سورة الروم - آیت 36

وَإِذَا أَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوا بِهَا ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ إِذَا هُمْ يَقْنَطُونَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور جب ہم آدمیوں کے کچھ رحمت چکھاتے ہیں تو وہ اس سے خوش ہوتے ہیں اور اگر ان کاموں کے سبب جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں ان پر کوئی مصیبت آتی ہے (ف 1) تو فوراً ہی ناامید ہوجاتے ہیں

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : جورب انسان خوشی سے سرفراز اور غم سے دوچار کرتا ہے وہی اس کے رزق پر اختیار رکھتا ہے۔ انسان ان باتوں پر غور کرے تو وہ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے سے باز آجائے۔ اکثر لوگوں کی یہ بھی عادت ہوتی ہے کہ انہیں کسی معاملے میں اللہ تعالیٰ خود کفیل کرتا ہے تو وہ اس کا شکر ادا کرنے کی بجائے اترانے لگتے ہیں اگر انہیں کسی غلطی یا کمزوری کی وجہ سے تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کی رحمت سے مایوس ہوجاتے ہیں بالخصوص رزق کے معاملے میں اکثر لوگوں کا یہی وطیرہ ہوتا ہے کہ مال کی فراوانی ہو تو اتراتے ہیں اور مال اللہ کی نافرمانی کے کاموں پر خرچ کرتے ہیں۔ انہیں سمجھایا جائے تو ان کے روّیے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مال کے نشے میں اپنے آپ سے باہر ہوئے جا رہے ہیں۔ کاروبار میں نقصان ہو تو ان کی بے بسی دیکھنے والی ہوتی ہے اور اکثر دفعہ ایسی گفتگو کرتے ہیں کہ سننے والا محسوس کرتا ہے کی یہ اپنے رب کی رحمت سے مایوس ہوچکا ہے۔ حالانکہ جو رب تکلیف کے بعد راحت دینے والا ہے وہی رزق کو کشادہ اور کم کرنے والا ہے۔ رزق کا معاملہ چلنے والی ٹریفک کے مانند ہوتا ہے جس میں کبھی تیزی آتی ہے اور کبھی ٹھہراؤ آجاتا ہے۔ اس لیے انسان کو ہر حال میں اپنے رب سے تعلق مضبوط رکھنا چاہیے یہی مسلمان کی شان ہے۔ کیونکہ تکلیف کے بعد سہولت اور سہولت کے بعد تکلیف، کشادگی کے بعد تنگی اور تنگی کے بعد کشادگی۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تحت عمل میں آتی ہے۔ ایمان دار لوگ اس حکمت سے نصیحت حاصل کرتے ہیں اور اپنے رب کے اور قریب ہوجاتے ہیں۔ جہاں تک رزق کے بڑھنے اور کم ہونے کا معاملہ ہے دنیا میں کوئی ایسا انسان ہوا ہے اور نہ ہوگا جسے ایک ہی مقدار اور رفتار کے ساتھ رزق مل رہاہو۔ اگر کوئی زمیندار ہے تو بے شک وہ کتنی ہی محنت اور فصل کی نگرانی کرلے۔ ہر سال اس کی فصل ایک جیسی نہیں ہوتی۔ اگر کوئی کاروباری آدمی ہے اور بے شک وہ ارب پتی ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے کاروبار میں بھی اتارچڑھاؤ آتا رہتا ہے۔ حالانکہ کاروباری آدمی کی ہر وقت سوچ اور کوشش ہوتی ہے کہ اس کے کاروبار میں نقصان کی بجائے منافع ہی ہوتا چلا جائے۔ اسی طرح ایک مزدور اور غریب آدمی کے ساتھ بھی یہی معاملہ رہتا ہے کہ کبھی وہ اس قدر تنگ دست ہوجاتا ہے کہ پیٹ پالنے کے لیے مزدوری بھی حاصل نہیں ہوتی اور کبھی مسلسل مزدوری ملنے کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو ایک حد تک آسودہ دیکھتا ہے۔ رزق میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے اور بعض دفعہ انسان کو معلوم نہیں ہوتا کہ میرے رزق میں کمی بیشی کا سبب کیا ہے۔ امیر ہویا غریب اسے ہر حال میں یہ سوچنا اور عقیدہ اپنانا چاہیے کہ رزق کی کمی، بیشی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے اختیار میں نہیں۔ وہی ایک ذات ہے جو ہر کسی کے رزق میں کمی بیشی کرتی ہے۔ اسی عقیدہ کے پیش نظر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا کیا کرتے تھے : ( قُلِ اللَّہُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلاَلِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَأَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ) [ رواہ الترمذی : باب فی دعاء النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ] ” الٰہی مجھے ہمیشہ حرام سے بچا کر حلال کے ساتھ میری ضرورتیں پوری فرما اور مجھے اپنے خاص فضل کے ساتھ اپنے سوا دوسروں سے بے نیاز کردے۔“ مسائل ١۔ اکثر لوگ سہولت کے وقت اتراتے ہیں اور تکلیف کے وقت مایوس ہوجاتے ہیں۔ ٢۔ اللہ ہی رزق کشادہ اور کم کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن انسان کی مختلف حالتیں : ١۔ انسان ناشکرا ہے۔ ( العادیات : ٦) ٢۔ انسان جلد باز ہے۔ ( بنی اسرائیل : ١١) ٣۔ اگر انسان کو اللہ رحمت دے کر چھین لے تو یہ مایوس اور ناشکرا ہوجاتا ہے۔ (ہود : ٩) ٤۔ اللہ تعالیٰ نے جو تمہیں دیا ہے اس پر نہ اتراؤ کیونکہ اللہ فخر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (الحدید : ٢٣) ٥۔ جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کو پکارتا ہے اور دل سے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ جب اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نعمت ملتی ہے تو اسے بھول جاتا ہے۔ (الزمر : ٨)