سورة يس - آیت 13

وَاضْرِبْ لَهُم مَّثَلًا أَصْحَابَ الْقَرْيَةِ إِذْ جَاءَهَا الْمُرْسَلُونَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور تو ان کے لئے مثال کے طور پر اس گاؤں والوں کا حال بیان کر جب اس بستی میں رسول آئے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے ارشاد ہوا ہے کہ ہم موت و حیات پر اختیار رکھنے والے اور ہر بات کو اپنے ہاں لکھنے والے ہیں۔ اب موت وحیات کے حوالے سے ایک قریہ کی مثال بیان کی جاتی ہے۔ اے محبوب پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے سامعین کے سامنے اس بستی کی تاریخ اور مثال پیش فرمائیں جس کے پاس آپ کے رب نے یکے بعد دیگرے تین رسول مبعوث فرمائے تھے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہم نے اس بستی کے رہنے والوں کے لیے دو رسول بھیجے جنہوں نے بڑے خلوص اور جانفشانی کے ساتھ اہل قریہ کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن قریہ والوں نے انہیں یکسر طور پر مسترد کردیا۔ ان کی تائید کے لیے ہم نے تیسرا رسول بھیجا اس نے پہلے دو انبیاء کی تائید کی اور ان کے ساتھ مل کر لوگوں کو اللہ کی توحید اور اس کی عبادت کرنے کی طرف دعوت دی لیکن بد بخت قوم نے تینوں رسولوں کو یہ کہہ کر جھٹلا دیا کہ تم ہمارے جیسے انسان ہو اور تم جھوٹ بولتے ہو۔ رب رحمن نے تمہاری طرف کوئی پیغام نازل نہیں کیا اور نہ ہی تم اس کے رسول ہو۔ قوم کے الزام کے جواب میں انبیائے کرام (علیہ السلام) نے فقط اتنا ہی ارشاد فرمایا کہ اے قوم! اگر تم ہمیں ماننے کے لیے تیار نہیں تو ہمارا کام اپنے رب کا پیغام پہنچانا تھا جسے ہم نے پوری طرح پہنچا دیا۔ اب تمہارا معاملہ ” اللہ“ کے حوالے ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو نیست و نابود کردیا۔ یہ کون سی بستی تھی اس کے بارے میں بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ شام کا ایک مشہور شہر انطاکیہ ہے لیکن قدیم مفسرین میں سے علامہ ابن کثیر اور عصر حاضر کے مفسرین نے تاریخی حوالوں کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ اس سے مراد انطاکیہ نہیں کیونکہ انطاکیہ ہمیشہ سے عسائیت کا گڑھ رہا ہے اور انطاکیہ کی بربادی کا تاریخ میں کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ جہاں تک رسولوں کی ذات کا معاملہ ہے ان سے مراد عیسیٰ ( علیہ السلام) کے حواری اور ان کے بھیجے ہوئے نمائندے نہیں بلکہ یہ شخصیات براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس شہر کی طرف مبعوث کی گئی تھیں جنہیں اس شہر کے لوگوں نے ماننے سے انکار کیا اور وہ برے انجام سے دوچار ہوئے۔ جہاں تک اہل قریہ کی اس بات کا تعلق ہے کہ اے رسولو! تم ہمارے جیسے انسان ہو۔ اللہ تعالیٰ نے جتنے بھی رسول مبعوث فرمائے ہیں وہ بشر ہی تھے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد کہ میں بشر ہوں : (عَنْ رَافِعُ بْنُ خَدِیجٍ قَالَ قَدِمَ نَبِیُّ اللَّہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الْمَدِینَۃَ وَہُمْ یَأْبُرُون النَّخْلَ یَقُولُونَ یُلَقِّحُون النَّخْلَ فَقَالَ مَا تَصْنَعُونَ قَالُوا کُنَّا نَصْنَعُہُ قَالَ لَعَلَّکُمْ لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا کانَ خَیْرًافَتَرَکُوہُ فَنَفَضَتْ أَوْ فَنَقَصَتْ قَالَ فَذَکَرُوا ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ إِذَا أَمَرْتُکُمْ بِشَیْءٍ مِنْ دینِکُمْ فَخُذُوا بِہِ وَإِذَا أَمَرْتُکُمْ بِشَیْءٍ مِنْ رَأْیٍ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ )[ رواہ مسلم : باب وُجُوبِ امْتِثَالِ مَا قَالَہُ شَرْعًا دُونَ مَا ذَکَرَہ مِنْ مَعَایِشِ الدُّنْیَا عَلَی سَبِیل الرَّأْیِ] ” سیدنا رافع بن خدیج (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ تشریف لائے تو اس وقت لوگ کھجور کی پیوندکاری کرتے تھے آپ نے فرمایا : یہ کیا کرتے ہو؟ صحابہ کرام (رض) نے جواب دیا ہمارا یہی طریقہ ہے آپ نے فرمایا : اگر تم یہ کام نہ کرو تو ہوسکتا ہے اس میں بہتری ہو۔ صحابہ (رض) نے پیوند کرنا چھوڑ دیا۔ تو کھجوریں پھل کم لائیں۔ صحابہ (رض) نے یہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کی۔ آپ نے فرمایا : میں بھی ایک بشر ہوں جب میں تمہیں تمہارے دین کے بارے میں کسی بات کا حکم دوں تو اس پر عمل کرو۔ جب میں کوئی بات اپنی رائے سے کہوں تو آخر میں بھی آدمی ہوں۔“ مسائل ١۔ انبیائے کرام (علیہ السلام) ایک دوسرے کی تائید کرتے تھے۔ ٢۔ تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) انسان تھے۔ ٣۔ انبیاء کی ذمہ داری حق پہنچانا تھا منوانا نہیں تھا۔ تفسیر بالقرآن انبیائے کرام (علیہ السلام) کا اقرار کہ ہم انسان ہیں : ١۔ نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اعتراف کہ میں تمہاری طرح کا بشر ہوں۔ (حم السجدۃ: ٦) ٢۔ رسول اللہ کا اعتراف کہ میں تمہاری طرح بشرہوں۔ (الکہف : ١١٠) ٣۔ تمام رسولوں کو ان کی قوم میں انہی کی زبان میں بھیجا گیا۔ (ابراہیم : ٤) ٤۔ انبیاء (علیہ السلام) اقرار کرتے تھے کہ ہم بشر ہیں۔ (ابراہیم : ١١) ٥۔ اللہ تعالیٰ نے جتنے بھی رسول بھیجے وہ آدمی تھے۔ (یوسف : ١٠٩) ٦۔ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے جتنے بھی نبی بھیجے وہ بشرہی تھے۔ (النحل : ٤٣) ٧۔ عیسیٰ نے اپنی والدہ کی گود میں اپنی نبوت اور بندہ ہونے کا اعلان فرمایا۔ (مریم : ٢٩، ٣٠) ٨۔ شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے کہا کہ تو ہماری طرح بشر ہے اور ہم تجھے جھوٹا تصور کرتے ہیں۔ (الشعراء : ١٨٦) ٩۔ نہیں ہے یہ مگر تمہارے جیسا بشر اور یہ تم پر فضیلت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ (المومنون : ٢٤) ١٠۔ نہیں ہے تو مگر ہمارے جیسا بشر کوئی نشانی لے کر آ اگر تو سچا ہے۔ (الشعراء : ١٥٤) ١١۔ نہیں ہے یہ مگر تمہارے جیسا بشر جیسا تم کھاتے ہو، ویسا وہ کھاتا ہے۔ (المومنون : ٣٣)