر کرے گا اس کی کوئی نیکی اور کاوش اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول نہیں ہوگی اور اس کا انجام بالآخر نقصان پانے والوں میں ہوگا۔ مسائل ١۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تابع فرمان ہے۔ لہٰذا جن و انس کو بھی اللہ کی اطاعت کرنا چاہیے۔ ٢۔ سب نے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ ٣۔ اسلام کے سوا دوسرادین قبول نہیں کیا جائے گا۔ ٤۔ ایمان کا تقاضا ہے کہ انبیاء کی کتابوں کا من جانب اللہ ہونا بلاتفریق تسلیم کیا جائے۔ ٥۔ دین اسلام کے خلاف چلنے والا بالآخر نقصان اٹھائے گا۔ تفسیربالقرآن اسلام کی اہمیّت : ١۔ اسلام کے بغیر کوئی دین قبول نہیں۔ (آل عمران : ٨٥) ٢۔ اللہ کے نزدیک پسندیدہ دین اسلام ہے۔ (آل عمران : ١٩) ٣۔ یوسف (علیہ السلام) کی اسلام پر موت کی دعا۔ (یوسف : ١٠١) ٤۔ سب کو اسلام پر ہی مرنے کا حکم۔ (البقرۃ: ١٣٢)