سورة القصص - آیت 14

وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَاسْتَوَىٰ آتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچا اور سنبھلا اور ہم نے اسے حکم (ف 2) اور علم دیا ۔ اور یوں ہم نیکوں کو جزا دیتے ہیں

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون کے ہاں جوان ہونا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے انھیں علم و حکمت عطا کیا جانا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ کے تحت فرعون کے ہاں پہنچایا۔ جس میں بڑی بڑی تین حکمتیں پنہاں تھیں۔ ١۔ لوگوں کو معلوم ہو کہ علم نجوم کی کوئی حیثیت نہیں اور اللہ تعالیٰ کے بغیر کوئی غیب کا علم نہیں جانتا۔ اگر علم نجوم کی کوئی حقیقت ہوتی تو فرعون کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ یہ وہی بچہ ہے جس کے لیے میں ہزاروں بچوں کا قتل عام کروا چکا ہوں۔ ظاہر ہے کہ معلوم ہونے کی صورت میں وہ موسیٰ (علیہ السلام) کو فوری طور پر قتل کردیتا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے یہ ثابت کر دکھایا کہ اس نے فرعون جیسے قاتل اور ظالم کے ہاں اس کے دشمن کی پرورش کر وا سکتا ہے۔ ٣۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی اس لیے فرعون کے ہاں پرورش کروائی گئی تاکہ موسیٰ (علیہ السلام) کو امور سلطنت چلانے کی تربیت دی جائے۔ اِس لیے ارشاد فرمایا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) بھرپور جوانی کو پہنچے اور ان کی صلاحیتوں میں شباب آیا تو اللہ تعالیٰ نے انھیں حکم اور علم سے سرفراز فرمایا۔ اللہ تعالیٰ اس طرح ہی نیکی کرنے والوں کو جزا دیتا ہے۔ اگر حکم اور علم سے مراد نبوت ہے تو وہ انھیں مدین سے واپسی پر عطا کی گئی تھی۔ یہاں اس کا تذکرہ کرنے سے مراد بات کی تکمیل کرنا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی والدہ کے ہاں نہیں لوٹایا بلکہ انھیں علم نبوت اور بنی اسرائیل پر حکمران بھی بنایا تھا۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّا سٍ قَالَ بُعِثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لِاَرْبَعِیْنَ سَنَۃً فَمَکَثَ بِمَکَّۃَ ثَلٰثَ عَشَرَۃَ سَنَۃً یُّوْ حٰی اِلَیْہِ ثُمَّ اُ مِرَ بالْھِجْرَۃِ فَھَاجَرَ عَشْرَ سِنِیْنَ وَمَاتَ وَھُوَابْنُ ثَلٰثٍ وَّسِتِّیْنَ سَنَۃً) [ رواہ البخاری : باب مَبْعَثِ النَّبِیِّ] ” حضرت ابن عباس (رض) کا بیان ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چالیس سال کی عمر میں نبوت سے سرفراز کیا گیا۔ اس کے بعد آپ تیرہ سال مکہ معظمہ میں رہے اور آپ کی طرف وحی کی جاتی رہی۔ پھر آپ کو ہجرت کا حکم ہوا اور وہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دس سال بسر کیے۔ تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی۔“