سورة الشعراء - آیت 29

قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَٰهًا غَيْرِي لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

فرعون نے کہا ۔ اگر تونے میرے سوا کوئی اور معبود ٹھہرایا تو میں تجھے قید خانہ میں بھیج دوں گا

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل ایم اے

فہم القرآن: (آیت 29 سے 34) ربط کلام : فرعون نے اپنے اقتدار کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کو چیلنج سمجھا اس لیے اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو قید و بند کی دھمکی دی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بڑے حوصلہ اور دانش مندی کے ساتھ فرعون کو لاجواب کردیا۔ فرعون نے ذلّت محسوس کرتے ہوئے دلائل کا جواب دلائل سے دینے کی بجائے نہ صرف موسیٰ (علیہ السلام) کو بھرے دربار میں پاگل بلکہ جیل کی سلاخوں میں بند کرنے کی دھمکی دی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کمال ذہانت اور بردباری سے فرعون کو پھر دلائل کے میدان میں کھینچ لائے۔ ارشاد فرمایا کیا میں اپنے دعویٰ کے جواب میں کھلے دلائل پیش کروں تو پھر بھی آپ اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں گے ؟ فرعون نے مجبور ہو کر کہا کیوں نہیں اگر تو اپنے دعوے میں سچا ہے تو دلیل پیش کر۔ یہی موسیٰ (علیہ السلام) چاہتے تھے جو نہی فرعون نے نشانی کا مطالبہ کیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا زمین پر دے مارا۔ عصا زمین پر گرتے ہی بڑے اژدھا کی طرح پھنکارنے لگا ظاہر بات ہے کہ فرعون اور اس کے حواریوں کے حواس باختہ ہوگئے اور انھوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ برائے کرم اس اژدھا کو قابوکیجیے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) آگے بڑھے اژدھا کو ہاتھ ڈالا تو وہ پہلے کی طرح عصا بن گیا۔ اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا ہاتھ اپنی بغل میں کر نکالا تو وہ اس طرح روشن ہوا کہ فرعون اور اس کے درباریوں کی آنکھوں چندھیا گئیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ فرعون اور اس کے درباری حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آتے۔ لیکن فرعون نے اپنے آپ پر قابو پاتے ہوئے پوری مکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا یہ تو بہت بڑا جادو گر ہے۔ مسائل: 1۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بڑی دانش مندی کے ساتھ فرعون کو دلائل کے میدان میں لے آئے۔ 2۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا ید بیضا اور عصا کے عظیم معجزے دکھائے۔ 3۔ فرعون نے ایمان لانے کی بجائے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر جادو گر ہونے کا الزام لگایا۔ تفسیر بالقرآن: انبیاء کرام (علیہ السلام) پر جادو گر ہونے کا الزام : 1۔ آل فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر جادو گرہونے کا الزام لگایا۔ (القصص :36) 2۔ کفار نے تمام انبیاء (علیہ السلام) کو جادوگر اور دیوانہ قرار دیا۔ (الذاریات :52) 3۔ کفار کے پاس حق بات آئی تو انھوں نے اسے جادو قرار دیا۔ (سباء :43 4۔ حضرت صالح اور حضرت شعیب کو جادو زدہ کہا گیا۔ (الشعرآء : 153۔185) 5۔ جب لوگوں کے پاس حق آیا تو انھوں نے کہا یہ تو جادو ہے۔ ہم اسے نہیں مانتے۔ (الزخرف :30) 6۔ نبی اکرم (ﷺ) کو اہل مکہ نے جادوگر کہا۔ ( الصّٰفٰت :6) 7۔ نبی (ﷺ) کو جادو زدہ کہا گیا۔ (الفرقان : 8۔ بنی اسرائیل :47) 8۔ کیا قرآن جادو ہے یا تم غور نہیں کرتے۔ (الطور :15)