سورة الفرقان - آیت 29

لَّقَدْ أَضَلَّنِي عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ إِذْ جَاءَنِي ۗ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِلْإِنسَانِ خَذُولًا

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اس نے مجھے نصیحت سے بعد اس کے کہ وہ مجھ تک آچکی تھی تھی گمراہ کیا اور شیطان انسان کو وقت پر دغا دیتے والا ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

شیطان کی بے وفائی کا اظہار : ” اپنے آپ کو ملامت کرو، نہ میں تمہاری فریاد رسی کرنے والاہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کرنے والے ہو، یقیناً میں اس کا انکار کرتا ہوں جو تم نے مجھے شریک بنایا۔ بے شک جو لوگ ظالم ہیں ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔“ [ ابراہیم : ٢٢] (عَنْ عُمَرَبْنِ الخَطَّابِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِھٰذَالْکِتَابِ اَقْوَامًاوَیَضَعُ بِہٖ اٰخَرِیْنَ) [ رواہ مسلم : کتاب الصلوٰۃ، باب فضل من یقوم بالقراٰن ] ” حضرت عمربن خطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کتاب کے ذریعہ اللہ بہت سی قوموں کو بام عروج پر پہنچائے گا اور بہت سی قوموں کو قعر مذلّت میں گرادے گا۔“ مسائل ١۔ قیامت کے دن ظالم اپنے ہاتھوں کو کاٹتے ہوئے کہے گا کہ کاش میں رسول کا راستہ اختیار کرتا۔ ٢۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رب کی بارگاہ میں شکایت کریں گے کہ میری قوم نے قرآن مجید کو چھوڑ دیا تھا۔ ٣۔ شیطان انسان کو دھوکہ دینے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید کو چھوڑ دینے کے نقصانات : ١۔ قرآن سے اعراض کرنے والے ظالم اور گمراہ ہیں۔ (الکہف : ٥٧) ٢۔ ظالموں کو اعراض اور گناہوں کا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔ (طٰہٰ: ١٠٠، ١٠١) ٣۔ قرآن کا انکار برے لوگ ہی کرتے ہیں۔ (البقرۃ: ٩٩) ٤۔ قرآن سے اعراض کرنے والے قیامت کے دن اندھے ہوں گے۔ (طٰہٰ: ١٢٤، ١٢٥) ٥۔ اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اپنے رب کی نصیحت آموز باتوں سے منہ پھیرتا ہے۔ ایسے مجرموں سے ہم انتقام لیں گے۔ (السجدۃ: ٢٢) ٦۔ انہیں دنیا اور آخرت میں دوہرا عذاب ہوگا۔ (بنی اسرائیل : ٧٥)