سورة آل عمران - آیت 19

إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ ۗ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِآيَاتِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

دین خدا کے نزدیک حکم برداری ہے اور اہل کتاب نے جو اختلاف ڈالا ‘ وہ بعد علم حاصل کرنے کے آپس میں ضد سے ڈالا ہے اور جو اللہ کی آیتوں کا منکر ہوگا تو اللہ جلد حساب لینے والا ہے ، (ف ٢)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : توحید اور اسلام دونوں مترادف ہیں۔ توحید اور اسلام کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کردے۔ کائنات کا پورا نظام مالک واحد کی ذات اور اس کے حکم کے تابع اور عدل وقسط کے اصول پر چل رہا ہے۔ یہی توحید کی روح اور اس کا تقاضا ہے کہ بنی نوع انسان کے انفرادی اور اجتماعی معاملات بھی تقاضائے توحید کے مطابق چلنے چاہییں۔ توحید ہی اسلام کی بنیاد ہے اور یہی ایسا دین ہے جو اللہ کے نزدیک پسندیدہ، معتبر اور مقبول ہے۔ جس کے بنیادی ارکان اور اصول ہمیشہ سے ایک رہے اور تمام انبیاء کرام اسی اسلام کی دعوت دیتے رہے ہیں۔ اسی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کو ایک جماعت قرار دیتے ہوئے فرمایا : (اِنَّ ھٰذِہٖ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّاَنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْنِ) [ الانبیاء : ٩٢] ” یقینًا تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں پس تم میری ہی عبادت کرو۔“ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر جناب خاتم الانبیاء تک انبیاء کی دعوت میں کبھی اختلاف نہیں رہا اور نہ ہی ہوسکتا ہے۔ ہر نبی اپنے اپنے وقت میں لوگوں کے پاس دین اسلام لایا۔ لوگوں نے حقیقت معلوم ہوجانے کے باوجود اس دین کو ماننے سے انکار کیا اور انبیاء کرام کے جانے کے بعد دین کے ماننے والوں نے دین کے حصّے بخرے کردیے۔ یہودی 71 فرقوں میں تبدیل ہوئے عیسائیوں نے 72 گروہ بنا لیے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے میری امت 73 فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی۔ سوائے ایک کے باقی سب کے سب جہنمی ہوں گے۔[ رواہ الترمذی : کتاب الإیمان، باب ماجاء فی افتراق ہذہ الأمۃ] حضرت محمد کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دین اسلام کے ساتھ یہود و نصارٰی اور کفار و مشرکین کے اختلاف کی وجہ یہ نہیں ہے کہ انہیں دین سمجھنے میں کوئی غلط فہمی یا دقّت پیش آئی۔ قرآن مجید دوٹوک انداز میں اختلافات کا سبب بیان کرتا ہے کہ دین اسلام کا انکار کرنے والوں نے جان بوجھ کر ایسا کیا تھا۔ حالانکہ وہ آپ کی ذات اور دین کو اچھی طرح پہچانتے تھے۔ مگر ذاتی برتری، معاشرتی رجحانات، جماعتی تعصبات اور مالی مفادات کی بنیاد پر انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کیا کیونکہ دین اللہ تعالیٰ نے ہی نازل فرمایا ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ ہی ان سے حساب چکائیں گے اور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ اے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اگر حقیقت عیاں ہوجانے کے باوجود یہ لوگ تم سے جھگڑا کریں تو تم ان سے کہہ دو، مانو یا نہ مانو میں نے تو اپنے چہرے کو اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان کرلیا ہے۔ اس سے مراد کلی تابعداری ہے کیونکہ چہرہ ہی انسان کے جذبات اور اس کے رجحانات کا ترجمان ہوتا ہے۔ ہر زبان میں چہرے کی سپردگی کو پورے وجود کی سپرد داری سمجھا جاتا ہے لہٰذا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم ہوتا ہے کہ آپ اختلافات، حالات اور ان کے تعصبات سے بے پروا ہو کر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی غلامی اور دین کی سر بلندی کے لیے وقف کردیں۔ تمہارے پیروکاروں کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی اہل کتاب‘ کفار‘ اَن پڑھ اور پڑھے لکھے لوگوں سے یہ پوچھیے کہ کیا تم بھی اپنے آپ کو زمین و آسمان کے خالق ومالک کے تابع فرمان کرنے کے لیے تیار ہو؟ اگر تم ایسا کرو گے تو ہدایت پاجاؤ گے کیونکہ ہدایت کا دارو مدار اور معیار صرف اسلام ہے۔ اگر یہ لوگ انکار کریں تو تمہارا کام سمجھانا ہے منوانا نہیں، پہنچانا ہے جھگڑنا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نیکو کاروں اور نافرمانوں کو خوب دیکھ رہا ہے۔ اس سے ان لوگوں کی خود بخود نفی ہوجاتی ہے جو اسلامی طریقہ سے ہٹ کر دوسرے کاموں میں نیکی اور خیر سمجھتے ہیں۔ حضرت جعفر (رض) کا نجاشی کے سامنے اسلامی تعلیمات کے بارے میں خطاب : مکہ کے مہاجر مسلمانوں کے ترجمان حضرت جعفر بن ابی طالب (رض) نے کہا ” اے بادشاہ! ہم ایسی قوم تھے جو جاہلیت میں مبتلا تھی۔ ہم بت پوجتے تھے مردار کھاتے تھے‘ بدکاریاں کرتے تھے‘ قرابتداروں سے تعلق توڑتے تھے‘ ہمسایوں سے بدسلوکی کرتے تھے اور ہم میں سے طاقتور کمزور کو کھا رہا تھا ہم اسی حالت میں تھے کہ اللہ نے ہم میں سے ایک رسول بھیجا۔ اس کی عالی نسبی‘ سچائی‘ امانت داری‘ پاکدامنی ہمیں پہلے سے معلوم تھی۔ اس نے ہمیں اللہ کی طرف بلایا اور سمجھایا کہ ہم صرف ایک اللہ کو مانیں اور اسی کی عبادت کریں اور اس کے سوا جن پتھروں اور بتوں کو ہم پوجتے تھے انہیں چھوڑ دیں۔ اس نے ہمیں سچ بولنے‘ امانت ادا کرنے‘ قرابت جوڑنے‘ پڑوسی سے اچھا سلوک کرنے اور حرام کاری و خونریزی سے باز رہنے کا حکم دیا۔ اور فواحش میں ملوث ہونے‘ جھوٹ بولنے‘ یتیم کا مال کھانے اور پاکدامن عورتوں پر جھوٹی تہمت لگانے سے منع کیا۔ اس نے ہمیں یہ بھی حکم دیا کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ اس نے ہمیں نماز‘ روزہ اور زکوٰۃ کا حکم دیا۔“ اسی طرح حضرت جعفر (رض) نے اسلام کے کام گنوانے کے بعد فرمایا : ” ہم نے اس پیغمبر کو سچا مانا‘ اس پر ایمان لائے اور اس کے لائے ہوئے دین میں اس کی پیروی کی چنانچہ ہم نے صرف اللہ کی عبادت کی‘ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا اور جن باتوں کو اس پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرام بتایا انہیں حرام مانا‘ اور جن کو حلال بتایا انہیں حلال جانا اس پر ہماری قوم ہم سے بگڑ گئی اس نے ہم پر ظلم و ستم کیا اور ہمیں ہمارے دین سے پھیرنے کے لیے فتنے اور سزاؤں سے دو چار کیا۔ تاکہ ہم اللہ کی عبادت چھوڑ کر بت پرستی کی طرف پلٹ جائیں اور جن گندی چیزوں کو حرام سمجھتے تھے انہیں پھر حلال سمجھنے لگیں۔ جب انہوں نے ہم پر بہت ظلم و جبر کیا‘ ہمارے لیے زمین تنگ کردی۔ ہمارے اور ہمارے دین کے درمیان رکاوٹ بن کر کھڑے ہوگئے تو ہم نے آپ کے ملک کی راہ لی اور دوسروں پر آپ کو ترجیح دیتے ہوئے آپ کی پناہ میں رہنا پسند کیا اور یہ امید کی کہ اے بادشاہ! آپ کی طرف سے ہم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔“ [ سیرت ابن ہشام] مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف اسلام ہی مقبول ہے۔ ٢۔ اہل کتاب محض تعصب کی بنیاد پر اسلام کی مخالفت کرتے ہیں۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے۔ ٤۔ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کرنے والا ہدایت پائے گا۔ ٥۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کام تبلیغ کرنا ہے۔ ٦۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے۔ تفسیربالقرآن تابعداری کا حکم : ١۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مطیع ہونے کا حکم۔ (الانعام : ١٤) ٢۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو مطیع ہونے کا حکم۔ (البقرۃ: ١٣١) ٣۔ اولاد ابراہیم (علیہ السلام) کو تابعدار ہونے کا حکم۔ (البقرۃ: ١٣٢، ١٣٣) ٤۔ سب کو اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنے کا حکم۔ (الحج : ٣٤) ٥۔ اسلام میں ہی پوری کی پوری ہدایت مضمر ہے۔ (آل عمران : ٢٠)