سورة الأحزاب - آیت 1

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَالْمُنَافِقِينَ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اے نبی اللہ سے ڈرا ور کافروں اور منافقوں کا کہا نہ مان ۔ بےشک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن سورۃ السجدۃ کا اختتام اس فرمان پر ہوا کہ ہٹ دھرم لوگوں سے اعراض کرنا چاہیے الاحزاب کا آغاز اس بات سے کیا کہ ہٹ دھرم اور جاہلوں سے صرف اعراض ہی نہیں کرنا بلکہ ان کی مخالفت کو بھی خاطر میں نہیں لانا۔ لہٰذاے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کو ہر حال میں وحی الٰہی کی اتباع کرنا ہے۔ مکہ معظمہ میں آپ کے مخالف مشرکین تھے۔ مدینہ تشریف آوری کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا واسطہ، یہود اور منافقوں سے پڑا۔ جو صبح و شام آپ کے خلاف سازشیں کرتے اور نئے سے نیا الزام لگاتے اور اسے پھیلاتے رہتے تھے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی پھوپھی زاد بہن سیدہ زینب (رض) کا نکاح اپنے متبنّٰی بیٹے زید (رض) بن حارثہ کے ساتھ کیا تاکہ مسلم معاشرے میں طبقاتی اونچ نیچ ختم کی جا سکے۔ سیدہ زینب (رض) ذہنی طور پر حضرت زید (رض) کے ساتھ نکاح کرنے کے حق میں نہ تھیں۔ مگر اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم سمجھ کر آمادہ ہوگئیں۔ لیکن معاشرتی امتیاز اور طبیعتیں نہ ملنے کی وجہ سے نباہ مشکل ہوا۔ حضرت زید (رض) گاہے گاہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں گھر یلو حالات عرض کرتے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیار اور محبت سے سمجھاتے کہ جس طرح بھی ممکن ہوسکتا ہے نباہ کرنا چاہیے۔ اس کوشش کے باوجود رشتہ ٹوٹ جاتا ہے جونہی یہ رشتہ منقطع ہوا ” اللہ“ کا حکم ہوا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ زینب کو اپنے حرم میں شامل کرلیں تاکہ زینب کی دلجوئی کے ساتھ ایک اور رسم کا خاتمہ ہوسکے۔ اس زمانے میں لوگ متبنّٰی بیٹے کی بیوی کو حقیقی بہو کا درجہ دیتے تھے متبنّٰی کی مطلقہ کے ساتھ نکاح کرنا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے بڑی آزمائش اور مخالفوں کے لیے پراپیگنڈہ کا ایسا بہانہ تھا جس کا دفاع کرنا اس وقت کے حالات کے مطابق انہتائی مشکل تھا اس لیے اس سورۃ کی ابتداہی ان الفاظ سے ہوئی کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کفار اور مشرکین کے پیچھے لگنے کی بجائے آپ کو صرف ” اللہ تعالیٰ“ سے ڈرنا چاہیے اللہ تعالیٰ ہرقسم کے حالات کو اچھی طرح جانتا ہے اور اس کے ہر حکم میں حکمت پائی جاتی ہے۔ اس لیے آپ کو اپنے رب کی وحی کی پیروی کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال اور معاملات سے اچھی طرح باخبر ہے اس پر بھروسہ کیجئے وہ ہر معاملے میں کافی ہے یعنی اسے معلوم ہے کہ میں نے اپنے بندے کا دفاع کس طرح کرنا ہے جب وہ کسی کی حفاظت اور دفاع کا فیصلہ کرتا ہے تودنیا کی کوئی طاقت اس کا بال برابر بھی نقصان نہیں کرسکتی۔ ” حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ زید بن حارثہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سیدہ زینب (رض) کی شکایت لے کر آئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زید کو فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور اپنی بیوی کو نہ چھوڑو۔ سیدہ عائشہ (رض) کہتی ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر کسی چیز کو چھپانے والے ہوتے تو آپ اس بات کو چھپاتے۔ راوی بیان کرتے ہیں سیدہ زینت (رض) اسی بنیاد پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دوسری ازواج مطہرات پر فخر کیا کرتی تھیں کہ تمہارے نکاح تمہارے اہل وعیال نے کیے لیکن۔ میرے نکاح کا فیصلہ اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر فرمایا ہے۔“ [ رواہ البخاری : باب وکان عرشہ علی الماء] مسائل ١۔ مسلمان کو صرف ایک ” اللہ“ سے ڈرنا اور اسی کے حکم کی اتباع کرنا چاہیے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اعمال سے اچھی طرح باخبر ہے۔ ٣۔ اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے جو اس پر بھروسہ کرتا ہے ” اللہ“ اس کے لیے کافی ہوجاتا ہے۔