سورة الأحزاب - آیت 70

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

مومنو ! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : جاری خطاب کی ابتدا میں مومنوں کو ایک دوسرے کو اذّیت دینے سے منع کیا گیا ہے۔ یہاں اسی فرمان کا تتّمہ ہورہا ہے۔ اے مومنو! ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور ایک دوسرے سے ہمیشہ صاف اور سیدھی بات کیا کرو۔ اگر تم صاف اور سیدھی بات کا طریقہ اپناؤ گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے کردار کی اصلاح فرمائے گا۔ جس کے بدلے تمہارے گناہ معاف کیے جائیں گے۔ تمہارے رب کی طرف سے یہ کھلی اور عام دعوت ہے کہ جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ بڑی کامیابی پائے گا۔ یہ آیات ان آیات میں شامل ہیں جنہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ نکاح میں پڑھا کرتے تھے۔ ان میں تین ہدایات دی گئی ہیں۔ 1 انسان کوہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ 2 ہمیشہ صاف اور سیدھی بات کرنی چاہیے۔ 3 ہر حال میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا فرض ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ سے ڈرنے کا حکم اور اس کے فائدے : ١۔ (النساء : ٧٧۔ یٰسین : ١١۔ آل عمران : ١٧٥۔ البقرہ : ١٨٩۔ الاحزاب : ٧٠۔ المائدۃ: ١٠٠۔ الحجرات : ١٠۔ النساء : ١)