سورة سبأ - آیت 9

أَفَلَمْ يَرَوْا إِلَىٰ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُم مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ۚ إِن نَّشَأْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْأَرْضَ أَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَاءِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيبٍ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

سو کیا انہوں نے آسمن اور زمین کی طرف جو ان کے آگے اور پیچھے ہیں نظر نہیں کی کہ اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان (ف 1) کا ایک ٹکڑا گرا دیں ؟ بےشک اس میں ہر ایک رجوع کرنے والے بندے کے لئے نشانی ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : گمراہ لوگوں کو انتباہ۔ یہاں منکرینٍ قیامت کو اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کیا یہ لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ انہیں اوپر نیچے اور آگے پیچھے سے زمین و آسمان نے گھیر رکھا ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کے کفر کی وجہ سے انہیں زمین میں دھنسا دے یا پھر آسمان سے کوئی آفت انہیں تہس نہس کردے اگر یہ غور کریں تو اس انتباہ میں ان کے لیے بڑی عبرت ہے۔ لیکن اس انتباہ سے وہی لوگ متنبہ ہوتے ہیں جو اپنے رب کی طرف رجوع کرنیوالے ہیں۔ آسمان کے حوالے سے ڈراتے ہوئے انہیں بتایا ہے کہ جس آسمان کی چھت کے تلے تم اللہ تعالیٰ کی بغاوت کرتے اور اپنی موت کے بعد زندہ ہونے کا انکار کرتے ہو اگر یہی تم پر ٹوٹ پڑے تو تم اس سے بچ نہیں سکتے گویا کہ تم ہر وقت مقیّدہو اور تم کسی اعتبار سے بھی اللہ تعالیٰ کی گرفت سے باہر نہیں ہو اس لیے اس سے ڈرو اور حقائق کو تسلیم کر کے اپنے آپ کو اسکی گرفت سے محفوظ کرلو اگر تم نصیحت حاصل کرنا چاہتے ہو۔ (یَامَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِِنسِ اِِنْ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنفُذُوْا مِنْ اَقْطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانفُذُوْا لاَ تَنفُذُوْنَ اِِلَّا بِسُلْطٰنٍ) [ الرحمن : ٣٣] ” اے جنوں اور انسانوں کی جماعت اگر تم میں طاقت ہو کہ آسمانوں و زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ اور سلطٰنکے سوا تم نکل نہیں سکتے۔“ (عَنِ ابْنِ عُمَر (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بَیْنَمَا رَجُلٌ یَجُرُّ اِزَارَہٗ مِنَ الْخُیَلَاءِ خُسِفَ بِہٖ فَھُوَ یَتَجَلْجَلُ فِی الْاَرْضِ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ) [ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء ] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک دفعہ ایک شخص تکبر کے ساتھ چادر گھسیٹ کر چل رہا تھا تو اسے زمین میں دھنسا دیا گیا۔ وہ قیامت تک زمین میں دھنستا جائے گا۔“ مسائل ١۔ انسان زمین و آسمان کے درمیان مقیّد ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ انسان کو زمین میں دھنسانے اور اس پر آسمان کا ٹکڑا گرانے پر قادر ہیں۔ ٣۔ عبرت حاصل کرنے والے کے لیے زمین و آسمان میں بے شمار عبرت کے آثار موجود ہے۔ تفسیر بالقرآن زمین میں دھنسائے جانا اور آسمان سے آفت آنا : ١۔ کیا وہ لوگ بے فکر ہوگئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے؟ (النحل : ٤٥) ٢۔ اگر اللہ کا ہم پہ احسان نہ ہوتا تو ہم زمین میں دھنسا دیے جاتے۔ ( القصص : ٨٢) ٣۔ کیا تم بے خوف ہوگئے ہو کہ اللہ تمہیں دریا کے کنارے زمین میں دھنسا دے یا تم پر تندوتیز آندھی بھیج دے۔ (بنی اسرائیل : ٦٨) ٤۔ ان کے گناہ کی پاداش میں پکڑ لیا کسی پر تند ہوا بھیجی، کسی کو ہولناک آواز نے آلیا، کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور کچھ کو غرق کردیا۔ (العنکبوت : ٤٠) ٥۔ کیا بستیوں والے بے فکر ہوگئے ہیں کہ اللہ کا عذاب رات کے وقت اپنی لپیٹ میں لے لے اور وہ سوئے ہوئے ہوں۔ (الاعراف : ٩٥) ٦۔ جب ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے ان کی بستی کو الٹا دیا اور ان پر پتھروں کی بارش برسا دی۔ (ھود : ٨٢) ٧۔ قوم لوط کو ایک سخت آواز نے پکڑ لیا۔ (الحجر : ٧٣) ٨۔ قوم لوط پر کنکر کے پتھر برسائے گئے۔ (الذاریات : ٣٣) ٩۔ ہم نے قوم لوط پر پتھروں کی بارش نازل کی دیکھیے مجرموں کا انجام کیسے ہوا۔ (الاعراف : ٨٤)