سورة الأحزاب - آیت 41

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

مومنو ! کثرت سے اللہ کو یاد کرو

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے امّتِ محمدیہ کو یہ اعزاز بخشا ہے کہ اس کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جیسا عظیم الشّان، عدیم المرتبت رحمت عالم اور ختم المرسلین نبی عطا فرمایا جس پر امت کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ شکر کا تقاضا ہے ہر وقت اللہ تعالیٰ کو یاد کیا جائے۔ ذکر ایسی عبادت ہے جس کے بارے میں حکم ہوا ہے کہ اسے کثرت کے ساتھ کیا کرو۔ یہاں ذکر کے دو مخصوص اوقات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ صبح اور شام اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرو۔ کیونکہ صبح و شام سے ہی انسان کی زندگی بنتی ہے۔ ہر انسان ہر صبح اپنی زندگی کا آغاز کرتا ہے اور شام کو اس کی دن بھر کی سرگرمیوں کا اختتام ہوتا ہے اس لحاظ سے دونوں اوقات بڑے اہم ہیں۔ ان اوقات میں ” اللہ“ کے ذکر کی خاص اہمیت اور فضیلت ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح و شام خاص طور پر اذکار کیا کرتے تھے۔ حدیث کی مقدس دستاویزات میں آپ کے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اذکار موجود ہیں جن کو یاد کرنا اور پڑھنا چاہیے یہاں صرف ذکر کی فضیلت کے بارے میں آپ کے تین ارشادات لکھے جاتے ہیں۔ (أَللّٰھُمَّ أَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب الصلاۃ] ” الٰہی ! اپنے ذکر، شکر اور بہترین طریقے سے عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔“ اللہ تعالیٰ کے ذکر کی فضیلت : (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَال اللّٰہُ تَعَالٰی أَنَا مَعَ عَبْدِیْ حَیْثُمَا ذَکَرَنِیْ وَتَحَرَّکَتْ بِیْ شَفَتَاہُ) [ رواہ البخاری : کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ لاتحرک بہ لسانک الخ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتاہوں‘ وہ جہاں بھی میرا ذکر کرے اور اس کے ہونٹ میرے ذکر میں حرکت کریں۔“ (عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَثَلُ الَّذِیْ ےَذْکُرُ رَبَّہُ وَالَّذِیْ لَا ےَذْکُرُ مَثَلُ الْحَیِّ وَالْمَےِّتِ)[ رواہ البخاری : باب فَضْلِ ذِکْرِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ] ” حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان بیان کرتے ہیں کہ اپنے پروردگار کا ذکر کرنے والے کی مثال زندہ شخص کی ہے اور نہ ذکر کرنے والے کی مثال مردہ کی ہے۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت کے ساتھ کرنا چاہیے۔ ٢۔ اللہ کا ذکربالخصوص صبح و شام کرنا لازم ہے۔