سورة لقمان - آیت 30

ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِن دُونِهِ الْبَاطِلُ وَأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

یہ اس لئے کہ اللہ جو ہے وہی حق ہے اور جنہیں وہ اس کے سوا پکارتے ہیں باطل ہیں ۔ اور اللہ جو ہے وہی سب سے برتر بڑا ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

(فَذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمُ الْحَقُّ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ فَاَنّٰی تُصْرَفُوْنَ) [ یونس : ٣٢] ” سو اللہ ہی تمھارا سچا رب ہے۔ پھر سچ کے بعد گمراہی کے سوا کیا ہے ؟ بس تم کہاں پھیرے جاتے ہو۔“ مسائل ١۔ ” اللہ“ ہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا اور نکالتا ہے۔ ٢۔ ” اللہ“ ہی نے سورج اور چاند کو پیدا کیا اور وہی انہیں مقررہ وقت پر چلائے جا رہا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کے سوا باقی تمام معبود باطل ہیں۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ مشرکوں کے شرک سے بلندوبالا اور ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن مشرک جن معبودوں کو پکارتے ہیں ان کی حقیقت : ١۔ کیا تم ایسے لوگوں کو معبود مانتے ہو جو نفع ونقصان کے مالک نہیں۔ (الرعد : ١٦) ٢۔ کیا تم اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو نفع ونقصان کے مالک نہیں ہیں؟ (المائدۃ: ٧٦) ٣۔ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں نقصان میں مبتلا کرے تو کون تمہیں بچائے گا۔ (الفتح : ١١) ٤۔ معبودان باطل اپنی جانوں کے نفع ونقصان کے مالک نہیں۔ (الفرقان : ٣) ٥۔ کیا تم اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو تمہارے نفع ونقصان کے مالک نہیں ؟ (المائدۃ: ٨٦) ٦۔ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمہاری مدد کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ (الاعراف : ١٩٧) ٧۔ جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے۔ (الحج : ٧٣)