سورة يس - آیت 8

إِنَّا جَعَلْنَا فِي أَعْنَاقِهِمْ أَغْلَالًا فَهِيَ إِلَى الْأَذْقَانِ فَهُم مُّقْمَحُونَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

بے شک ان کی گردنوں میں طوق ڈالے ہیں ۔ سو وہ ٹھوڑیوں تک ہے ۔ پھر ان سر الل (یعنی اونچے) ہورہے ہیں

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : لوگوں کی اکثریت کیوں ایمان نہیں لاتی؟ ایمان کی دولت پانے کے لیے لازم ہے کہ انسان اپنی انا اور جہالت سے کنارہ کش ہوجائے۔ جو شخص جہالت اور انا پرستی نہیں چھوڑتا درحقیقت وہ متکبر ہوتا ہے۔ متکبر انسان حقیقت اور سچائی کو تسلیم کرنا اپنے لیے عار سمجھتا ہے۔ یہی حالت اہل مکہ کی تھی جس بنا پر ان کے بڑوں نے یہ کہہ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبّوت کا انکار کیا اور کہا کہ نبّوت مکہ یا طائف کے بڑے سرداروں میں سے فلاں کو ملنا چاہیے تھی۔ کچھ لوگوں نے آباء واجداد کی رسومات کا بہانہ بنا کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع سے اجتناب کیا۔ اس طرح وہ مختلف قسم کے تعصبات اور فخر و غرور میں مبتلا تھے۔ جس کی وجہ سے ان کی گردنیں اس طرح اکڑی ہوئی تھیں جیسے ان کی گردنوں میں لوہے کے طوق پڑے ہوئے ہوں۔ جس کی وجہ سے ان کے سر نہیں جھکتے۔ اس استکبار کی وجہ سے مکہ والوں کی حالت یوں ہوچکی تھی جیسے ان کے آگے پیچھے دیوار کھڑی کردی گئی ہو اور ان کے چہروں پر پردہ ڈال دیا گیا ہو جس وجہ سے وہ نہ ہدایت کی طرف آسکتے ہیں اور نہ ہی چشم بصیرت سے دیکھ سکتے ہیں۔ جس شخص یا قوم کی یہ حالت ہوجائے ظاہر ہے کہ اسے کوئی بھی راہ راست پر نہیں لا سکتا۔ انہیں سمجھانا اور نہ سمجھانا یکساں ہوا کرتا ہے اس لیے ارشاد ہوا کہ اے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) محبوب آپ ! انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اسی بات کو سورۃ البقرہ کی آیت ٧ میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ ” اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے ان کو عظیم عذاب ہوگا“ البقرۃ کی آیت گیارہ میں فرمایا کہ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں اب یہ ہدایت نہیں پائیں گے۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِیْءَۃً نُکِتَتْ فِیْ قَلْبِہٖ نُکْتَۃٌ سَوْدَآءُ فَإِذَا ھُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَتَابَ سُقِلَ قَلْبُہٗ وَإِنْ عَادَ زِیْدَ فِیْھَا حَتّٰی تَعْلُوَ قَلْبَہٗ وَھُوَ الرَّانُ الَّذِیْ ذَکَرَ اللّٰہُ (کَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ مَّاکَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ))[ رواہ الترمذی : کتاب تفسیر القرآن ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جب بندہ کوئی غلطی کرتا ہے تو اس کے دل پرسیاہ نکتہ پڑجاتا ہے جب وہ گناہ چھوڑ دے اور توبہ و استغفار کرے تو اس کا دل پالش ہوجاتا ہے۔ اگر وہ دوبارہ گناہ کی طرف پلٹے تو سیاہی اس کے دل پر چڑھ جاتی ہے یہی وہ زنگ ہے جس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے کہ (ہرگز نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے گناہوں کی وجہ سے زنگ چڑھ چکا ہے۔) “ مسائل ١۔ ہدایت کے مقابلے میں تعصب اور تکبر اختیار کرنے والوں کے آگے پیچھے دیوار کردی جاتی ہے۔ ٢۔ گمراہی پر مطمئن ہونے والوں کو سمجھانا اور نہ سمجھانا برابر ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن گمراہ لوگوں کی حالت : ١۔ جو ایمان کو کفر کے ساتھ بدل دے وہ سیدھے راستہ سے گمراہ ہوگیا۔ (البقرۃ: ١٠٨) ٢۔ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے وہ دور کی گمراہی میں مبتلا ہوا۔ (النّساء : ١١٦) ٣۔ جو اللہ کے ساتھ کفر کرے وہ دور کی گمراہی میں جا پڑا۔ (النساء : ١٣٦) ٤۔ جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ گمراہ ہوگیا۔ (الاحزاب : ٣٦) ٥۔ جس کو اللہ گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ (الرّعد : ٣٣) ٦۔ اللہ تعالیٰ کی بیان کردہ مثال کے ساتھ فاسق ہی گمراہ ہوتے ہیں۔ ( البقرۃ: ٢٦) ٧۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو پامال کرنے والا سیدھے راستہ سے بھٹک جاتا ہے۔ (المائدۃ: ١٢) ٨۔ کفار سے دلی دوستی کرنے والا سیدھی راہ سے دور چلا جاتا ہے۔ (الممتحنۃ: ١) ٩۔ دین کے معاملات میں غلو کرنے والا سیدھی راہ سے گمراہ ہوجاتا ہے۔ (المائدۃ : ٧٧) ١٠۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرانے والا سیدھے راستہ سے بھٹک جاتا ہے۔ (ابراہیم : ٣٠)