سورة الشعراء - آیت 132

وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُم بِمَا تَعْلَمُونَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور اس سے ڈرو جس نے تم کو ان چیزوں سے مدد دی جو تم جانتے ہو

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ھود (علیہ السلام) کا بار بار قوم کو خطاب کرنا اور اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد کروانا۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے بار بار اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا احساس دلایا اور انھیں اللہ سے ڈرنے کی تلقین فرمائی۔ اے میری قوم ! اپنے ماضی پر غور کرو۔ تم افرادی قوت کے اعتبار سے تھوڑے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں کثیر افزائش سے نوازا۔ جس کے نتیجے میں تم افرادی قوت کے اعتبار سے اپنے مخالفوں پر برتر ہوئے۔ اس نے تمھیں مال، مویشی کے اعتبار سے بھی برکت عنایت فرمائی تم بڑے بڑے باغات اور چشموں کے مالک بنے۔ لیکن تمھاری حالت یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے اس کے نافرمان اور لوگوں پر ظالم بن چکے ہو۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر تم اپنے رب کی ناشکری کرتے اور لوگوں پر مظالم ڈھاتے رہے تو کسی دن تمھیں عظیم عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ قوم حضرت ھود (علیہ السلام) کے ارشادات اور ان کی ہمدردانہ دعوت پر غور کرتی اور اللہ تعالیٰ سے ڈرجاتی۔ لیکن انھوں نے اپنی افرادی قوت اور دنیا کی ترقی پر اتراتے ہوئے حضرت ھود (علیہ السلام) کو کھلے انداز میں کہا کہ آپ ہمیں نصیحت کریں یا نہ کریں آپ کی باتوں کا ہم پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ پہلے لوگ بھی اس طرح کی وعظ و نصیحت کیا کرتے تھے۔ ہم کسی قسم کے عذاب میں مبتلا نہیں ہوں گے۔ اس طرح انھوں نے حضرت ھود (علیہ السلام) کو یکسر طور پر جھٹلادیا جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے انھیں ہلاک کیا۔ بے شک اس میں بڑی عبرت ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لایا کرتے۔ یقین جانو کہ آپ کا رب بڑے سے بڑے ظالموں پر غالب ہے لیکن وہ انھیں بھی بار بار تائب ہونے کا موقع دیتا ہے کیونکہ وہ بڑا ہی مشفق اور مہربان ہے۔ حضرت ہود کے خطبات کا خلاصہ : حضرت ھود (علیہ السلام) نے دنیا کے عذاب کے ساتھ آخرت کے عذاب سے یہ کہہ کر اپنی قوم کو ڈرایا کہ قیامت کا دن رعب، دبدبہ اپنی طوالت اور عدالت کے اعتبار سے بڑا دن ہوگا جس میں ظالموں کو ٹھیک ٹھیک سزائیں سنائی جائیں گی۔ ١۔ اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمھارا کوئی معبود اور مشکل کشا نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے اور اس کی نافرمانیوں سے بچتے رہو۔ میں تمھارا خیر خواہ ہوں اور اللہ تعالیٰ کے احکام پوری امانت داری سے پہنچارہا ہوں۔ سورۃ ھود میں ان کے خطاب کے اقتباسات یوں ذکر کیے گئے ہیں۔ ٢۔ اے میری قوم اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے۔ میں نے تمھیں اپنے رب کا پیغام پوری خیر خواہی اور دیانت داری کے ساتھ پہنچا دیا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرو وہ تمھیں مزید طاقت ور اور مال دار بنائے گا۔ ہاں یاد رکھو تمھاری اصلاح اور فلاح پر میں تم سے کسی صلہ اور اجر کا خواہش مند نہیں ہوں۔ میرا اجر میرے رب کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا فرمایا ہے۔ (ھود ٥٠ تا ٥٢) قوم کا ردِّ عمل : ١۔ قوم نے حضرت ھود (علیہ السلام) کو بے وقوف قرار دیا۔ (الاعراف : ٦٦) ٢۔ ھود (علیہ السلام) ہماری طرح ہی طرح کھانے، پینے والا انسان ہے۔ (المؤمنون : ٣٣) ٣۔ انھوں نے کہا اے ھود تو اللہ پر جھوٹ بولتا ہے۔ (المؤمنون : ٣٨) ٤۔ تیرے کہنے پر ہم اپنے معبودوں کو نہیں چھوڑ سکتے۔ یہ محض پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ (الشعراء : ١٣٧) ٥۔ تم ہمیں سمجھاؤ یا نہ سمجھاؤ ہم نہیں مانیں گے۔ (شعراء : ١٣٦) ٦۔ ہمارے معبودوں کی تجھے بد دعا لگ گئی ہے۔ (ھود : ٥٤) ٧۔ ہم پر کوئی عذاب آنے والا نہیں تو جھوٹ بولتا ہے۔ (الشعراء : ١٣٨ تا ١٣٩) ٨۔ اگر تو اپنے دعوے میں سچا ہے تو ہم پر عذاب لے آ۔ (الاحقاف : ٢٢) مسائل ١۔ قوم عاد جسمانی طاقت اور افرادی قوت کے اعتبار سے دنیا میں منفرد قوم تھی۔ ٢۔ قوم عاد مال، مویشی اور افرادی قوت رکھنے والی قوم تھی۔ ٣۔ قوم عاد نے زراعت اور باغبانی میں بڑی ترقی کی تھی۔ تفسیر بالقرآن قوم عاد کی دنیاوی ترقی کی ایک جھلک : ١۔ قوم عاد نے زمین میں تکبر کیا اور کہا کہ ہم سے طاقت میں کون زیادہ ہوگا۔ (حٰم السجدۃ: ١٥) ٢۔ قوم عاد اس قدر کڑیل اور قوی ہیکل جوان تھے کہ ان جیسا دنیا میں کوئی اور پیدا نہیں کیا گیا۔ (الفجر ٦ تا ٨ ) ٣۔ قوم عاد بڑے بڑے محلات میں رہتی تھی۔ کھیتی باڑی اور باغبانی میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ (الشعراء ١٢٩ تا ١٣٣) ٤۔ قوم عاد بڑے سفاک اور ظالم لوگ تھے۔ ( النجم : ٥٢) ٥۔ قوم عاد کو تند وتیز ہوا کے ساتھ ہلاک کردیا گیا۔ (الحاقۃ : ٦)