سورة العنكبوت - آیت 60

وَكَأَيِّن مِّن دَابَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور بہت جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے ۔ اللہ انہیں اور تمہیں رزق دیتا ہے اور وہی سنتا ہے اور جانتا ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : ہجرت کے وقت تین باتیں انسان کو پریشان کرتی ہیں۔ 1۔ جائیں تو کہاں جائیں 2۔ مال، جان کے نقصان کا اندیشہ 3۔ روزی کا فکر ہجرت کے لیے کدھر جائیں اس کا جواب دیا کہ ” اللہ“ کی زمین بہت وسیع ہے، مالی اور جانی نقصان کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ بالآخر ہر کسی کو موت آنی ہے اور سب کچھ چھوڑ کر آخرت کو سدھارنا ہے۔ اب روزی کے بارے میں تسلّی دی جا رہی ہے کہ ہر انسان بالخصوص ہجرت کرنے والا غور کرے کہ کتنے جانور ہیں جو اپنا رزق جمع نہیں کرتے مگر انہیں بھی ” اللہ تعالیٰ“ رزق دیتا ہے اور تمہیں بھی عطا کرتا ہے، وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے یعنی وہ تمہارے وطن میں ہی نہیں بلکہ تم جہاں بھی ہوتے ہو تمہارا حال جانتا ہے اور تمہاری دعاؤں کو سنتا ہے۔ رزق کی فراہمی کے بارے اپنے رب کا یہ اصول یاد رکھو کہ زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندار ہیں سب کا رزق ” اللہ“ کے ذمّہ ہے وہ سب کے رہنے سہنے کی جگہ کو جانتا ہے اور ان کے مرنے کی جگہ بھی اس کے علم میں ہے اس نے سب کچھ کھلی کتاب یعنی لوح محفوظ میں درج کر رکھا ہے۔ (وَ مَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ رِزْقُھَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّھَا وَ مَسْتَوْدَعَھَا کُلٌّ فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ) [ ہود : ٦] ” اور زمین میں کوئی چلنے والا جاندار نہیں مگر اس کا رزق اللہ ہی کے ذمّہ ہے اور وہ اس کی قرار گاہ اور اس کے دفن کیے جانے کی جگہ کو جانتا ہے سب کچھ ایک کھلی کتاب میں درج ہے۔“ (عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لَوْ أَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَوَکَّلُوْنَ عَلَی اللَّہِ حَقَّ تَوَکُّلِہٖ لَرُزِقْتُمْ کَمَا تُرْزَقُ الطَّیْرُ تَغْدُوْ خِمَاصًا وَتَرُوْحُ بِطَانًا)[ رواہ الترمذی : باب فِی التَّوَکُّلِ عَلَی اللَّہِ] ” حضرت عمر بن خطاب (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر تم اللہ تعالیٰ پر توکل کرو جس طرح توکل کرنے کا حق ہے۔ تو تمہیں اسی طرح رزق دیا جائے جس طرح پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے۔ وہ خالی پیٹوں کے ساتھ صبح کرتے ہیں اور شام کو بھرے پیٹوں کے ساتھ لوٹتے ہیں۔“ (عَنْ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ (رض) یَقُوْلُ قَالَ رَجُلٌ یَّا رَسُوْلَ اللّٰہِ أَعْقِلُہَا وَأَتَوَکَّلُ أَوْ أُطْلِقُہَا وَأَتَوَکَّلُ قَالَ اِعْقِلْہَا وَتَوَکَّلْ )[ رواہ الترمذی : باب اعقل وتوکل ] ” حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا اے اللہ کے رسول ! میں سواری کو باندھوں اور توکل کروں یا اسے کھلا چھوڑ دوں اور توکل کروں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پہلے اونٹ کا گھٹنا باندھو پھر توکل کرو۔“ (عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنْ النَّبِیِّ قَالَ لَمَّا تَجَلّٰی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لِمُوْسیٰ عَلَیْہِ السَّلاَمُ کَانَ یَبْصُرُالنَّمْلَۃَ عَلیٰ الصَّفَا فِیْ الَّلیْۃِ الظُّلْمَاءِ مَسِیْرَۃَ عَشْرَۃِ فَرْسَخٍ)[ تفسیر ابن کثیر، سورۃ الاعراف : ١٤٣] ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا جب اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے تجلی فرمائی اس وقت وہ اندھیری رات میں دس فرسخ کے فاصلے سے پتھر پر چلنے والی چیونٹی کو دیکھ رہا تھا۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ سب کو روزی دینے والا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ سب کو روزی دینے والا ہے : ١۔ ہم نے زمین میں تمہارے لیے معاش کا سامان بنایا اور ان کے لیے بھی جنہیں تم روزی نہیں دیتے۔ (الحجر : ٢٠) ٢۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی رزق کو فراخ اور تنگ کرتا ہے۔ (الزمر : ٥٢) ٣۔ زمین میں ہر قسم کے چوپاؤں کا رزق ” اللہ“ کے ذمہ ہے۔ (ھود : ٦) ٤۔ بے شک اللہ ہی رزق دینے والا ہے۔ (الذاریات : ٥٨) ٦۔ اللہ ہی رزق فراخ کرتا اور کم کرتا ہے۔ (سبا : ٣٩) ٥۔ کیا اللہ کے علاوہ بھی کوئی خالق ہے جو تمہیں روزی دیتا ہے۔ (فاطر : ٣) ٦۔ اللہ تعالیٰ لوگوں سے رزق نہیں مانگتا بلکہ وہ لوگوں کو رزق دیتا ہے۔ (طٰہٰ : ١٣٢) ٧۔ اللہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق دیتا ہے۔ (البقرۃ: ٢١٢) ٩۔ اللہ تعالیٰ مہاجروں کو ضرور اچھا رزق دے گا۔ (الحج : ٥٨) ٨۔ اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو کیونکہ ” اللہ“ تمہیں اور انہیں بھی رزق دینے والا ہے۔ (الانعام : ١٥١) ٩۔ مشرک سے سوال کیا جائے کہ آسمان و زمین سے رزق کون دیتا ہے تو کہتا ہے کہ ” اللہ“ ہی رزق دیتا ہے۔ (یونس : ٣١)