سورة السجدة - آیت 7

الَّذِي أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ ۖ وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنسَانِ مِن طِينٍ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

جس نے جو شئے بنائی خوب بنائی اور انسان کی پیدائش ایک گارے سے شروع کی

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : جس ” اللہ“ نے زمین و آسمان اور ہر چیز بنائی اور پورے کے پورے نظام کو بلا شرکت غیرے چلارہا ہے اسی نے انسان کو مٹی سے بنایا اور ہر چیز کو اس کے مناسب حال نہایت خوبصورت پیدا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے جو چیز بھی بنائی اور پیدا کی ہے اسے نہایت ہی خوبصورت اور متوازن بنایا ہے۔ پھول کی پتیوں کو دیکھیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے کس قدر بھولی بھالی، پیاری، پیاری اور نہایت ہی دلکش ہوتی ہے پتیوں کی تراش، خراش دیکھو تو یوں لگتا ہے کہ کسی خاص ڈائی سے نکالی ہوئی ہیں رنگت پر نظر پڑتی ہے تو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ ایک ہی پتی پر رنگ کے کسی شیڈ میں۔ گلاب کی پتی کا ابتدائی حصہ سفیدی لئے ہوئے ہے اوپر کا حصہ نہایت ہی سرخ رنگ سے مّزین ہے۔ درندوں کو، دیکھو شیر کا چہرہ کس قدر بارعب اور جسم کتنا پھرتیلا ہے۔ بلی کے بچے کو دیکھو کتنا بھولہ بھالا لگتا ہے یہاں تک کتے کا بچہ بھی پیارا لگتا ہے۔ غرض کہ جو چیز بنائی خوب سے خوب تر بنائی۔ ہر کسی کو اس کی طبع کے مطابق ماحول دیا اور اس کی خوراک کا بندوبست فرمایا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا اور پھر اس کی نسل کا سلسلہ مرد، زن کے پانی کے ایک قطرہ سے شروع کیا جو عورت کے رحم میں پہنچ کر خون بنتا ہے اس کے بعد لوتھڑے کی شکل اختیار کرتا ہے پھر اسے ایک وجود بخشا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس میں روح پھونکی جاتی ہے پھر اسے سننے کے لیے کان، دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سوچنے کے لیے دل دیا تاکہ سچائی کو سنے، حقیقت کو دیکھے اور دل کے ساتھ سوچے کہ میں نے کس کے حکم کے مطابق زندگی بسر کرنی ہے اور کس کا سب سے زیادہ شکر گزار رہنا ہے لیکن انسانوں کی اکثریت اپنے خالق اور مالک کی ناقدری اور ناشکری کرتے ہیں۔ کان، آنکھیں اور دل اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار کو دیے ہیں مگر ان کی اور انسان کی سماعت، بصارت اور سوچ میں بے انتہا فرق ہے اس لیے انسان سے شکر گزار رہنے کا مطالبہ کیا ہے۔ شکر کا جذبہ محسن کی قدر کرنے کا احساس دلاتا ہے اور شکر گزارہی تابعدار ہوا کرتے ہیں۔ (حَدَّثَنَا أَبُوْ مُوْسَی الأَشْعَرِیُّ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ اللّٰہَ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَۃٍ قَبَضَہَا مِنْ جَمِیْعِ الأَرْضِ فَجَاءَ بَنُوْ آدَمَ عَلَی قَدْرِ الأَرْضِ جَاءَ مِنْہُمُ الأَحْمَرُ وَالأَبْیَضُ وَالأَسْوَدُ وَبَیْنَ ذَلِکَ وَالسَّہْلُ وَالْحَزْنُ وَالْخَبِیْثُ وَالطَّیِّبُ) [ رواہ ابوداؤد : باب فِی الْقَدَرِ] ” حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو مٹی کی ایک مٹھی سے پیدا فرمایا اسی لیے آدم کی اولاد زمین کی رنگت کے مطابق ہے بعض ان میں سے سرخ ہیں اور بعض سفید، اور بعض سیاہ اور ان میں کچھ آرام اور سکون سے زندگی بسر کرنے والے ہیں اور کچھ غم زدہ اور کچھ خبیث النّفس اور کچھ نیک ہیں۔“ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) وَرَفَعَ الْحَدِیْثَ أَنَّہُ قَالَ إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ وَکَّلَ بالرَّحِمِ مَلَکًا فَیَقُوْلُ أَیْ رَبِّ نُطْفَۃٌ أَیْ رَبِّ عَلَقَۃٌ أَیْ رَبِّ مُضْغَۃٌ فَإِذَا أَرَاد اللَّہُ أَنْ یَقْضِیَ خَلْقًا قَالَ قَالَ الْمَلَکُ أَیْ رَبِّ ذَکَرٌ أَوْ أُنْثٰی شَقِیٌّ أَوْ سَعِیْدٌ فَمَا الرِّزْقُ فَمَا الأَجَلُ فَیُکْتَبُ کَذَلِکَ فِی بَطْنِ أُمِّہٖ) [ رواہ مسلم : باب کَیْفِیَّۃِ الْخَلْقِ الآدَمِیِّ فِی بَطْنِ أُمِّہِ وَکِتَابَۃِ رِزْقِہِ وَأَجَلِہِ وَعَمَلِہِ وَشَقَاوَتِہِ وَسَعَادَتِہِ] ” حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے وہ حدیث کو مرفوع بیان کرتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے رحم میں ایک فرشتہ مقرر کیا ہے وہ پوچھتا ہے اے میرے رب ! یہ نطفہ ہے اے میرے رب! یہ گوشت کا لوتھڑا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ کسی کی تخلیق کا فیصلہ فرماتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے اے میرے رب مذکر یا مؤنث بدبخت یا خوش بخت اس کا رزق کتنا ہے اس کی عمر کتنی ہے اسی طرح اس کا نیک اور بد ہونا اس کی ماں کے پیٹ میں لکھ دیا جاتا ہے۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ جو چیز پیدا فرماتا ہے نہایت خوبصورت پیدا کرتا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو مٹی سے پیدا کیا۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی افزائش کا انتظام اسی کے وجود کے ذریعے سے فرمایا ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو آنکھ، کان اور دل عنایت کیے تاکہ وہ اس کا شکر ادا کرے۔