سورة فاطر - آیت 44

أَوَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَكَانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً ۚ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعْجِزَهُ مِن شَيْءٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ عَلِيمًا قَدِيرًا

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

کیا انہوں نے ملک کی سیر نہیں کی کہ دیکھیں کہ ان کا کیا انجام ہوا ۔ جو ان سے پہلے ہوگزرے ہیں ؟ اور ان سے قوت میں سخت تھے اور اللہ وہ نہیں کہ آسمانوں اور زمین (ف 1) میں کوئی چیز اسے تھکائے بےشک وہ جاننے والا قدرت والاہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد اور حقائق جاننے کے باوجود اہل مکہ آپ کے خلاف مکروفریب کر رہے تھے اس لیے انہیں تاریخ کے حوالے سے انتباہ کرتے ہوئے ایک بار پھر سمجھایا گیا ہے۔ دنیا میں عبرت و بصیرت حاصل کرنے کے ذرائع میں ایک بہت بڑا ذریعہ تاریخ عالم پڑھنا اور اس پر غور کرنا ہے۔ جس سے آدمی کو معلوم ہوجاتا ہے کہ پہلی اقوام کا کردار کیا تھا اور ان کا انجام کیا نکلا ؟ اسی لیے قرآن مجید کئی مرتبہ لوگوں کی توجہ اس طرف مبذول کرواتا اور فرماتا ہے کہ اگر تمہیں اپنے برے کردار کے برے انجام کے بارے میں شک ہے تو دنیا کی تاریخ پڑھو اور اس کا جغرافیہ دیکھو! یقیناً تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ جو لوگ تم سے پہلے نیست و نابود کیے گئے ان کا کردار اور انجام کیا ہوا ؟ مکر کرنے والے اپنی جاہ و حشمت اور مال و دولت پر بڑے نازاں تھے۔ اس لیے آپ کے مخالفوں کو باربار انتباہ کیا گیا ہے کہ دیکھو اور غور کرو کہ تم سے پہلے ذلت کے گھاٹ اترنے والی قومیں کس قدر قوت و سطوت کی مالک تھیں۔ جب ان پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوڑا برسا تو وہ سسکیاں لے لے کر اپنی جانیں جان آفریں کے حوالے کررہے تھے اس وقت کوئی ان کو چھڑا نے اور بچانے والا نہ تھا۔ اگر تمہیں اللہ تعالیٰ مہلت دیئے ہوئے ہے تو یہ اس کی کرم نوازی اور مشیت کا تقاضا ہے۔ لیکن جب وہ کسی فرد اور قوم کو ذلّت کے گھاٹ اتارنے کا فیصلہ کرتا ہے تو پھر زمینوں اور آسمانوں میں کوئی بھی اللہ تعالیٰ کو عاجز اور بے بس کرنے والا نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ سب کچھ جاننے والا اور اپنے فیصلے نافذ کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔