سورة يس - آیت 34

وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّاتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ وَفَجَّرْنَا فِيهَا مِنَ الْعُيُونِ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور ہم نے اس میں سے کھجور اور انگور کے باغ لگائے اور ان میں چشمے جاری کریں

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : جو ذات زمین سے دانہ اگاتی ہے اسی ذات نے کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے ہیں۔ عرب میں کھجور اور انگور کے باغ کثرت سے پائے جاتے تھے۔ صحراء میں رہنے والے لوگ عام طور پر کھجور پر ہی گزارا کرتے تھے۔ متمدن لوگ کھجور اور انگور کو مختلف طریقوں کے ساتھ خوراک کے طور پر استعمال کرتے اور کھجور اور انگور سے کئی قسم کے مشروبات تیار کرتے اور اسی سے شراب بناتے تھے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔ جن لوگوں کو کھجور اور انگورکا مشترکہ باغ دیکھنے کا موقع ملاہے وہ جانتے ہیں کہ اس سے پُر کشش باغ کسی اور درخت کا نہیں ہوتا۔ خاص طور پر انگوروں اور کھجوروں کے جس باغ میں پانی کے چشمے جاری ہوں اس کی ہریالی اور خوبصورتی کا اَن دیکھے تصور کرنا محال ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے باغات اور چشموں کو اپنی قدرت کی نشانی کے طور پر پیش فرمایا ہے اور مشرکین کو اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اپنے رب کی قدرتوں کی طرف دیکھو کہ اس نے تمہارے لیے کس قسم کے باغات پیدا کیے تاکہ تم ان کے ثمرات سے لطف اندوز ہو سکو کیا پھر تم اپنے رب کا شکر ادا نہیں کرتے۔ نمک حرامی کی حد یہ ہے کہ مشرک اپنے رب کی نعمتیں کھاتا ہے لیکن اس کے سامنے جھکنے کی بجائے دوسروں کے سامنے جھکتا ہے جنہوں نے اس کے لیے ایک ذرہ بھی پیدا نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شرک سے پاک ہے۔ اسی نے نباتات کو جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا اور اسی نے انسانوں کے جوڑے بنائے۔ اس نے ان چیزوں کے جوڑے پیدا کیے ہیں جو لوگوں کے احاطۂ علم سے باہر ہیں۔ انسان شروع ہی سے صرف اپنے بارے میں جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرد وزن کی شکل میں جوڑے پیدا کیے ہیں لیکن یہ حقیقت بہت کم لوگ جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین سے اگنے والی ہر چیز کو ازواج کی شکل میں پیدا فرمایا ہے۔ عرب، کھجور کے بارے میں کسی حد تک علم رکھتے تھے کہ کھجور کی نسل میں نر اور مادہ پائے جاتے ہیں اس سے آگے نباتات کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتے تھے یہ حقیقت پہلی دفعہ قرآن مجید نے لوگوں کے سامنے آشکارا کی ہے کہ نباتات میں بھی ازواج ہوتے ہیں۔ ” زَوْجٌ“ کی جمع ” اَزْوَاجٌ“ ہے جس کا معنٰی جوڑا ہے یعنی نر اور مادہ، میٹھا اور پھیکا وغیرہ۔ لیکن یہاں صرف کھجور اور انگور کے بارے میں کچھ معلومات دی جاتی ہیں۔ کیونکہ ان کو دیگر پودوں پر ایک امتیاز اور برتری حاصل ہے۔ یوں تو تمام نباتات اور پودے خالق ارض و سماء کے پیدا کیے ہوئے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان پودوں کا اپنے کلام میں تذکرہ فرما کر ان پودوں کا نام ابد الآباد تک کلام الٰہی میں محفوظ کردیا گیا ہے۔ کھجور قرآنی نام : ١۔ نَخْل، نَخِیل، نَخْلَۃ دیگر نام : Date (انگریزی )، Datte (فرانسیسی)، Tamar-Tamarim (عبرانی )، کھجور (اردو، پنجابی، ہندی)، خرما (فارسی )، کھرجور (سنسکرت) کرجور و (کشمیری)۔ نباتاتی نام : (Phoenix dactylifera Linn. (Family: Palmae /Aracaceae ) قرآنی ارشادات کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے متعدد بار ان احسانوں اور مہربانیوں کا ذکر کیا ہے جو اس نے پھلوں کی صورت میں انسان پر کیے ہیں۔ جس پھل اور درخت کا حوالہ سب سے زیادہ دیا گیا ہے وہ کھجورہے۔ اس کا بیان مختلف الفاظ میں قرآن کریم میں بیس مرتبہ آیا ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ کھجور کی کاشت آٹھ ہزار سال قبل جنوبی عراق میں شروع ہوئی تھی۔ اس وقت دنیا میں کہیں بھی پھلدار پودوں کی کھیتی کا تصور تک نہ تھا۔ کھجور کا پھل انسان کے لیے بہترین غذا ہے۔ اس کی غذائیت کا اندازہ اس کے کیمیاوی اجزاء سے کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس میں تقریباً ساٹھ فیصد Invert sugar اور Sucrose کے علاوہ اسٹارچ، پروٹین، Cellulose,pe ctin,Tannin اور چربی مختلف مقدار میں موجود ہیں۔ علاوہ ازیں اس میں وٹامن اے، وٹامن بی، وٹامن بی ٹو اور وٹامن سی بھی پائے جاتے ہیں۔ اس کے معدنیاتی اجزاء بھی بہت اہمیت کے حامل ہیں، یعنی یہ سوڈیم، کیلشیم، سلفر، کلورین، فاسفورس اور آئرن، سے بھرپور ہے۔ کھجور میں نر اور مادہ ہوتے ہیں۔ دونوں کے پھولوں کے ذریعہ (Cross Polination) ہوتا ہے۔ تب ہی مادہ پودوں میں پھل آتے ہیں۔ ایک نر درخت کے پھول ایک سو مادہ درختوں کے (Polination) کے لیے کافی سمجھے جاتے ہیں۔ (تفصیل کے دیکھیں الانعام : ١٤٧) انگور انگور کا شمار قدرت کی بہترین نعمتوں میں کیا جاتا ہے۔ اسی لیے قرآن حکیم میں اس کا ذکر ” عِنْبٌ“ اور ” اَعْنَابٌ“ (جمع) کے نام سے گیارہ آیات میں کیا گیا ہے۔ انگور فارسی کا لفظ ہے جس کا نباتاتی نام Vitis Vinifera ہے۔ کھجور کے بعد انگور کی تاریخ بھی پھلوں میں سب سے قدیم مانی جا سکتی ہے۔ انگور کی قسمیں آٹھ ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ کیمیاوی طور سے انگور، گلوکوز اور فرکٹوزکا بہترین ذریعہ ہے جو اس میں پندرہ سے پچیس فیصد تک پائے جاتے ہیں اس کے سوا Tartaric acid اور Malic acid بھی خاصی مقدار میں ملتے ہیں۔ سوڈیم پوٹاشیم، کیلشیم اور آئرن کی قابل قدر مقدار اس میں موجود ہے جبکہ پروٹین اور چربی برائے نام ہے۔ اس میں ایک بہت اہم کمپاؤنڈ بھی دریافت ہوا ہے جس کو وٹامن ” پی“ (P) کہا گیا ہے۔ یہ کیمیاوی جز ذیابیطس سے پیدا شدہ خون کے بہنے کو روکتا ہے۔ جسم کے ورم اور نسوں کی سوجن کو کم کرتا ہے اور Athe rosclerosis کا مؤثر علاج ہے۔ کیمیاوی اجزاء کی بنا پر انگور ایک ایسا لاجواب ثمر ہے جو نہایت ہاضم ہونے کے ساتھ انتہائی فرحت بخش اور Demulcent ہے۔ خون کو صاف کرتا ہے اور جسم میں خون کی مقدار بڑھاتا ہے اور جسمانی کمزوری کو دور کرتا ہے۔ کچے انگور کا رس گلے کی خرابیوں میں مفید سمجھا جاتا ہے۔ اس کی پتیاں اسہال کو روکتی ہیں۔ اس کی بیلوں سے حاصل کیا گیا رس (Sap) جلدکی بیماریوں میں کام میں لایا جا سکتا ہے۔ انگوری سرکہ معدہ کی خرابیوں، ہیضہ اور قولنج کی اچھی دوا ہے۔ ( تفصیل کے لیے دیکھئے الانعام آیت ١٤١)