سورة النور - آیت 63

لَّا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُم بَعْضًا ۚ قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنكُمْ لِوَاذًا ۚ فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور اپنے درمیان رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بلانا ، ایسا نہ ٹھہراؤ جیسے تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو ، اللہ انہیں جانتا ہے جو تم میں سے نظر بچا کر کھسک جاتے ہیں ، سو جو لوگ اس کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ، چاہئے کہ ڈریں کہ ان پر کوئی آفت نہ آجائے ، یا انہیں دکھ دینے والا عذاب پہنچے (ف ١) ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : معاشرتی آداب کے سلسلہ میں بالخصوص سرورگرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آداب کا خیال رکھنا فرض ہے۔ صحابہ کرام (رض) کو یہ بھی ادب سکھلایا گیا کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کرتے ہوئے آپ کو اس طرح نہ بلایا کریں جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو دکھلاوے کے لیے آپ کی مجلس میں حاضر ہوتے ہیں پھر کسی نہ کسی بہانہ سے چپکے سے کھسک جاتے ہیں۔ ان لوگوں کو اللہ کے رسول کی نافرمانی سے بچنا چاہیے۔ جو لوگ اللہ کے رسول کی نافرمانی کرتے ہیں ان لوگوں کو اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی کے نتیجہ میں انہیں کوئی بڑی مصیبت آپہنچے یا وہ عذاب الیم میں مبتلا کیے جائیں۔ اللہ کے رسول کی نافرمانی کرنے والوں کو یہ بات پوری طرح معلوم ہونا چاہیے کہ آسمانوں کا چپہ چپہ اور زمین کا ذرہ ذرہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ وہ تمہاری جلوت، خلوت، نیت اور ہر حرکت کو جانتا ہے (لَاتَجْعَلُوْا دُعَاء الرَّسُوْلٍ) کے مفسرین نے تین معنٰی لیے ہیں۔ 1 صحابہ کرام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سمجھایا گیا کہ جس طرح تم ایک دوسرے کو آواز دیتے ہو رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس طرح آواز نہ دیا کرو (الحجرات : ٣) اس آیت میں ان لوگوں کو ان الفاظ میں سرزنش کی گئی جنہوں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حجرے سے باہر اونچی آواز سے یہ الفاظ کہے۔