سورة آل عمران - آیت 10

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَن تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوَالُهُمْ وَلَا أَوْلَادُهُم مِّنَ اللَّهِ شَيْئًا ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمْ وَقُودُ النَّارِ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

بےشک جو کافر ہیں ، خدا کے سامنے ان کے مال اور بال بچے کچھ کام نہ آئیں گے اور وہی دوزخ کا ایندھن ہیں ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : جس مال اور افرادی قوت کی بنیاد پر اہل مکہ حقائق کا انکار کرتے ہیں آل فرعون بھی اسی بنا پر گمراہ ہوئے اور تباہی کے گھاٹ اترے تھے۔ اہل مکہ بھی عنقریب دنیا میں بدر کے معرکہ میں اور آخرت میں جہنم میں داخل ہونے کی بنا پر کافر ذلیل ہوں گے۔ سورۂ آل عمران کا آغازبڑے جاہ و جلال سے ہوا۔ جس میں واشگاف لہجے میں واضح کیا گیا ہے کہ ہمیشہ قائم و دائم رہنے والی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اس سے کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ اس نے لوگوں کی رہنمائی کے لیے اپنی آخری کتاب نازل فرمائی‘ منکروں کے لیے اس کا عذاب بڑا سخت ہے اور اللہ تعالیٰ ان سے زبردست انتقام لینے والا ہے۔ وہ سب کو اپنے حضور اکٹھا کرے گا اور یہ وعدہ اٹل ہے۔ اے کفر کرنے والو! جب تمہیں جہنم کی آگ میں جھونکا جائے گا تو یہ مال و منال‘ اولاد و احفاد اور دنیا کی جاہ وحشمت تمہارے کچھ کام نہیں آئے گی۔ تمہارا انجام بھی دنیا اور آخرت میں آل فرعون کی طرح ہونے والا ہے۔ جس نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی تکذیب کی اس کو اس کے جرائم کی وجہ سے شدید عذاب میں مبتلا کیا گیا۔ فرعون کا غرور، اقتدار، اختیار اور مال واسباب فرعون کو اللہ تعالیٰ کی گرفت سے نہ بچا سکا۔ اے رسول معظم! دوٹوک اور بلا جھجک اعلان فرمائیں کہ عنقریب اللہ تعالیٰ کے منکروں کو دنیا میں سرنگوں اور آخرت میں جہنم میں اکٹھا کیا جائے گا جو رہنے کے اعتبار سے بدترین جگہ ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ غزوۂ بدرکے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل یہود کو مخاطب کرتے ہوئے سمجھایا کہ تمہیں اسلام کی مخالفت اور کفر کی حمایت چھوڑ کر ہمارے ساتھ شامل ہوجانا چاہیے۔ انہوں نے بڑی رعونت کے ساتھ کہا کہ بدر میں تمہارا مقابلہ اپنے ہم وطنوں اور ناتجربہ کار لوگوں سے ہوا ہے۔ جب ہمارے ساتھ تمہاری پنجہ آزمائی ہوگی تو تمہارا جہاد کا شوق پورا کردیا جائے گا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ یہو دونصارٰی اور اہل کفر غزوۂ بدر سے عبرت حاصل کرتے کیونکہ دنیا کی تاریخ میں یہ ایسا معرکہ تھا کہ ایک طرف اللہ تعالیٰ کے راستے میں کٹ مرنے کا جذبہ اور دوسری طرف خدا کے نافرمان تھے۔ جن کے درمیان طاقت کے عدم توازن کا یہ عالم تھا کہ مسلمانوں کی اکثریت بے خانماں، افرادی قوت کے اعتبار سے تھوڑے اور اسباب کے حوالے سے نہایت ہی کمزور اپنے سے کئی گناطاقت ور دشمن کے خلاف برسر پیکار ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کرم سے کفار کی نظروں میں مسلمانوں کو دوگنا کردکھایا اور ملائکہ کے ساتھ اپنے بندوں کی نصرت وحمایت فرمائی۔ اللہ تعالیٰ جب چاہے جتنی چاہے جس کی چاہے مدد کرتا ہے۔ اس معرکۂ حق وباطل کو یوم الفرقان کے لقب سے ملقب فرمایا اور دنیا والوں کے لیے اس طرح عبرت قرار دیا جس طرح فرعون اور اس سے پہلے لوگ عبرت کا سامان بنائے گئے۔ اسے فرقان اس لیے بھی کہا گیا کہ جنگ بدر کے بعد جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ پہنچ گئے تو آپ نے صحابہ کرام (رض) سے قیدیوں کے بارے میں مشورہ کیا۔ حضرت ابوبکر (رض) نے کہا یارسول اللہ! یہ لوگ چچیرے بھائی اور برادری‘ قبیلے کے لوگ ہیں۔ میری رائے یہ ہے کہ آپ ان سے فدیہ لیں اس طرح جو کچھ ہم لیں گے وہ کفار کے خلاف ہماری قوت کا ذریعہ ہوگا اور یہ بھی متوقع ہے کہ اللہ انہیں ہدایت دے دے اور وہ ہمارے دست و بازو بن جائیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ابن خطاب! تمہاری کیا رائے ہے؟ انہوں نے کہا واللہ میری وہ رائے نہیں ہے جو ابوبکر کی ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ آپ فلاں کو (جو حضرت عمر (رض) کا قریبی تھا) میرے حوالے کریں میں اس کی گردن ماردوں۔ عقیل بن ابی طالب کو علی (رض) کے حوالے کریں وہ اس کی گردن ماریں اور فلاں کو جو حمزہ (رض) کا بھائی ہے حمزہ (رض) کے حوالے کریں وہ اس کی گردن ماردیں۔ تاکہ اللہ کو معلوم ہوجائے کہ ہمارے دلوں میں مشرکین کے لیے ذرّہ برابر بھی نرم گوشہ نہیں ہے اور یہ لوگ مشرکین کے ائمہ اور اکابر ہیں۔ حضرت عمر (رض) کا بیان ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر (رض) کی بات پسند فرمائی اور میری بات پسند نہ کی گئی، چنانچہ قیدیوں سے فدیہ لینا طے کرلیا اس کے بعد جب اگلا دن آیا تو میں صبح ہی صبح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا وہ دونوں رورہے تھے۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول! بتائیں آپ اور آپ کا ساتھی کیوں رو رہے ہیں؟ اگر مجھے رونے کی وجہ ہوئی تو روؤں گا اور اگر نہ معلوم ہوسکی تو آپ حضرات کے رونے کی وجہ سے روؤں گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا فدیہ قبول کرنے کی وجہ سے تمہارے اصحاب پر جو چیز پیش کی گئی ہے اسی وجہ سے رو رہا ہوں۔ آپ نے ایک قریبی درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا مجھ پر اللہ کا عذاب اس درخت سے بھی زیادہ قریب کردیا گیا۔ [ الرحیق المختوم، بدرکے قیدیوں کا قضیہ] مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں کفار کو ان کے مال اور اولاد کچھ فائدہ نہیں پہنچائیں گے۔ ٢۔ کفار جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے آل فرعون اور ان سے پہلے مجرموں کی سخت گرفت کی۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے۔ ٥۔ عنقریب کفار مغلوب اور جہنم میں اکٹھے کیے جائیں گے۔ ٦۔ جہنم بہت برا ٹھکانہ ہے۔ ٧۔ معرکۂ بدر بصیرت والوں کے لیے قدرت کا بہت بڑا نشان ہے۔ ٨۔ اللہ تعالیٰ جس طرح چاہے جس کی چاہے اور جب چاہے مدد فرماتا ہے۔ تفسیربالقرآن قوموں کی تباہی کے اسباب : ١۔ قوم نوح کی ہلاکت کا سبب بتوں کی پرستش تھی۔ (نوح : ٢٣) ٢۔ قوم لوط کی تباہی کا سبب اغلام بازی کرنا تھی۔ (الاعراف : ٨١) ٣۔ شعیب (علیہ السلام) کی قوم کی تباہی کا سبب ماپ تول میں کمی تھی۔ (ھود : ٨٤، ٨٥) ٤۔ قوم عاد کی تباہی کا سبب رسولوں کی نافرمانی تھی۔ (ھود : ٥٩) ٥۔ صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا اے قوم! یہ اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی ہے، اسکو چھوڑ دو تاکہ اللہ کی زمین میں چرے اور اس کو کسی طرح تکلیف نہ دینا ورنہ تمہیں جلد عذاب آپکڑے گا۔ مگر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں تو صالح نے کہا تین دن فائدہ اٹھا لو، یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہ ہوگا۔ (ھود : ٦٤، ٦٥) ٦۔ فرعونیوں نے اپنے پروردگار کے پیغمبر کی نافرمانی کی تو اللہ نے بھی ان کو سخت پکڑا۔ (الحاقۃ: ١٠)