سورة النمل - آیت 83

وَيَوْمَ نَحْشُرُ مِن كُلِّ أُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّن يُكَذِّبُ بِآيَاتِنَا فَهُمْ يُوزَعُونَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

(ف 1) اور جب دن ہم ہر فرقہ میں سے ان لوگوں کو جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے ایک فوج جمع کریں گے ۔ پھر ان کے پرے باندھے جائیں گے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : قیامت برپا ہونے کے ایک مدّت بعد اللہ تعالیٰ لوگوں کو محشر کے میدان میں جمع کرے گا۔ قیامت برپا ہونے کے ایک مدت بعد رب ذوالجلال کے حکم سے اسرافیل (علیہ السلام) دوسری مرتبہ صور میں پھونک مارے گا۔ اس کی پھونک سے لوگ اپنی اپنی جگہ سے اٹھ کر محشر کے میدان کی طرف بھاگنا شروع ہوجائیں گے۔ محشر میں ہر نبی کی امت سے مجرموں کو الگ کردیا جائے گا۔ اہل علم نے لکھا ہے کہ صرف مجرموں کو نیک لوگوں سے جدا ہی نہیں کیا جائے گا بلکہ مجرموں کے درمیان بھی ان کے گناہوں کے حساب سے ان کی درجہ بندی کی جائے گی۔ انہیں اللہ کی بارگاہ میں کھڑا کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ انھیں سوال کرے گا ” کیا تم لوگ ہو جنھوں نے میری آیات کو جھٹلایا ؟“ حالانکہ انہیں کو جھٹلانے کے لیے تمھارے پاس کوئی علمی دلیل نہ تھی؟ کیا تم وہی ہو جو جہالت پر عمل کرتے رہے ہو ؟ اس طرح ان پر حق بات ثابت کردی جائے گی اور وہ اس کے خلاف کوئی بات نہیں کرسکیں گے۔ کیونکہ وہ اپنے آپ پر ظلم کرنے والے ہوں گے۔ (وَعَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَخْرُجُ الدَّجَّالُ فَیَمْکُثُ اَرْبَعِیْنَ لَااَدْرِیْ اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا اَوْ شَہْراً اَوْ عَامًا فَیَبْعَثُ اللّٰہُ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ کَاَنَّہُ عُرْوَۃُ ابْنُ مَسْعُوْدٍ فَیَطْلُبُہُ فَیُہْلِکُہُ ثُمَّ یَمْکُثُ فِیْ النَّاسِ سَبْعَ سِنِیْنَ لَیْسَ بَیْنَ اثْنَیْنِ عَدَاوَۃٌ ثُمَّ یُرْسِلُ اللّٰہُ رِیْحًا بَارِدَۃً مِنْ قِبَلِ الشَّامِ فَلَا یَبْقٰی عَلٰی وَجْہِ الْاَرْضِ اَحَدٌ فَیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِنْ خَیْرٍ اَوْ اِیْمَانٍ اِلَّا قَبَضَتْہُ حَتّٰی لَوْ اَنَّ اَحَدَکُمْ دَخَلَ فِیْ کَبِدِ جَبَلٍ لَدَخَلَتْہُ عَلَیْہِ حَتّٰی تَقْبِضَہُ قَالَ فَیَبْقَیْ شِرَار النَّاسِ فِیْ خِفَّۃِ الطَّیْرِ وَاَحْلَام السِّبَاعِ لَا یَعْرِفُوْنَ مَعْرُوْفًا وَلَایُنْکِرُوْنَ مُنْکَرًا فَیَتَمَثَّلُ لَھُمُ الشَّیْطَانُ فَیَقَوْلُ اَ لَا تَسْتَحْیُوْنَ فَیَقُوْلُوْنَ فَمَا تَأْمُرُنَا فَیَاأمُرُھُمْ بِعِبَادَۃِ الْاَوْثَانِ وَھُوَ فِیْ ذَالِکَ دَارٌّ رِزْقُھُمْ حَسَنٌ عَیْشُھُمْ ثُمَّ یُنْفَخُ فِیْ الصُّوْرِ فَلَا یَسْمَعُہُ اَحَدٌ اِلَّا اَصْغٰیِ لِیْتًا وَرَفَعَ لِیْتًا قَالَ فَاَوَّلُ مَنْ یَّسْمَعُہُ رَجُلٌ یَلُوْطُ حَوْضَ اِبِلِہٖ فَیَصْعَقُ وَیَصْعَقُ النَّاسُ ثُمَّ یُرْسِلُ اللّٰہُ مَطَرًا کَاَنَّہُ الطَّلُّ فَیَنْبُُُتُ مِنْہُ اَجْسَاد النَّاسِ ثُمَّ یُنْفَخُ فِیْہِ اُخْرٰی فَاِذَا قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ ثُمَّ یُقَالُ یَااَیُّھَاالنَّاسُ ھَلُمَّ اِلٰی رَبِّکُمْ قِفُوْھُمْ اِنَّھُمْ مَسْءُوْلُوْنَ فَیُقَالُ اَخْرِجُوْا بَعْثَ النَّا رِ فَیُقَالُ مِنْ کَمْ کَمْ فَیُقَالُ مِنْ کُلِّ اَلْفٍ تِسْعُ ماءَۃٍ وَّتِسْعَۃٌ وَّتِسْعِیْنَ قَالَ فَذَالِکَ یَوْمٌ یَّجْٖٖعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبًا وَذَالِکَ یَوْمٌ یُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ۔) [ رواہ مسلم : باب فِی خُرُوج الدَّجَّالِ وَمُکْثِہِ۔۔] حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دجال نکلے گا اور چالیس تک رہے گا حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں مجھے نہیں معلوم چالیس دن‘ چالیس ماہ یا چالیس سال پھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم کو نازل کریں گے گویا کہ وہ عروہ بن مسعود (رض) ہیں۔ وہ دجال کو تلاش کریں گے اور اسے ہلاک کردیں گے اس کے بعد عیسیٰ (علیہ السلام) سات سال تک دنیا میں رہیں گے ہر دو انسانوں کے درمیان کوئی عداوت نہیں رہے گی پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ٹھنڈی ہوا بھیجے گا اور زمین پر کوئی بھی ایسا نہیں رہے گا جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہوگا‘ یہاں تک کہ اگر کوئی پہاڑ کے اندر بھی داخل ہوا تو وہ اس تک پہنچ جائے گی اور اس کی جان قبض کرلے گی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کے بعد بدترین لوگ رہ جائیں گے جو پرندوں کی مانند تیز طرار اور درندوں کی طرح سخت ہوں گے۔ نہ وہ بھلائی کو جانتے ہوں گے اور نہ برائی کو برا جانیں گے۔ شیطان ان کے پاس انسانی شکل میں جاکر کہے گا کیا تمہیں شرم نہیں آتی ؟ وہ کہیں گے تو ہمیں کیا حکم دیتا ہے؟ شیطان انہیں بتوں کی عبادت کرنے کے لیے کہے گا۔ اس حالت میں بھی انہیں بکثرت رزق مل رہا ہوگا۔ ان کی زندگی عیش وعشرت والی ہوگی پھر صور پھونکا جائے گا جو بھی اس کی آواز سنے گا اپنے سر کو ایک طرف جھکا دے گا دوسری طرف اونچا کرے گا آپ نے فرمایا‘ صور کی آواز سننے والا پہلا شخص وہ ہوگا جو اپنے اونٹوں کے لیے حوض لیپ رہا ہوگا وہ بے ہوش ہوجائے گا سب لوگ بے ہوش ہوجائیں گے پھر اللہ تعالیٰ شبنم کی طرح بارش بھیجے گا۔ اس سے لوگوں کے جسم نمودار ہوں گے۔ پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا‘ تو سب لوگ کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے۔ پھر منادی کی جائے گی کہ اے لوگو! اپنے رب کے پاس جلدی پہنچو فرشتوں سے کہا جائیگا ” انہیں روک لو‘ ان سے سوالات کیے جائیں گے“ حکم ہوگا جہنم کی طرف جانے والوں کو نکالو‘ پوچھا جائے گا ان میں کتنے جہنمی ہیں ؟ حکم ہوگا۔ ہزار میں سے نو سو ننانوے جہنمی ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” یہ ایسا دن ہوگا‘ جو بچوں کو بوڑھا کردیگا“ اور ایسادن ہوگا جس دن اللہ اپنی پنڈلی سے کپڑا ہٹائیں گے۔“ (عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ أَسِیدٍ عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ إِنَّ الصَّادِقَ الْمَصْدُوق (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حَدَّثَنِی أَنَّ النَّاسَ یُحْشَرُونَ ثَلاَثَۃَ أَفْوَاجٍ فَوْجٌ رَاکِبِینَ طَاعِمِینَ کَاسِینَ وَفَوْجٌ تَسْحَبُہُمُ الْمَلاَءِکَۃُ عَلَی وُجُوہِہِمْ وَتَحْشُرُہُمُ النَّارُ وَفَوْجٌ یَمْشُونَ وَیَسْعَوْنَ یُلْقِی اللَّہُ الآفَۃَ عَلَی الظَّہْرِ فَلاَ یَبْقَی حَتَّی إِنَّ الرَّجُلَ لَتَکُونُ لَہُ الْحَدِیقَۃُ یُعْطِیہَا بِذَاتِ الْقَتَبِ لاَ یَقْدِرُ عَلَیْہَا) [ رواہ النسائی : باب البعث] حضرت حذیفہ بن اسید حضرت ابوذر (رض) سے بیان کرتے ہیں بے شک کائنات میں سب سے سچے انسان نے مجھے خبر دی ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کو تین طریقہ سے جمع کیا جائیگا۔ ان میں سے ایک جماعت کے لوگ سوار، کھانا کھاتے ہوئے، کپڑے پہنے ہوئے ہوگی، اور ایک جماعت کو فرشتے چہروں کے بل گھسیٹیں گے اور آگ ان کو اکٹھا کرے گی۔ ایک جماعت بھاگ دوڑ میں مصروف ہوگی اللہ تعالیٰ ان پر آفت مسلط فرمائیں گے اس سے کوئی بھی بچ نہیں پائے گا حتیٰ کہ ایک آدمی کا باغ ہوگا وہ اس باغ کو ایسی سواری کے بدلے دیدے گا جس پر اسے کچھ اختیار نہ ہوگا۔ مسائل ١۔ محشر کے میدان میں مجرموں کی صف بندی کی جائے گی۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ محشر کے دن مجرموں سے سوال کرے گا۔ ٣۔ محشر کے دن مجرموں کے جرائم کے مطابق عذاب دیا کیا جائے گا۔ ٤۔ مجرم جرم ثابت ہونے کے بعد کوئی بات نہیں کرسکیں گے۔ تفسیر بالقرآن محشر کے میدان میں مجرموں سے سوال وجواب : ١۔ مجرم اپنے آپ کو جہنم سے بچانے کے لیے اپنے برے اعمال کا کلیتاً انکار کریں گے۔ (الانعام : ٢٣۔ ٢٤) ٢۔ مجر م اپنی جان بچانے کے لیے اپنے گناہوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالیں گے۔ (الاحزاب : ٦٦۔ ٦٨) ٣۔ مجرموں سے سوال کیا جائیگا کہ تم ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے؟ (الصّٰفٰت : ٢٢) ٤۔ ظالم اپنے ہاتھوں کو کاٹیں گے اور کہیں گے کاش! میں نے رسول کو سمجھا ہوتا۔ (الفرقان : ٢٧۔ ٣٠)