سورة النور - آیت 64

أَلَا إِنَّ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ قَدْ يَعْلَمُ مَا أَنتُمْ عَلَيْهِ وَيَوْمَ يُرْجَعُونَ إِلَيْهِ فَيُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوا ۗ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

خبردار ہو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ، اللہ ہی کا ہے ، وہ جانتا ہے جس حال میں تم ہو ، اور جس دن اس کی طرف پھیر لئے جائیں گے تو وہ ان کے اعمال سے انہیں مطلع کرے گا ، اور اللہ ہر شئے کو جانتا ہے ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اُخْرِجْ اَلِیْنَا یَامحَمَّدُ“ اے محمد باہر آئیں۔ اللہ تعالیٰ کو ان لوگوں کا اس طرح آواز دینا بہت ہی ناگوار گزرا۔ جس پر فرمایا کہ جو لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حجرے سے باہر آواز دے رہے تھے ان کی اکثریت بے عقل ہے دوسری آیت میں فرمایا کہ پیغمبر کو اس طرح آواز نہ دیا کرو جس طرح تم ایک دوسرے کو آواز دیتے ہو اگر تم باز نہ آئے تو تمہارے تمام کے تمام اعمال تباہ کردیے جائیں گے (الحجرات : ٢) جو لوگ فرقہ واریت میں آکر یہ کہتے ہیں کہ ہم نے یا محمد کہنا ہے اور فلاں نے جلتے رہنا ہے یا اس طرح کے الفاظ کہتے ہیں کہ ” یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اُنْظُرْ حَالَنَا یَا حَبِیْبَ اللّٰہ اِسْمَعْ قَالَنَا“ ے رسول ہماری طرف دیکھیں اور ہماری بات سنیں انہیں اس بات کی فکر کرنا چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس گستاخی کی وجہ سے ان کے اعمال غارت ہوجائیں۔ 2 لَاتَجْعَلُوْ دُعَاء الرَّسُوْلِکادوسرا مفہوم یہ ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کسی کو بلانا ہمارے ایک دوسرے کو بلانے کے برابر نہیں ہوسکتا بلکہ جب بھی آپ کسی کو آواز دیں گویا کہ جسے بلائیں تو اس فوری طور پر حاضر ہونا لازم ہے۔3 لَاتَجْعَلُوْ دُعَاء الرَّسُوْلِکا تیسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا کو اپنے لیے معمولی دعا نہ سمجھو بلکہ آپ کا کسی کے لیے دعا کرنا اس کے لیے نعمت گراں مایہ ہے۔ جو لوگ اللہ کے رسول کی نافرمانی کرتے ہیں انہیں ڈرنا چاہیے کہ کہیں انہیں سخت ترین آزمائش نہ آجائے یا اذیت ناک عذاب میں مبتلا نہ کر دئیے جائیں۔ (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خَرَجَ عَلٰٓی أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَا أُبَیُّ وَہُوَ یُصَلِّی فَالْتَفَتَ أُبَیٌّ وَلَمْ یُجِبْہُ وَصَلَّی أُبَیٌّ فَخَفَّفَ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَال السَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَعَلَیْکَ السَّلاَمُ مَا مَنَعَکَ یَا أُبَیُّ أَنْ تُجِیْبَنِیْٓ إِذْ دَعَوْتُکَ فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ إِنِّیْ کُنْتُ فِی الصَّلاَۃِ قَالَ أَفَلَمْ تَجِدْ فِیْمَآ أَوْحَی اللّٰہُإِلَیَّ أَنِ (اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ إِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ) قَالَ بَلٰی وَلاآأَعُودُ إِنْ شَآء اللّٰہُ قَالَ تُحِبُّ أَنْ أُعَلِّمَکَ سُورَۃً لَمْ یَنْزِلْ فِی التَّوْرَاۃِ وَلاَ فِی الإِنْجِیْلِ وَلاَ فِی الزَّبُوْرِ وَلاَ فِیْ الْفُرْقَانِ مِثْلُہَا قَالَ نَعَمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ کَیْفَ تَقْرَأُ فِی الصَّلاَۃِ قَالَ فَقَرَأَ أُمَّ الْقُرْآنِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ مَا أُنْزِلَتْ فِی التَّوْرَاۃِ وَلاَ فِی الإِنْجِیْلِ وَلاَ فِی الزَّبُوْرِ وَلاَ فِی الْفُرْقَانِ مِثْلُہَا وَإِنَّہَا سَبْعٌ مِّنَ الْمَثَانِیْ وَالْقُرْآنَ الْعَظِیْمُ الَّذِیْٓ أُعْطِیَتُہٗ) [ رواہ الترمذی : کتاب فضائل القرآن، باب مَآ جَاءَ فِی فَضْلِ فَاتِحَۃِ الْکِتَابِ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں بے شک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابی بن کعب کے ہاں تشریف لے گئے۔ آپ نے اسے آواز دی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ ابی (رض) نے التفات فرمایا اور جواب نہ دیا لیکن اپنی نماز کو ہلکا کردیا، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ تو آپ کو سلام کہا! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا : ابی ! کس چیز نے تجھے جواب دینے سے روکے رکھا تھا۔ ابی (رض) نے کہا اللہ کے رسول میں نماز ادا کر رہا تھا۔ آپ نے فرمایا کیا تو قرآن مجید میں یہ بات نہیں پاتا کہ اللہ اور اس کے رسول کی پکار کا جواب دو۔ جب وہ تمہیں بلائیں ایسی چیز کی طرف جو تمھیں زندگی بخشنے والی ہے۔ اس نے کہا کیوں نہیں انشاء اللہ دوبارہ ایسے نہیں کروں گا۔ آپ نے فرمایا کیا تو پسند کرتا ہے کہ میں تجھے ایسی سورۃ سکھلاؤں جو توراۃ، انجیل، زبور اور قرآن مجید میں نہیں ہے اس نے کہا ضرور ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا تو نماز میں کیا پڑھتا ہے ابی (رض) نے عرض کیا کہ سورۃ فاتحہ پڑھتاہوں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ اس جیسی سورۃ توراۃ، انجیل، زبور اور قرآن مجید میں نازل نہیں ہوئی اور یقیناً یہ سات آیات اور عظیم قرآن ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔“ مسائل ١۔ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دور سے آواز دینا پرلے درجے کی گستاخی ہے۔ ٢۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی کرنے والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرنا چاہیے۔ ٣۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے سب پر اللہ کی بادشاہی ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ انسان کے فکر وعمل کو پوری طرح جانتا ہے۔ تفسیر بالقرآن نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ادب واحترام کا حکم : ١۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دور سے آواز نہ دی جائے۔ (الحجرات : ٤) ٢۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز سے اونچی آواز نہ کی جائے۔ (الحجرات : ٢ ) ٣۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آگے قدم نہ اٹھایا جائے۔ (الحجرات : ١) ٤۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مکمل اتباع کی جائے۔ (محمد : ٣٣) ٥۔ جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دیں اسے لیا جائے جس سے آپ نے منع کیا ہے اسے چھوڑ دیاجائے۔ ( الحشر : ٧)