سورة الأحزاب - آیت 51

تُرْجِي مَن تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَن تَشَاءُ ۖ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن تَقَرَّ أَعْيُنُهُنَّ وَلَا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِمَا آتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا فِي قُلُوبِكُمْ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَلِيمًا

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

ان عورتوں میں سے جسے تو چاہے علیحدہ رکھ دے اور جسے چاہے اپنی طرف جگہ دے اور جن کو تونے علیحدہ کردیا تھا اگر ان میں سے تو کسی کی خواہش کرے تو تجھ پر کچھ گناہ نہیں ۔ اس میں زیادہ قریب ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور غم نہ کریں اور وہ سب اس پر جو تونے انہیں دیا راضی رہیں اور اللہ چاہتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے اور اللہ جاننے والا بردبار ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : ازواج مطہرات کے بارے میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مزید اختیارات۔ نبوت کے فرائض کی انجام دہی کے لیے نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق مہر اور بعض ازواجی پابندیوں سے آزاد کردیا گیا تاکہ آپ ایک حد تک گھریلو ما حول سے آزاد ہو کر دعوت کا کام جاری رکھ سکیں۔ آپ کو یہ بھی اختیار دیا گیا ہے کہ جس بیوی کو چاہیں اپنے سے الگ رکھیں جس کو چاہیں اپنے ساتھ رکھیں اور جس کو چاہیں الگ رکھنے کے بعد اپنے پاس بلالیں۔ گویا کہ جس بیوی سے جیسا برتاؤ کرنا چاہیں کریں آپ پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہوگا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ بفرض محال اگر کسی بیوی کے ساتھ کوئی کمی، بیشی ہوجاتی ہے تو وہ اسے محسوس نہ کرے۔ اس طرح ہر بیوی اپنے مقام پر مطمئن رہے گی۔ کہ یہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مجھ پر احسان ہے کہ آپ نے مجھے اپنے جرم میں رکھا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کی حالت سے واقف ہے اور سب کو جاننے کے باوجودحوصلے والا ہے۔ اس رعایت کا یہ بھی مقصد تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی بیویوں کی باہمی رقابت سے بے نیاز ہوجائیں۔ اس رعایت کے باوجود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ازراہ شفقت اپنی ازواج کے لیے باری مقرر کی اور اسکی پابندی فرمائی۔ یہی وجہ ہے کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آخری بیماری میں مبتلا ہوئے تو آپ نے اپنی بیویوں سے اجازت طلب فرمائی کہ مجھے عائشہ (رض) کے گھر میں رہنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ تمام ازواج مطہرات نے خوشی سے اجازت دی۔ کیونکہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خوشی کو اپنی خوشی سے مقدم جانتی تھیں اور یہ بات اچھی طرح سمجھتی تھیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہمیں اپنے حرم میں شامل فرمانا ہم پر ایسا احسان ہے جس کا بدلہ چکاناہم میں سے کسی کے بس کا روگ نہیں۔ یہی وجہ ہے ایلا کے موقع پر جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ازواج مطہرات کو دو باتوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کا موقعہ دیا تو تمام ازواج نے بیک زبان عرض کی کہ ہم دنیا کے مال و متاع کے مقابلے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رہنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ (عَنْ أَنَس (رض) قَالَ آلَی رَسُول اللَّہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مِنْ نِسَاءِہِ، وَکَانَتِ انْفَکَّتْ رِجْلُہُ، فَأَقَامَ فِی مَشْرُبَۃٍ تِسْعًا وَعِشْرِینَ لَیْلَۃً، ثُمَّ نَزَلَ فَقَالُوا یَا رَسُول اللَّہِ آلَیْتَ شَہْرًافَقَالَ إِنَّ الشَّہْرَ یَکُونُ تِسْعًا وَعِشْرِینَ ) [ رواہ البخاری : باب قَوْلِ النَّبِی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِذَا رَأَیْتُمُ الْہِلاَلَ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَیْتُمُوہُ فَأَفْطِرُوا] ” حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بیویوں سے ایک ماہ کے لیے ایلاء کیا آپ کے پاؤں کو موچ آئی اور آپ نے بالاخانے میں انتیس راتیں بسرکیں پھر آپ نیچے تشریف لائے۔ صحابہ نے عرض کی کہ اے اللہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے تو ایک مہینہ کے لیے ایلاء کیا تھا۔ آپ نے جواب دیا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔“ نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بیویوں کو اپنے ساتھ رہنے یا الگ ہونے کا کلّی اختیار دیا تو ازواج مطہر ات نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اقدس کو ترجیح دی۔ کسی ایک بیوی نے بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے الگ ہونا گوارہ نہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس محبت اور تعلق کو قبول نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حق میں قبول فرمایا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پابند کردیا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے اپنی بیویوں کے ایثار، اخلاص اور انپے ساتھ پرخلوص تعلق کو جانچ لیا ہے لہٰذا آپ کو اب اختیار نہیں کہ آپ کسی ایک بیوی کو طلاق دے کر اس کی جگہ کوئی اور بیوی لے آئیں بے شک وہ کتنی ہی حسین کیوں نہ ہو۔ البتہ لونڈیاں رکھنے کی آپ کو اجازت ہے۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کی نگرانی کرنے والا ہے۔ مسائل ١۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے بیویوں کے بارے میں کلّی اختیار حاصل تھا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ چیز پر نگران ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہر بات کو جاننے والا اور ہر چیز پر نگران ہے : ١۔ جو بھی تم عمل کرتے ہو وہ اللہ کے علم میں ہوتا ہے۔ (یونس : ٦١) ٢۔ اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کو جاننے والا ہے۔ (یٰس : ٧٩) ٣۔ جو لوگ جہالت کی وجہ سے برائی کرتے ہیں، پھر جلدی سے توبہ کرلیتے ہیں اللہ ان کی توبہ قبول کرتا ہے اور اللہ ہر چیز کو جاننے اور حکمت والا ہے۔ (النساء : ١٧) ٤۔ اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرو یقیناً اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ (النساء : ٣٢) ٥۔ جو کچھ تم اللہ کے دیے ہوئے میں سے خرچ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کو جاننے والا ہے۔ (النساء : ٣٩) ٦۔ قیامت کا، بارش کے نازل ہونے کا، اور جو کچھ رحموں میں ہے اور انسان کل کیا کمائے گا اور اسے کہاں موت آئے گی اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ (لقمان : ٣٤) ٧۔ اللہ تعالیٰ بحروبر اور ہر گرنے والے پتے کو جانتا ہے۔ (الانعام : ٥٩) ٨۔ فرشتوں نے کہا تو پاک ہے ہمیں تو اتنا ہی علم ہے جتنا تو نے ہمیں سکھلایا ہے اور تو جاننے والا، حکمت والا ہے۔ (البقرۃ: ٣٢)