سورة الروم - آیت 52

فَإِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَىٰ وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

سو بےشک تو مردوں کو نہیں سنا سکتا ۔ اور بہروں کو (ہی) سنا سکتا ہے جب وہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیاں پوری کائنات میں پھیلا رکھی ہیں اور اس نے اپنی توحید کے دلائل کھول کھول کر بیان کر دئیے ہیں لیکن اندھے اور بہرے لوگ اس کی نشانیوں کو غور سے دیکھنے اور دلائل کو توجہ کے ساتھ سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ سروردوعالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو دن رات اللہ کی توحید اور اس کے دین کی دعوت دیتے لیکن کافر اور مشرک اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے باوجود اس کی ذات کو بلاشرکت غیرے ماننے اور اس کی توحید کے دلائل سننے کے لیے تیار نہ تھے۔ ایسے لوگوں کی حقیقت بتلانے اور آپ کو تسلی دینے کے لیے فرمایا گیا کہ اے رسول آپ نے اپنے کام میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی اگر یہ لوگ حقائق دیکھنے سے اندھے اور سچ سننے سے بہرے ہوچکے ہیں تو آپ کو دلبرداشتہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ آپ ایسے اندھوں کو ہدایت دینے والے نہیں ہیں جو ہدایت سے دوربھاگنے والے ہیں۔ آپ ان لوگوں کی راہنمائی کرسکتے ہیں جو ہمارے ارشاد ات پر ایمان لانے والے ہیں حقیقتاً یہی لوگ ہماری فرمانبرداری کرنے والے ہیں۔ یہاں اندھے اور بہروں سے مراد وہ لوگ ہیں جو ہدایت کے بارے میں دل کے اندھے اور حقیقت سننے سے بہرے ہوچکے ہیں۔ (اِنَّکَ لَا تَھْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ وَ ھُوَ اَعْلَمُ بالْمُھْتَدِیْنَ) [ القصص : ٥٦] ” اے نبی آپ جسے چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے لیکن اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے وہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو ہدایت قبول کرنے والے ہیں۔“ یہاں اس بات کی بھی نفی ہوجاتی ہے کہ مردے نہیں سنتے گو یہاں مردوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو روحانی طور پر مردہ ہوچکے ہیں حالانکہ کان، آنکھیں اور دل موجود ہیں۔ جو (PHYSICALLY) طور پر اپنا اپنا کام کر رہے ہیں۔ کیونکہ روحانی صلاحتیں کھو چکے ہیں اس لیے وہ سچی بات سنتے نہیں۔ مردے نہیں سنتے : جب کوئی حقیقتاً جسمانی طور پر مردہ ہوجائے تو پھر وہ کس طرح سن، دیکھ اور سوچ سکتا ہے ؟ اس لیے قرآن مجید نے مردوں کے بارے میں فرمایا ہے۔ ” کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے وہ چلتے ہوں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ کسی چیز کو پکڑ سکتے ہوں، یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہوں، یا ان کے کان ہیں جن سے سنتے ہوں فرما دیں تم اپنے سب شرکاء کو بلا لو، پھر میرے خلاف تدبیر کرو اور مجھے ذرا مہلت نہ دو۔ یقینامیرا مددگار اللہ تعالیٰ ہے جس نے یہ کتاب نازل فرمائی اور وہ نیک بندوں کی مدد کرتا ہے۔ اللہ کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہو وہ تمہاری کچھ مدد نہیں کرسکتے ہیں۔“ [ الاعراف : ١٩٥] یہ حال صرف بتوں کا نہیں بلکہ قبروں میں مدفون بزرگ کا بھی یہی حال ہے۔ (وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْءًا وَّ ھُمْ یُخْلَقُوْنَ اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ) النحل : ٢٠۔ ٢١] ” اور جن کو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہیں وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے، وہ تو خود پیدا کیے گئے ہیں۔ مردے ہیں زندہ نہیں۔ انہیں تو یہ بھی شعور نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔“ [ النحل : ١٩، ٢٠] (وَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ اِنَّ اللّٰہَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُ وَ مَآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِیْ الْقُبُوْرِ) [ فاطر : ٢٢] ” زندہ اور مردہ برابر نہیں ہوسکتے۔ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے سنا سکتا ہے آپ قبروں والوں کو نہیں سنا سکتے۔“ (اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ)[ النمل : ٨٠] ” آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے نہ ان بہروں تک اپنی آواز پہنچا سکتے جو پیٹھ پھیر کر بھاگ رہے ہوں۔“ مسائل ١۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مردوں اور بہروں کو نہیں سنا سکتے تھے۔ ٢۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دل کے اندھوں اور ایمان نہ لانے والوں کو ہدایت نہیں دے سکتے تھے۔ ٣۔ ہدایت وہی لوگ پاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ارشادات پر دل سے ایمان لاتے ہیں۔